مغربی پٹی کا الحاق صیہونیوں کو تباہی کے دہانے تک لے جائے گا:مقبوضہ فلسطین میں امریکی سابق سفیر

مقبوضہ فلسطین میں سابق امریکی سفیر نے مغربی پٹی پر صہیونی قبضے کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد صہیونیوں کو تباہی دہانے پر لے جانے کا باعث بنے گا۔

ولایت پورٹل:فلسطین کےمقبوضہ علاقوں میں سابق امریکی سفیر مارٹن انڈک نے صیہونی  نیوز چینل آئی 24 سے بات کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو مغربی کنارے پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر خبردار کیا اور  کہا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد صہیونیوں کو تباہی دہانے پر لے جانے کا باعث بنے گا۔
انھوں نے یہ کہتے ہوئے کہ الحاق کے منصوبے پر عمل درآمد صہیونی حکومت کے لئے مہنگا پڑ سکتا ہے،کہا کہ اس وقت یکطرفہ الحاق کا منصوبہ زیر غور ہے جو علیحدگی کے برخلاف ہے، فلسطینی عوام سے علیحدگی کے خیال کا آغاز اسحاق رابن  نے کیا تھا۔
امریکی سفارت کار نے کہا کہ الحاق  یقینی طور پر ایک ہی ریاست کا باعث بنے گا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کو اسرائیل میں قبول کرنے کی ضرورت کی صورت میں سامنے آئے گااور یہ مسئلہ اسرائیل  کو بنیادی مشکل کی طرف لے جائے گا ۔
انڈک نے مزید کہا کہ اگر صیہونی حکومت یہودی یا جمہوری حکومت چاہتی ہے تو اس کا راہ حل یہودی اور جمہوری حکومت کے لئے صہیونی منصوبہ ہے، اسی لئے میں کہتا ہوں کہ الحاق  صہیونی حکومت کو تباہی کے دہانے تک لے جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ میں ناکامی کو سمجھتا ہوں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا میں فلسطینیوں کے ساتھ معاملات میں ناکام ہواہوں کوئی بھی اتنا ناکام نہیں ہواہے اور اگر آپ صرف مغربی پٹی کے الحاق سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیر قانونی ہوگا،اب ترمپ چاہے اس کو تسلیم کریں یا نہ کریں۔




 


 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین