Code : 2997 87 Hit

شہید ابو مہدی مہندس کی زندگی کے کچھ سنہرے اوراق

عراق سمیت پورے خطے سے مکمل امریکی انخلاء اور امریکی سامراج اور صہیونی منصوبوں کے مقابلے میں اسلامی مزاحمت کی تقویت شہید ابو مہدی المہندس کی آرزو تھی اور اس آرزو کی تکمیل کے لیے انہوں نے اسلامی انقلاب اور نظامِ ولایت کے زیر سایہ تشکیل پانے والی اسلامی مزاحمت کے قافلے میں شمولیت اختیار کی اور خود کو ہمشیہ اسلامی مزاحمت کا ادنیٰ سپاہی قرار دیا اور اس پر فخر محسوس کیا۔ شہید ابو مہدی اپنی آرزو جو خطے کے تمام بے نواؤں کی آرزو ہے؛ کی تکمیل کی خاطر امریکی سامراج اور صہیون ازم کے ساتھ نبرد آزما تھے جب امریکہ نے انہیں شہید قاسم سلیمانی کے ہمراہ گاڑی میں نشانہ بنایا اور اسلامی مزاحمت کے یہ دو عظیم مجاہد اپنے چند دیگر ساتھیوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کرگئے۔

ولایت پورٹل: مہندس فارسی میں انجینئر کو کہتے ہیں۔ انہوں نے بغداد کے پولی ٹیکنیک کالج سے سول انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کر رکھی تھی اور اسی سبب وہ مہندس یعنی انجینئر کے نام سے معروف تھے۔ ابو مہدی ان کا لقب تھا۔ ان کا اصل نام جمال جعفر محمد اور ان کا خاندانی نام آل ابراہیم تھا۔ یوں ان کا مکمل نام جمال جعفر محمد آل ابراہیم المعروف ابو مہدی مہندس ہے۔ وہ عراقی شہری تھے اور ایران میں انہیں جمال ابراہیمی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ میں ۳ جنوری ۲۰۲۰ سانحہ بغداد میں شہید ہونے والے عراقی سیاسی و عسکری رہنما ابو مہدی مہندس کی بات کررہا ہوں۔
گذشتہ ماہ بغداد ایئرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں اسلامی مزاحمت کے اہم قائدین شہید ہونے کے بعد شہید قاسم سلیمانی کے زندگی نامے سمیت ان کی شخصیت کی خصوصیات اور ان کے کارناموں کے حوالے سے خاطر خواہ لٹریچر اردو زبان میں سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھنے کو ملا ہے لیکن اس دوران ابو مہدی مہندس کے زندگی نامے اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے اردو لٹریچر کی کمی محسوس ہوئی ہے۔ آج جب شہدائے مزاحمت کا چہلم نزدیک ہے تو اس مضمون کے ذریعے ہم شہید ابو مہدی کی زندگی کا ایک مختصر تعارف اور ان کی مزاحمتی فکر اور چار عشروں پر مشتمل جدوجہد کے چند گوشے قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
یوں تو ان کے اجمالی تعارف کے لیے ان کے اس انٹرویو جو ان کی شہادت کے بعد وائرل ہوا کا وہ ایک جملہ کافی ہے جس میں وہ خود کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بریگیڈ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شہید قاسم سلیمانی کا سپاہی قرار دیتے ہیں اور اسی طرح ایک دوسرے ویڈیو انٹرویو میں شہید قاسم سلیمانی خود کو شہید ابو مہدی کا سپاہی قرار دیتے ہیں لیکن قدرے تفصیلی تعارف کے لیے آج ہم اس مضمون کے ذریعے آپ احباب سے مخاطب ہو رہے ہیں۔
ایک اور ویڈیو انٹرویو میں شہید ابو مہدی لبنان کی مزاحمتی تحریک کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کو اپنا قائد اور آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔ شہید ابو مہدی اس انٹرویو میں کہتے ہیں وہ سید حسن نصر اللہ کی قیادت میں حزب اللہ کی اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں مزاحمت سے انتہائی متاثر ہیں اور وہ عراق میں امریکی سامراج کے مقابلے میں حزب اللہ لبنان طرز کی مزاحمت وجود میں لانا چاہتے ہیں۔ شہید ابو مہدی نے اسلامی مزاحمت کے ساتھ اپنے تعلق کو کبھی مخفی نہیں رکھا اور ہمیشہ خود کو اسلامی مزاحمت کا ایک حصہ اور ادنی سپاہی قرار دیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت کے بعد یروشلم پوسٹ نے بھی اپنے ایک مضمون میں انہیں شہید قاسم سلیمانی اور سید حسن نصر اللہ کے نظریے کا پیرو اور ابو مہدی کو انہی کے خاندان کا فرد قرار دیا ہے۔ ابو مہدی کا نظامِ ولایت کے زیر سایہ وجود میں آنے والی اسلامی مزاحمت سے گہرا تعلق ان کے لیے افتخار تھا جس کا اظہار انہوں نے خود اپنے ویڈیو انٹرویو میں کیا تھا۔
شہید ابو مہدی کے بقول عراقی قوم کا بالخصوص اور خطے کی اقوام کا بالعموم اصل دشمن امریکہ ہے اور وہ خطے سے مکمل امریکی انخلا تک امریکہ کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ شہادت کے وقت ابو مہدی حشد الشعبی کے نائب سربراہ تھے۔ حشد الشعبی کم و بیش ۴۰ عراقی مزاحمتی گروہوں پر مشتمل ایک عسکری اتحاد ہے جو ۲۰۱۴ میں عراق پر داعش کے قبضے کے بعد وجود میں آیا۔ ۱ لاکھ باقاعدہ اور ۲ لاکھ ریزرو فوج کا حامل یہ عسکری اتحاد (حشد الشعبی) جو ۲۰۱۴ میں عراق کی دینی مرجعیت کے حکم پر وجود میں آیا ۲۰۱۷ میں پارلیمانی قرارداد اور حکومتی آرڈر کے تحت حشد الشعبی کو عراق کی دیگر مسلح افواج کی طرح سرکاری پیرا ملٹری فوج کا درجہ دے دیا گیا جس کی آئینی کمان عراقی وزیراعظم کے پاس ہے۔ یوں شہید ابو مہدی عراق کے ایک سرکاری عہدیدار بھی تھے اور امریکہ نے صرف کسی رضاکار غیر سرکاری مسلح گروہ یا اتحاد کے کسی کمانڈر کو نہیں بلکہ عراق کی سرکاری پیراملٹری فوج کے نائب سربراہ کو شہید کیا ہے اور ایک ایسے ملک کے کمانڈر کو قتل کرنا جس ملک کے ساتھ آپ حالتِ جنگ میں نہ ہوں خود سے جنگی جرم محسوب ہوتا ہے۔
شہید ابو مہدی ۱۹۵۳ میں عراق کے شہر بصرہ میں پیدا ہوئے۔ شہریت کے لحاظ سے ان کی والدہ ایرانی جبکہ ان کے والد عراقی تھے۔ ۱۹۷۷ میں انہوں نے بغداد کے پولی ٹیکنیک کالج سے سول انجینرنگ میں ڈگری مکمل کی۔ ۸۰ کی دہائی میں عراق میں دینی مرجعیت خصوصاً آیت اللہ محمد باقر الصدر کی قیادت میں حزب الدعوہ الاسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ حزب الدعوہ الاسلامیہ عرب دنیا میں عرب قوم پرستی کے مقابلے میں اخوان المسلمین کے بعد دوسری اسلامی تحریک تھی جو عرب دنیا کے مسائل کو اسلامی تناظر میں دیکھتی تھیں۔ شہید محمد باقر الصدر کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کا سیاسی، معاشی، اخلاقی اور سماجی نظام عرب دنیا سمیت عالم اسلام کے مسائل کا واحد حل ہے۔ شہید ابو مہدی نے اپنی سماجی فعالیت کا آغاز شہید محمد باقر الصدر کی قیادت میں تشکیل پانے والی اس اسلامی تحریک میں شمولیت کے ساتھ کیا۔
۸۰ کی دہائی میں عراق پر حاکم بعث پارٹی نے جب حزب الدعوہ الاسلامیہ کے عوام میں اثرورسوخ سے خائف ہوکر عرب دنیا کی اس اہم اسلامی تحریک کو سرکوب کرنے کی ٹھانی اور حزب الدعوہ کی قیادت کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا تو پہلے مرحلے میں حزب الدعوہ کی قیادت کو گرفتار کرکے کے پھانسی دے دی‌ گئی۔ ۱۹۷۵ میں حزب الدعوہ الاسلامیه کے درجنوں قائدین کو سزائے موت دے دی گئی۔ دوسرے مرحلے میں حزب الدعوہ کے کارکنوں کو پکڑ کر عقوبت خانوں بند کیا اور تختہ دار پر لٹکایا جانے لگا۔ شہید ابو مہدی اس زمانے کے بارے میں کہتے ہیں ۱۹۸۰ تک حزب الدعوہ الاسلامیہ سے وابستہ میرے ۹۵ فیصد دوستوں کو سزائے موت ہوچکی تھی۔
۱۹۸۰‌ میں جب بعثی رجیم نے محمد باقر الصدر کو ان کے گھر سے گرفتار کرکے شہید کردیا تو شہید ابو مہدی مہندس عراق سے کویت چلے گئے جہاں انہوں نے اسلامی مزاحمت کے عظیم کردار شہید مصطفیٰ بدرالدین کے ساتھ ملکر ظلم و استبداد کے خلاف جدو جہد کا نئے سرے سے آغاز کیا۔ کویت میں قائم امریکی اور فرانسوی سفارت خانوں پر بمب حملے ہوئے تو کویت میں مقیم مصطفیٰ بدرالدین سمیت متعدد عراقی مہاجرین کو گرفتار کرلیا گیا۔ شہید ابو مہدی کویت سے ایران منتقل ہوگئے۔ بعدازاں ایک کویتی عدالت نے شہید ابو مہدی کی غیر موجودگی میں انہیں ان سفارت خانوں پر حملے کے الزام میں سزائے موت بھی سنائی تھی جس کے بارے خود شہید ابو مہدی کا کہنا ہے کہ وہ کویتی سرزمین پر امریکہ مخالف کسی مسلح کاروائی میں ہرگز شریک نہیں تھے۔
ایران میں قیام کے دوران شہید ابو مہدی نے اعلی تعلیم مکمل کرلی۔ انہوں نے بین الاقوامی تعلقات میں پہلے ایم فل تو بعدازاں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن جانے کے باوجود شہید ابو مہدی کو تا دمِ شہادت انجینئر (مہندس) کے لقب سے ہی جانا جاتا رہا۔ نوے کی دہائی میں عراق میں بعثی رجیم کے مظالم کے خلاف مزاحمت کی غرض سے مسلح جدوجہد وجود میں آئی تو شہید ابو مہدی البدر کے رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ شہید ابو مہدی بھی عراق کے متعدد دیگر مزاحمتی اور سیاسی رہنماؤں کی طرح عراق میں صدام کے سقوط کے بعد عراق واپس پلٹے تو شہید ابو مہدی نے نئی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ۲۰۰۳ میں عراق واپس جاتے ہی شہید ابو مہدی نے خود کو البدر سے علیحدہ کر کے کتائب حزب اللہ کی بنیاد رکھی۔ شہید ابو مہدی ۲۰۰۵ میں عراقی صوبے بابل سے پارلیمنٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے لیکن بعدازاں امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے سبب انہیں پارلیمانی نشست سے استعفیٰ دے کر عراق ترک کرکے ایک دفعہ دوبارہ ایران آنا پڑا۔
۲۰۱۱ میں شہید ابو مہدی دوبارہ عراق گئے اور سیاسی فعالیت کو ازسرنو شروع کیا۔ ان کی قیادت میں بننے والا سیاسی اتحاد الوطنی آج بھی عراقی پارلیمان کا ایک اہم اتحاد ہے۔ ۲۰۱۴ میں داعش نے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تو  عراق کی دینی مرجعیت آیت اللہ سیستانی کے حکم پر عوامی رضا کار فورس وجود میں آئی۔ اس فورس کی تشکیل میں شہید ابو مہدی اور ان کی مزاحمتی تحریک کتائب حزب اللہ کا کردار انتہائی اہم تھا۔ کتائب حزب اللہ نے حشد الشعبی کی ۴۵ویں اور ۴۶ویں بریگیڈ کی تشکیل کو مکمل کیا جبکہ ۴۷ویں بریگیڈ میں بھی ایک بڑا حصہ کتائب کی افرادی قوت کا ہے۔ داعش کے خلاف جہاد شہید ابو مہدی کی چار عشروں پر محیط جہادی زندگی کا ایک نیا دور تھا۔ وہ حشد الشعبی کے نائب سربراہ بنائے گئے لیکن ان کا کنٹرول روم بغداد کے کسی محفوظ اور پوش علاقے کا کوئی عسکری اڈہ نہیں بلکہ اگلے مورچوں پر کھڑے ٹینک اور مورچے تھا۔ شہید ابو مہدی بطور ایک فوجی جنرل میڈلز اور ستارے سینے پر سجانے کی بجائے اگلے مورچوں پر اپنے سپاہیوں کے ساتھ شانہ بشانے لڑنے کو اپنے لیے بڑا اعزاز سمجھتے تھے۔ سامرا، کاظمین، کربلا اور نجف کے مزاراتِ آل رسول کی حفاظت کے علاؤہ آمرلی، جرف الصخر، اربیل اور موصل کی آزادی کے کامیاب آپریشنز میں بھی شہید ابو مہدی کا بنیادی کردار ہے۔
مئی ۲۰۱۹ میں اسرائیل نے عراق میں قائم حشد الشعبی کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تو شہید ابو مہدی نے اسرائیل کو جہاں جواب دینے کی بات کی وہیں امریکی و اسرائیلی جارحیت کے مقابلے کے لیے حشد الشعبی کے فضائی ونگ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اور یہ قوی احتمال تھا کہ اگر شہید ابو مہدی کچھ عرصہ مزید زندہ رہتے تو حشد الشعبی کے فضائی ونگ کی تشکیل ان کا ترجیح ایجنڈا ہوتا۔
عراق سمیت پورے خطے سے مکمل امریکی انخلاء اور امریکی سامراج اور صہیونی منصوبوں کے مقابلے میں اسلامی مزاحمت کی تقویت شہید ابو مہدی المہندس کی آرزو تھی اور اس آرزو کی تکمیل کے لیے انہوں نے اسلامی انقلاب اور نظامِ ولایت کے زیر سایہ تشکیل پانے والی اسلامی مزاحمت کے قافلے میں شمولیت اختیار کی اور خود کو ہمشیہ اسلامی مزاحمت کا ادنیٰ سپاہی قرار دیا اور اس پر فخر محسوس کیا۔ شہید ابو مہدی اپنی آرزو جو خطے کے تمام بے نواؤں کی آرزو ہے؛ کی تکمیل کی خاطر امریکی سامراج اور صہیون ازم کے ساتھ نبرد آزما تھے جب امریکہ نے انہیں شہید قاسم سلیمانی کے ہمراہ گاڑی میں نشانہ بنایا اور اسلامی مزاحمت کے یہ دو عظیم مجاہد اپنے چند دیگر ساتھیوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کرگئے۔

تحریر: جناب ابنِ حسن صاحب


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम