Code : 4614 38 Hit

امام سجاد (ع) کی نظر میں کربلا کا اصلی فاتح کون؟

امام سجاد(ع) نے فرمایا: طلحہ کیا تم یہ سوچتے ہو کہ کربلا کی جنگ حکومت کے حصول کے لئے لڑی گئی تھی تاکہ تم یہ کہوں کہ اس اعتبار سے تو یزید جیت گیا ۔ نہیں ! یہ لڑائی حکومت کی نہیں دین کی بقا اور تحفظ کے لئے لڑی گئی تھی کہ جس کے لئے میرے جد اور میرے بابا نے قربانی دی ہے ۔ اب اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ کربلا میں کون فاتح رہا اور کون مغلوب تو جب نماز کا وقت آئے گا اور تم خود اذان و اقامت کہو گے تو خود سمجھ میں آجائے گا کہ کربلا میں کون جیتا اور کون ہارا ؟۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! کسی بھی جنگ یا معرکہ میں فتح و شکست  کا معیار فوج کی تعداد اور اسلحے  کے انبار ہوتے ہیں ۔ جس فوج میں جتنے قوی ، بہادر اور زیادہ تعداد میں  افراد موجود ہوں ، اورجس  کے پاس  جدید اسلحوں سے بھرے ہوئے  ذخائر ہوں دنیا اسے ایک طاقتور فوج تسلیم  کرتی ہے اور ایسی فوج ہر جنگ میں اپنی فتح کی تاریخ رقم کرنے کی صلاحیت رکھتی  ہے  اور ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی فوج طاقت کے بل بوتے فتح مند ہوجاتی ہے تو  اسے اس کا وہ  منظور نظر مقصد بھی حاصل ہوجاتا ہے  جس کے لئے یہ لشکر کشی کی گئی تھی ۔لیکن کربلا اس واحد  جنگ کا نام ہے کہ جہاں دنیا کے دانشوروں ، سپہ سالاروں اور جنگی ماہرین کے تمام بنائے ہوئے قوانین اور معیار تاریخ کے کوڈے دان میں پھینک دیئے جانے کے لائق  ہیں۔ چونکہ کربلا میں ایک طرف ۳۰ ہزار کی  طاقتور فوج تھی  کہ جس میں ماہر تیر انداز، نیزہ چلانے والے اور تلوار کے دھنی ہزاروں  لوگ  موجود تھے   ۔ جن کی  پورے عالم اسلام پر  حکومت تھی ، نہ پیسہ کی کمی تھی نہ حمایت اور افراد کی ۔ سب کچھ  موجود تھا ۔ لیکن دوسری طرف صرف معدودے چند لوگ  تھے  اور ان میں کئی بہت چھوٹے چھوٹے بچے  یہاں تک کہ کچھ  نے تو  ابھی اپنی ماؤں کی آغوش  سے اتر کر زمین پر پیر بھی نہ رکھے  تھے ۔ کچھ عورتیں اور اس پہ ستم یہ کہ تین دن کی بھوک اور پیاس ۔
اب اگر جنگی ماہرین کے بنائے ہوئے اصول و معیار پر اس جنگ کو پرکھنا چاہیں تو حسین (ع) کو یہ جنگ ہار جانا چاہیئے تھی ۔ چونکہ حسین (ع) کے انگشت شمار ساتھیوں اور یزید کی بڑی اور طاقتور فوج کا کسی صورت کوئی مقابلہ  نہیں کیا جاسکتا  ۔ لیکن جب میں کربلا کی تاریخ اور اس کے باقی ماندہ اور زندہ   جاوید آثار کو دیکھتا ہوں تو  مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کربلا کو حسین (ع) کا معجزہ کہوں یا خداوند قدیر کی  کارسازی و کار فرمائی۔کہ صرف ۷۲ نے ہزاروں کے لشکر کو وہ شکست دی کہ رہتی دنیا تک  یاد رکھے گی اور  جس  نے سن ۶۱ ہجری کے بعد دنیا میں  فتح و شکست کا معیار  کو تبدیل کرکے رکھ  دیا ۔اور یہ بتلا دیا کہ کبھی فوج کی کثرت اور اسلحوں کے انبار فتح و ظفر  کی ضمانت  نہیں ہوتے  بلکہ  قلت وسائل کے باوجود بھی  اگر آپ اپنے مقصد کو حاصل کرلیں تو سمجھئے آپ کامیاب  ہوگئے  چاہے آپ کا سر نوک نیزہ پر ہی کیوں بلند نہ ہوجائے ۔
یہی سبب ہے کہ جب اہل حرم کا قافلہ کربلا سے واپس مدینہ آگیا اور لوگوں نے اہل بیت عصمت و طہارت (ع) کی مظلومی پر گریہ و ماتم کیا  اور بنی امیہ کے  ظلم و ستم  سے بیزاری کا اظہار کیا  اسی درمیان مدینہ کا رہنے والا ایک اموی نمک خوار اور منافق   ابراہیم بن طلحہ ،  امام سجاد(ع) کے پاس آیا اور سلام  کرنے کے بعد حضرت کو اس طرح طعنہ دینا چاہا :’’یَابْنَ رَسُولِ اللهِ(ص) مَنِ الغَالِبُ؟‘‘؛  فرزند رسول کربلا میں کون کامیاب ہوا ؟ ظاہر ہے اس کا مقصد امام (ع) سے  ان کی مظلومیت اور روداد کربلا سننا نہیں  تھا بلکہ وہ تو اپنے خیال خام میں یہ سوچ کر آیا تھا کہ سید سجاد (ع) غموں اور  زخموں سے نڈھال ہیں اور جب میں یہ سوال کروں گا تو ان کے ماضی کی یادیں پھر تازہ ہو جائیں گی اور وہ یہ اقرار کرلیں گے کہ  ہم  شکست کھا گئے ۔ لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ  یہ حسین کا بیٹا ہے  اور فاتح خیبر کا خون اس کی رگوں میں دوڑ رہا ہے ۔ اللہ نے اسے علم لدنی کا مالک اور اسلام کا مقدر بنایا ہے  یہ سوال سے پہلے سوال کرنے والے کی منشأ اور نیت سے آگاہ ہوجاتے ہیں  حضرت نے ارشاد فرمایا : طلحہ کیا تم یہ سوچتے ہو کہ کربلا کی جنگ حکومت کے حصول کے لئے لڑی گئی تھی  تاکہ تم یہ کہوں کہ اس اعتبار سے تو یزید جیت گیا ۔ نہیں ! یہ لڑائی حکومت کی نہیں دین   کی بقا اور تحفظ کے لئے لڑی گئی تھی  کہ جس کے لئے میرے جد اور میرے بابا نے قربانی دی ہے ۔ اب اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ کربلا میں کون فاتح رہا اور کون مغلوب تو جب نماز کا وقت آئے گا  اور  تم خود  اذان و اقامت کہو گے تو خود سمجھ میں آجائے گا کہ کربلا میں کون جیتا اور کون ہارا ؟۔ (‏الأمالی، طوسى، محمد بن حسن‏، دار الثقافة، قم‏، 1414 قمری، ‏چاپ اول‏، ص 677)۔

تحریر : سجاد ربانی
 


1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین