Code : 1596 21 Hit

رہبر معظم کی نظر میں ٹرمپ کیوں پیغام کے تبادلہ کے لائق بھی نہیں(ایک تجزیہ)

ٹرمپ کےموقف میں سادہ ترین اخلاقی اصولوں کی کم ترین رعایت بھی نہیں پائی جاتی، اس نے بڑی آسانی بلکہ گستاخانہ طریقے سے پوری ایرانی قوم کو دہشت گرد کہا اور ایران کی نابودی کی باتیں کیں ہیں،ایسا انسان یقیناً پیغام کے تبادلے کے لائق نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:گزشتہ سال (اردبہشت) امریکی صدر غرور و گھمنڈ میں چور کیمروں کے سامنے آیا اور اس نے جوہری معاہدہ ختم کردیا۔ اس نے ایران مخالف تکبر آمیز تقریر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرے کے لئے خود اسے فون کرے گا، اس وقت سے لیکر آج تک ٹرمپ نے مختلف لہجوں میں انہیں الفاظ کو دہرایا ہے۔ اس ضمن میں اس کی آخری کوشش جاپانی وزیراعظم کو تہران بھیجنا تھی تاکہ اپنی خام خیالی میں تہران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا سکے۔
رہبر معظم سے جاپانی وزیراعظم کی ملاقات کو تاریخی ملاقات کا نام دیا جاسکتا ہے۔ شنزو آبے اس ملاقات میں کچھ نکات بیان کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔ میں چاہتا ہوں کہ امریکی صدر کا پیغام جناب عالی (رہبر) کی خدمت میں پیش کروں۔
2۔ ٹرمپ نے مجھ سے کہا ہےکہ "امریکہ ایران میں حکومت کا تبادلہ نہیں چاہتا۔"
3۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ خود ہی ترک کردے۔
4۔ امریکہ ایران سے صادقانہ (پُر اعتماد) مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔
5۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ "امریکہ سے مذاکرات ایران کی ترقی کا سبب بنیں گے"۔
اس ملاقات میں بیان شدہ نکات اور جاپانی وزیراعظم کو خطاب کرتے ہوئے رہبر معظم کے جواب کو چند زاویوں سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے ۔
(1) پہلا نکتہ یہ ہے کہ امریکی صدر نے تہران پیغام بھیجنے کے لیے جاپان کا انتخاب کیوں کیا؟ جاپان اور ایران کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے دوطرفہ مثبت اور قابل احترام روابط پائے جاتے ہیں۔ یہ ملک بیشتر یوروپی ممالک کے بر خلاف اینٹی ایران کھیل کا حصہ نہیں رہا ہے اس وجہ سے ایرانیوں میں اس کے تئیں مثبت رجحان پایا جاتا ہے لیکن یہاں پر اہم بات امریکہ کی جانب سے ایرانیوں کو پیغام رسانی کے لئے جاپانی وزیراعظم کا انتخاب ہے۔
جاپان ایک صنعتی ملک ہے اور معاشی طور پر ترقی یافتہ ہے۔ امریکہ احمقانہ طریقے سے جاپانی اقتصادی ترقی کا سبب اپنے اور جاپان کے تعلقات سے جوڑ کر پیش کرنا چاہتا ہے اور ایرانی قوم کو یہ پیغام پہنچانا چاہ رہا ہے کہ تمہاری اقتصادی مشکلات کا حل امریکہ سے روابط برقرار کرنے میں پوشیدہ ہے، جبکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔
امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے اور جاپان پر ایٹمی حملے کے بعد سے ہی اس ملک کو ایک طرح کے فوجی قبضے میں لے رکھا ہے۔ امریکہ کا بیرونی ممالک میں سب سے بڑا فوجی اڈہ اس ملک کے اوکیناوا جزیرے پر موجود ہے ۔
فوجی موجودگی اور امریکہ و جاپان کے درمیان فوق و تحت روابط نہ صرف یہ کہ اس ملک کی ترقی کا سبب نہیں بنے بلکہ بہت سی مشکلات اور سختیوں کو وجود میں لائے ہیں، بطور نمونہ یہی کافی ہے کہ اوکیناوا کا موجودہ گورنر دنی تاماکی اپنی ماں کے ساتھ ہونے والے ایک امریکی بندوقچی کے تجاوز کا نتیجہ ہے، ایک ایسا باپ جو کبھی امریکہ سے لوٹ کر نہ آیا۔
چند دہائیوں پر مشتمل جاپان کی اقتصادی ترقی ان کی اپنی سخت محنت، دقیق کام کاج اور صحیح منصوبہ بندی کا ماحصل ہے نہ کہ یک طرفہ اور قومی عزت سے دور امریکی روابط کا نتیجہ۔
(2) دوسرا نکتہ رہبر معظم  کے جواب کی جانب پلٹتا ہے کہ آپ ٹرمپ کو پیغام کے تبادلے کے لائق نہیں سمجھتے چہ جائیکہ اس سے مذاکرہ کریں۔
سوال یہ ہے کہ کیوں ٹرمپ پیغام کے تبادلے کے لائق نہیں ہے؟ ٹرمپ نے امریکی سیاست دانوں کے تکبر اور گھمنڈ کو آسمان پر پہنچایا ہے، اس کی ادبیات اور موقف میں سادہ ترین اخلاقی اصولوں کی کم ترین رعایت بھی نہیں پائی جاتی، اس نے بڑی آسانی بلکہ گستاخانہ طریقے سے پوری ایرانی قوم کو دہشت گرد کہا اور ایران کی نابودی کی باتیں کیں ہیں۔
ایسا انسان یقیناً پیغام کے تبادلے کے لائق نہیں ہے، اس لئے کہ ایسے شخص کو جواب دینا دو باتوں سے خالی نہیں ہے یا یہ کہ اس سے غیر اخلاقی طریقے سے اسی کی زبان میں بات کی جائے کہ جو ہمارے حکام کی شان کے خلاف ہے یا پھر ہم ادب و احترام اور اخلاق کی رعایت کرتے ہوئے جواب دیں، لیکن جب آپ ٹرمپ جیسی کسی شخصیت سے روبرو ہوں تو پھر باعزت سلوک کا نتیجہ اس کی جانب سے مزید تکبر و توہم میں اضافے اور بیشتر گستاخانہ رویہ کے کچھ اور نہیں نکلتا۔
(3) جناب آبے نے ٹرمپ کے قول کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ تہران سے صادقانہ اور اطمینان بخش مذاکرات چاہتا ہے۔ اس دعوے کو امریکہ کی جانب سے سال کے مضحکہ خیز سیاسی موقف کے طور پر ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کا ایسا کہنا گویا یہ کہ ہم پر اعتماد کرو۔
جو خنجر امریکہ نے جامع مشترکہ ایٹمی پلان (JCPOA) میں ایران کی پیٹھ پر گھوپا ہے اس سے ابھی تک خون ٹپک رہا ہے بلکہ یہ تمام ممالک کے لئے درس عبرت بن چکا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات کرنے کی کیا سرنوشت ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ حکومت اپنے برسرکار آنے کے بعد سے ہی باری باری ہمارے ملک پر پابندیوں میں زیادتی کرتی رہی ہے جس کا آخری نمونہ مذاکرات کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ پیٹرو کیمیکل مصنوعات پر پابندی لگانا ہے۔ ان حالات میں پُر اعتماد مذاکرات کا دعویٰ کرنا ایک ایسی مضحکہ خیز بات ہے کہ اگر کوئی اس پر یقین کرلے تو اس کی عقل پر شک کرنا چاہئیے۔
امریکیوں نے ایک سال پہلے اپنے 12 اہداف  بیان کئے ہیں جو انہیں مذاکرات اور معاہدہ سے حاصل کرنے ہیں۔ جس چیز کے لئے وہ دوڑ بھاگ کر رہے ہیں، وہ اسلامی جمہوریہ کو اپنے آگے تسلیم کرنا  چاہتے ہیں۔ تحقیر آمیز شرائط کو صرف انہیں ممالک نے قبول کیا ہے جو پوری طرح سے یکطرفہ جنگ ہار بیٹھے اور انہوں نے امریکہ کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ کھڑے کر لئے یا بہتر ہے یوں کہا جائے کہ ان ممالک کے سامنے یہی راستہ بچا تھا کہ وہ ان شرائط کو قبول کرلیں۔
(4) ٹرمپ نے اپنے دوسرے دعوے میں کہا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات ایران کی ترقی کا سبب بنیں گے۔ یہ دعوی بھی پہلے دعوے کی طرح مضحکہ خیز ہے۔ ٹرمپ کی مشکل یہ ہے کہ کچھ دیر سے برسراقتدار آیا ہے اور جلد ہی برطرف ہونا چاہتا ہے۔
چھ سال پہلے اس دعوے کو ایک مرتبہ ایران کو بیچا جا چکا تھا اور کچھ لوگوں نے اس پر یقین بھی کر لیا تھا، یہ وہی لوگ تھے جو جوہری معاہدے کے بعد ایک ڈالر اور ہزار تومان کے نوٹ لے کرسڑکوں پر ناچ رہے تھے، ایک دوست نے بتایا کہ میں ٹیکسی میں بیٹھا ہوا تھا، ٹیکسی بڑی خستہ حالت میں تھی، جب میں نے ڈرائیور سے کہا کہ اسے بدل کیوں نہیں لیتے تو کہنے لگا ایرانی ٹیکسی خریدلوں؟(تحقیر آمیز لہجے میں)،  نہیں بھئی، تھوڑا اور صبر کریں اس کے بعد BMW میں سواری کریں گے_____معاہدہ ایران کے حق میں گھاٹا تھا، صرف اور صرف گھاٹا۔
لیکن اس نقصان کا ایک فائدہ بھی ہوا جو ان تمام نقصانات سے قیمتی ہے اور وہ یہ کہ مذاکرات کو اہمیت دینے سے اقتصادی مشکلات کو حل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی رفاہ و ترقی کا ذائقہ چکھا جاسکتا ہے۔
(5) رہبرمعظم نے جس انداز میں جناب آبے کو پیغام کے تبادلے کے بارے میں جواب دیا ہے اس میں اہم اور کلیدی نکتہ پایا جاتا ہے۔ آپ ٹرمپ کو سخت لہجہ میں جواب دے سکتے تھے اور وہی مضبوط موقف جو امریکہ کے بارے میں شنزو آبے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے ٹرمپ کو خطاب کرکے بھی کہہ سکتے تھے، لیکن اس روش سے گریز کرنا اور اس بات پر تاکید کرنا کہ "جو باتیں میں کہوں گا وہ جاپانی وزیراعظم سے گفتگو کی چار چوب میں شامل ہونگی" اس کا مطلب ہے امریکہ سے ہر اعتبار سے مذاکرات کی فائل بند کر دینا، خواہ مستقل بات چیت ہو یا محرمانہ یا کسی وساطت سے۔
امریکیوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے تھی کہ ایران سے امتیاز لینے کی ان کی "maximum pressure" اسٹرٹیجی بے نتیجہ رہے گی اور ان پر ہر طرف سے دروازہ بند رہے گا۔
اس کوشش میں انہیں ذرہ برابر بھی مثبت پوائنٹ نہ ملا یعنی ٹرمپ حکومت کے بستہ میں امتیاز ڈالنا اور اس کے اس نظریہ کی تائید کرنا کہ ایران پر جتنا دباؤ بڑھاؤ گے اتنا اثر دکھائے گا، ان کا دباؤ بڑھا کر ہدف حاصل کرنے کا یہ منصوبہ نقش بر آب ہوگیا۔
رہبر معظم کا یہ محکم اور فیصلہ کن جواب امریکیوں کی غلط اندازہ گیری کو مسدود کرنا اور قومی مفادات کی حکمت عملی کا دفاع تھا۔
(6) آخری نکتہ خود شنزو آبے کے اعتراف کی جانب رخ کرتا ہے جس کی انہوں نے تصدیق کی ہے کہ "امریکی ہمیشہ اپنے عقائد اور طرز فکر کو دوسرے ممالک پر تھوپنا چاہتے ہیں" صرف یہی جملہ ٹرمپ کے سابقہ تمام دعوؤں پر خط بطلان کھینچتا ہے۔ محل نزاع یہی چیز ہے۔ اسلامی جمہوریہ نے اس تحمیل اور تحقیرکو "نا" کہا ہے، ایران کا واشنگٹن سے اس انداز میں روبرو ہونا اب ایک ماڈل میں بدل چکا ہے۔
شنزو آبے اور رہبر معظم کی ملاقات کی نشر ہونے والی تصاویر میں کچھ کاغذات نظر آرہے ہیں جو پہلے میز پر رکھے تھے لیکن کچھ دیر بعد جناب آبے اس پر بیٹھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، احتمالا یہ ٹرمپ کا وہی پیغام تھا جسے رہبر معظم نے قبول کرنے اور جواب دینے سے منع کر دیا تھا۔
ٹرمپ بہت سے ممالک کو صرف ایک ٹیلی فون کال پر دُوہ لیتا ہے اور اگر ان کے لیے پیغام بھیج دے (جو کہ نہیں بھیجتا کیونکہ خود کو  اتنی بھی زحمت میں ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا)تو وہ اپنے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ میں اس کے پیغام کی جگہ وہی ہے جسے تصاویر میں دیکھا گیا ہے۔
تحریر: محمد صرفی
ترجمہ: محمد کمیل شہیدی



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम