عراق سے امریکی فوجی انخلا یا عنوان میں تبدیلی(ایک تجزیہ)

اگرچہ امریکیوں نے 2021 کے آخر تک عراق چھوڑنے کا دعوی کیا ہے ،تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان قوتوں کا ایک بڑا حصہ عراق میں مشاورتی مشن کی شکل میں موجود رہے گالہذا فوجی انخلاعنوان تبدیل ہونے سے زیادہ نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:انخلا یا منصوبہ بند آشوب یہ وہ سوال ہے جو بہت سے ماہرین ان دنوں افغانستان سےلے کر عراق اور شام تک خطے میں امریکی نقل و حرکت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں،جب سے چین کی طاقت بڑھی ہے ، ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن اپنی فوجی طاقت کو ہند بحر الکاہل کے محور پر مرکوز رکھناچاہتا ہے نیز جاپان ، جنوبی کوریا ، آسٹریلیا اور ہندوستان سمیت اپنے ایشیائی اتحادیوں کے ساتھ چین کے خلاف دفاعی ڈھال بنانے میں مصروف ہے ،یہ وہ نظریہ ہے جس کا بائیڈن انتظامیہ سے کوئی لینا دینا نہیں لگتا ہے ،یہ پالیسی 2017 سے اپنائی جارہی ہے، جب چین کو امریکہ کے لئے ایک سنگین خطرہ کے طور پر سمجھا گیا تھا۔
اس منصوبے کا پہلا حصہ افغانستان سے انخلا  تقریبا مکمل ہوچکا ہے، ایک واقعہ جس نے موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس ملک کا مستقبل مختلف حالات کے چکر میں ڈوبو دیا ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ اس ملک کی قسمت کا فیصلہ کون سا گروہ کرے گا۔
ادھرمشرقی بحیرہ روم میں  امریکی عراق چھوڑنے کا دعوی کر رہے ہیں جوایک ایسا ملک جہاں داعش سے لڑنے کے بہانے اس وقت 2500 امریکی لڑاکا دستے موجود ہیں جبکہ عراقی فورسز کی دہشت گرد گروہوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے بارے میں امریکیوں کا بنیادی دعوی مکمل طور پر درست ہے اور داعش کے خلاف جنگ کے دوران عراقی سرکاری فوجوں نے عوام کی افواج کے ساتھ مل کر تکفیریوں کا مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا،تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امریکی عراق سے دستبرداری کے اپنے دعوے میں مخلص ہیں یا ان سے توقع کی جانی چاہئے کہ وہ الگ سلوک کریں گے؟یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی فوجی عراق سے دستبردار ہورہے ہیں۔
 2006 میں جب امریکی ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور کانگریس میں اکثریت  نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، عراق میں امریکی موجودگی کے بارے میں وسیع پیمانے پر امریکی عدم اطمینان کو دیکھتے ہوئے ، انہوں نے امریکی فوجوں کے انخلا کے لئے ایک ٹائم ٹیبل کا پیش کیا ،ان تفصیلات کے ساتھ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عراق میں امریکی موجودگی کا بحران بائیڈن کے ساتھ الکاظمی کے معاہدے سے حل نہیں ہوگا۔
 امریکی انٹیلی جنس اور مشیروں کی موجودگی عراق میں برقرار رہے گی  اور اس سے اس ملک میں عدم تحفظ اور سازشی صلاحیتوں کو متحرک کیا جائےگا،اس کے علاوہ عراق پر امریکی فضائی تسلط برقرار رہے گا،ا س وقت بھی عراق کی فوجی ٹریفک امریکی طیاروں کے کنٹرول میں ہے ، اور عراقی فضائیہ  جوالبلد میں واقع امریکی ایف 16 جنگی طیاروں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے ، لاک ہیڈ مارٹن کی ناقص خدمات کی وجہ سے خراب حالت میں ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین