Code : 2797 146 Hit

ہمارے بیٹوں کے موبائل کیوں بند ہیں؛عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کے گھروالوں کا پنٹاگون سے سوال

عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کے گھروالوں نے پنٹاگون کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیاہے۔

ولایت پورٹل:گذشتہ جمعہ کو بغداد ایئر پورٹ کے قریب امریکہ کی دہشتگردانہ کاروائی میں ایران قدس  فورس کے کمانڈر جنرل سلیمانی اور عراق کی الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی شہادت ہوئی جس کے جواب میں دو دن قبل ایران نے عراق میں امریکہ  کے سب سے بڑے فوجی اڈے عین الاسد جہاں سے جنرل سلیمانی کو شہید کیا گیا تھا،پر بیلسٹک میزائلوں کی برسات کردی جس کو لے کر امریکی حکام بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور انھیں یہ بھی نہیں معلوم رہا کہ کیا کہہ رہے ہیں ،دو دنوں میں ان کے دسیوں متضاد بیانات دیکھنے کو ملے جیسے،ٹرمپ کا یہ بیان کہ ایرانی حملہ میں ایک بھی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا ہے  جبکہ صیہونی سرکاری ذرائع ابلاغ  نے تل ابیب کے مرکزی ہسپتال کے سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا  224امریکی فوجی زخمی حالت میں یہاں لائے گئے ہیں،واشنگٹن پوسٹ کے نیوز ویک نے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد240لکھی ہے،قابل ذکر ہے کہ امریکی حکام نے فوجیوں کے گھرانوں کو اس حد تک اندھیرے میں رکھا ہے کہ ان کو یہی نہیں معلوم میں عراق میں تعینات ان کے بیٹوں کے ساتھ کیا ہوا ہے وہ پینٹاگون سے سوال کررہے ہیں کہ ہمارے بیٹوں کے موبائل کیوں بند آرہے ہیں،واضح رہے کہ آج صبح  بھی  نیویارک میں امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اقلیتی رہنما سینیٹر چک شمر کے گھر کے سامنے عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کے گھروالوں  کا ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہوا جو اپنے بچوں سے رابطہ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے اور کہہ رہے کہ ان پر کیا بیتی ہے کوئی بتا کیوں نہیں  رہا۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम