Code : 2903 15 Hit

امریکہ سے کسی کو بھلائی نہیں ملی ہے؛ فلسطینی تنظیموں کی سینچری ڈیل کی مخالفت

متعدد فلسطینی اور غیر فلسطینی گروپوں اور شخصیات نے نام نہاد "سینچری ڈیل" کا وقت مکمل ہونے کے قریب ہونے پر مبنی امریکی موقف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی کی جانب سے ہمیشہ اور ہر ایک کو نقصان ہی ہوا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد "سینچری ڈیل" کے منصوبے کی نقاب کشائی کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کرنے کے بعد سے اس منصوبے کے بارے میں قیاس آرائیاں ایک بار ذرائع ابلاغ کی سرخیاں بن گئی ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنامین نیتن یاہو کے اگلے ہفتے دورہ واشنگٹن  سے پہلے ہی اس منصوبہ کی نقاب کشائی کا امکان ہے۔
امریکی صدر کے اس بیان کی فلسطینیوں اور غیر فلسطینیوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر مخالفت کی گئی ہے۔
فلسطینی تنظیم جہاد اسلامی کا کہنا ہے کہ صورتحال تناؤ میں ہے ، ریاستہائے متحدہ کے ساتھ ہم آہنگی بند ہونا چاہیے۔
جہاد اسلامی
جہاد اسلامی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن ، محمد الہندی نے کہا کہ اس وقت صدی کے معاہدے کی بات کرنا "مسئلہ ٔفلسطین کے نام پر جوکچھ بچ گیا ہے اس کو بھی  ختم کرنا ہے نیز اس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوجائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ خطہ میں پیش آنے والے صورتحال کا مقصد فلسطین ہے،اب ٹرمپ سینچری ڈیل معاملہ کی نقاب کشائی کریں یا نہ کریں ،یہاں بہت سارے خطرات پائے جاتے ہیں جن کے پیش نظرصورتحال مزید کشیدہ ہوتی جارہی ہے۔
حماس
حماس  تحریک کے ترجمان ، فوزی برہوم نے کہا کہ ان تمام امریکی اور اسرائیلی اقدامات کا مقصد  فلسطین کے وجود اور مقبوضہ قدس کی شناخت اور اسلامی امت کا فلسطین اور مسجد اقصی کے ساتھ تعلقات کو نشانہ بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر صیہونی حکومت کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون نہ ہوتا تو فلسطین کے مسئلے کو ختم کرنے کے لئے ان صیہونی امریکی سازشوں پر عملدرآمد نہیں کیاجاسکتا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی
رام اللہ اس منصوبہ کا مخالف ہے۔
رون بن یشائی
صیہونی اخبار Yedioth Ahronoth  کے فوجی تجزیہ کار رون بن یشائی نے سینچری ڈیل  کے معاملے میں فلسطینیوں کے ساتھ فوجی تناؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
فتح  تحریک
فتح کے ترجمان اسامہ القواسمی نے کہا کہ ٹرمپ نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں مدد کے لئے فی الحال اس منصوبے کی نقاب کشائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اردن
اردن کے وزیر خارجہ محمد الصفدی کا کہنا ہے کہ انھیں  صدی ڈیل کے منصوبے کی تفصیلات معلوم  نہیں ہیں۔
عبدالباری عطوان
معروف فلسطینی اور عربی  تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے لکھا  ہےصدی معاہدے کے ذریعے فلسطینی مقصد کو ختم کرنے کے لئے ٹرمپ اور نیتن یاھو کے مشترکہ منصوبے کے برخلاف ، اس منصوبے پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوسکے  گا بلکہ یہ اوسلو معاہدوں کے خاتمے اور مزاحمتی محاذ کے استحکام کا باعث بنے گا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम