Code : 3040 35 Hit

شیعوں کو رافضی کہے جانے کی حقیقت

تاریخی منابع و مآخذ میں غور و خوض سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ’’ رافضی‘‘ مذہبی اصطلاح سے قبل سیاسی اصطلاح ہے اور اس سے مراد حاکم یا نظام حکومت کی مخالفت کرنے والے افراد لئے جاتے ہیں خواہ وہ حکومت حق پر ہو یا باطل پر۔ چنانچہ جنگ جمل کے بعد معاویہ نے عمرو بن عاص کے نام ایک خط تحریر کیا جس میں حضرت علی(ع) کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو معاویہ نے ’’رافضہ ‘‘کہا ہے’’قد سقط الینا مروان بن الحکم فی رافضۃ اہل البصرۃ‘‘۔

ولایت پورٹل: ملل و نحل اور عقائد و تفسیر وغیرہ کی کتب میں کبھی کبھی شیعوں کو ’’رافضہ‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے لہٰذا اس اصطلاح کے بارے میں چند نکات کی وضاحت ضروری ہے۔
شیعہ کی طرح ’’رافضہ‘‘ کی اصطلاح کے بھی مختلف معانی ہیں ۔امام شافعی کے جو اشعار ہم نے نقل کئے ہیں ان میں حضرت علی(ع)کی افضلیت کے اعتقاد نیز آپ(ع) اور آپ کے خاندان سے اظہار محبت کے معنی میں شیعہ کو ہی رافضہ کہا گیا ہے۔ کبھی رافضہ سے مراد شیعہ اثنا عشری لیا جاتا ہے جیسا کہ اشعری نے رافضہ کو امامیہ کاہم معنی بتایا ہے اور اس کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’رافضہ کا مطلب علی ؑکی خلافت پر نص کا معتقد ہونا ہے ‘‘۔ (۲)
عبد القاہر بغدادی نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے غالیوں کو بھی رافضیوں کا ایک فرقہ بتایا ہے۔ درحقیقت عبد القاہر نے شیعہ کی جگہ رافضہ ہی استعمال کیا ہے اور ان کے تین گروہ’’ غلات کیسانیہ‘‘ ،’’ امامیہ‘‘ اور’’ زیدیہ‘‘ بیان کئے ہیں۔(۳)
بعض احادیث اور تاریخی منابع سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ بنی امیہ کے دور میں دشمنان اہلبیت شیعوں سے عداوت و دشمنی کے اظہار کے لئے انہیں رافضی کہا کرتے تھے اور رافضی ہونے کو ناقابل معافی جرم گردانتے تھے ان کی نگاہ میں جو رافضی ہو وہ سزا اور قتل کا حقدار تھا۔ ایک حدیث کے مطابق ابو بصیر نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کی: میری جان آپ(ع) پر قربان ہمیں ایسا نام اور لقب دے دیاگیا ہے جس لقب کے ذریعہ اموی حکمراں ہمارے جان و مال اور اذیت و آزار کو مباح سمجھتے ہیں امام(ع) نے دریافت کیا وہ لقب کیا ہے؟ ابو بصیر نے جواب دیا: ہمیں ’’رافضی‘‘کہتے ہیں۔
امام باقر(ع) نے ابو بصیر کو دلاسہ دیتے ہوئے فرمایا: فرعون کے ستر سپاہی فرعون کو چھوڑ کر جناب موسیٰ کے ساتھ ہوگئے موسیٰ کی قوم میں سے کوئی شخص ان ستر افراد کی مانند ہارون سے محبت نہیں کرتا تھا یہ لوگ موسیٰ کی قوم میں ’’رافضی ‘‘کہلاتے تھے۔(۱)
اس روایت سے چند نتائج حاصل ہوتے ہیں:
۱۔اس دور میں شیعوں کو رافضی کہا جاتا تھا۔
۲۔عموماً اموی حکام ہی رافضی کہا کرتے تھے اور اس کا مقصد اسی بہانہ شیعوں پر ظلم کرنا تھا۔
۳۔شیعوں کو رافضی کہنے کا سبب یہ تھا کہ شیعہ حضرت علی(ع)سے اظہار محبت کرتے تھے، آپ(ع)کے فضائل کا تذکرہ کرتے اور آپ (ع)کو دوسروں سے افضل و برتر تسلیم کرتے تھے حالانکہ اموی حکام کی نگاہ میں علی(ع)سے محبت کا اظہار اور آپ(ع)کے فضائل کا تذکرہ جرم تھا۔
۴۔اگر چہ دشمنان اہلبیت(ع) اور مخالفین شیعہ کی نظر میں رافضی ہونا ناپسندیدہ اور مذموم تھا لیکن آئمہ اہلبیت(ع) کی نگاہ میں یہی نام پسندیدہ اور ممدوح ہے۔
شیعوں کو رافضی کہے جانے اور رافضی کہنے کا آغاز کس نے کیا مذکورہ روایت ان باتوں کے بارے میں مزید تردد میں مبتلا کردیتی ہے اس لئے کہ بعض تواریخ کے مطابق جب زید بن علی ابن الحسین (ع) نے کوفہ میں قیام کیا تو ابتداء میں کوفہ کے لوگوں نے ان کی بیعت کرلی لیکن پھر بیعت کرنے والوں نے خلیفہ اول کے بارے میں جناب زیدکا نظریہ دریافت کرنا چاہا تو جناب زید نے نیکی کے ساتھ خلیفہ اول کا ذکر کیا اور ان سے اظہار برائت نہیں کیا چنانچہ کوفیوں نے زید کا ساتھ چھوڑ دیا اور بیعت پر عمل نہیں کیا تو زید نے انہیں ’’رافضہ ‘‘کہا۔(۲)
اول الذکر روایت کے مطابق رافضی کی اصطلاح قیام زید سے پہلے بھی شہرت پاچکی تھی اور اموی حکام اسے شیعوں کے لئے استعمال کرتے تھے۔
تاریخی منابع و مآخذ میں غور و خوض سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ’’ رافضی‘‘ مذہبی اصطلاح سے قبل سیاسی اصطلاح ہے اور اس سے مراد حاکم یا نظام حکومت کی مخالفت کرنے والے افراد لئے جاتے ہیں خواہ وہ حکومت حق پر ہو یا باطل پر۔ چنانچہ جنگ جمل کے بعد معاویہ نے عمرو بن عاص کے نام ایک خط تحریر کیا جس میں حضرت علی(ع) کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو معاویہ نے ’’رافضہ ‘‘کہا ہے’’قد سقط الینا مروان بن الحکم فی رافضۃ اہل البصرۃ‘‘۔(۱)
اس بنیاد پر چونکہ شیعہ ہمیشہ بنی امیہ کی ظالم و جابر حکومتوں کے خلاف نبرد آزما اور مصروف جہاد رہے لہٰذا انہیں رافضی کہا گیا اور پھر جب اس بہانہ سے شیعوں کو کچلنے کی راہ ہموار ہوگئی تو اسے مذہبی رنگ دے دیا گیا اور رافض کو خلفاء کے بارے میں شیعہ عقیدہ سے جوڑ دیا گیا۔ تاریخی لحاظ سے زید بن علی کا واقعہ اگر صحیح ہو تب بھی دیگر قرائن و شواہد کی روشنی میں غالباً یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان حالات میں ایسا سوال کرنا اور بیعت کرنے والوں کا ساتھ چھوڑ دینا در حقیقت امویوں کی سازش تھی تاکہ زید بن علی کا قیام شکست سے دوچار ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔مقالات الاسلامیین ج۱، ص۸۸، ۔۸۹۔
۲۔الفرق بین الفرق ، ص۲۱، دار المعرفۃ۔
۳۔بحار الانوار ، ج۶۵، ۹۷۔
۴۔مقالات الاسلامیین ج۱، ص۸۸، ۸۹، تاریخ ابن اثیر ،ج۳، ص۳۸۰۔
۵۔وقعۃ الصفین ، نصر بن مزاحم ، ص۲۹۔





0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम