Code : 3162 149 Hit

امّ داؤد کون ہیں اور اس عمل کو عمل امّ داؤد کیوں کیا جاتا ہے؟

امام صادق علیہ السلام نے میری حالت دیکھتے ہوئے فرمایا: ابھی تک دعائے استفتاح سے کیوں غافل تھیں؟ کیا آپ نہیں جانتی ہیں کہ اس دعا کے وسیلہ سے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور فرشتے، دعا کرنے والے کو قبولیت دعا کی بشارت دیتے ہیں اور کوئی بھی حاجتمند اور دعا کرنے والا مایوس نہیں ہوتا اور خداوند عالم نے بھی اس دعا کے پڑھنے والے کی جزا کو جنت قرار دیا ہے؟

ولایت پورٹل: ام داؤد، امام حسن مجتبی علیہ السلام کے پوتے،داؤد ابن مثنی کی  والدہ تھیں۔ داؤد امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کے اصحاب میں سے تھے اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے رضاعی بھائی بھی تھے۔
ام داؤد نے اپنے واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے: منصور دوانیقی نے مدینہ کی جانب لشکر بھیجا اور محمد ابن عبداللہ ابن حسن مثنی سے جنگ کی اور ان کے بھائی ابراہیم کو قتل کردیا۔
منصور نے عبداللہ،یعنی محمد اور ابراہیم کے والد کو کچھ دیگر سادات کے ہمراہ اسیر کرلیا اور زنجیر  میں جکڑ دیا، میرا بیٹا داؤد بھی انھیں کے ساتھ تھا، اس کو مدینہ سے بغداد منتقل کردیا گیا اور اسے قیدخانہ میں ڈال دیا گیا۔
میرے بیٹے کی اسیری کا حادثہ اور ان کے حالات سے بے خبری اور بسا اوقات ان کی موت کی خبر کا ملنا، میرے لئے بہت تلخ اور دردناک ہوتا تھا، روز و شب نالہ و شیون میں بسر ہوتے تھے، اپنی اس مشکل کے حل کے لئے صالح اور مؤمن افراد سے دعا کی درخواست کرتی تھی مگر کسی کی دعا نتیجہ بخش ثابت نہیں ہو رہی تھی۔
ایک دن خبر ملی کہ امام صادق علیہ السلام جو کہ میرے بیٹے داؤد  کے ہمشیر بھی تھے، بیمار ہیں۔ ان کی عیادت کے لئے گئی۔
جب میں ان سے رخصت ہونا چاہ رہی تھی اس وقت امام(ع) نے فرمایا: داؤدکے سلسلے میں کوئی جدید خبر نہیں ہے؟  داؤد کا نام سنتے ہی میرے زخم تازہ ہوگئے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،میں نے عرض کیا: ایک مدت سے ان کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔میرا بیٹا عراق میں قید ہے اور  اس کے انجام سے بےخبری کی وجہ سے میں بہت رنجیدہ ہوں، آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ اپنے رضاعی بھائی کی نجات اور  آزادی کے لئے دعا کیجیئے۔
امام صادق علیہ السلام نے میری حالت دیکھتے ہوئے فرمایا: ابھی تک دعائے استفتاح سے کیوں غافل تھیں؟ کیا آپ نہیں جانتی  ہیں کہ اس دعا کے وسیلہ سے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور فرشتے، دعا کرنے والے کو قبولیت دعا کی بشارت دیتے ہیں اور کوئی بھی حاجتمند اور دعا کرنے والا مایوس نہیں ہوتا اور خداوند عالم  نے بھی اس دعا کے پڑھنے والے کی جزا کو جنت قرار دیا ہے؟
اس بشارت کو سننے کے بعد میں نے حضرت سے سوال کیا: اے میرے مولا ! وہ دعا کون سی ہے؟ اور اس کے آداب کیا ہیں؟
اس وقت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مکمل اعمال اور اس کے آداب کی تعلیم دی ۔ وہی اعمال،بعد میں عمل ام داؤد کے نام سے مشہور ہوئے۔(بحار الانوار، ج۹۸، ص۳۹۷-۳۹۹۔ معجم رجال الحدیث، ج۸، ص۱۰۲۔ الاقبال، ج۳، ص۲۳۹-۲۵۱)۔
ام داؤد  کا کہنا ہے کہ جب امام صادق علیہ السلام نے  داؤد کے فراق اور جدائی میں میری  حالت دیکھی تو آپ نے فرمایا: اے مادر داؤد! رجب کا محترم مہینہ نزدیک ہے اور اس مبارک مہینہ میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، جب ماہ رجب  کاآغاز ہو جائے تو ا س کی ۱۳، ۱۴ ، ۱۵ کو کہ جو ایام البیض یعنی نورانی ایام ہیں، ان میں روزہ رکھو، پندرہویں(۱۵) رجب کے دن ظہر کے نزدیک غسل کرو اور زوال کے بعد آٹھ(۸) رکعت نماز  (ظہر و عصر)کو احسن اور بہترین رکوع اور سجود کے ساتھ انجام دو۔
نماز سے  فارغ ہونے کے بعد قبلہ رخ ہو کر سو مرتبه سوره حمد اورسو مرتبہ توحید و دس مرتبه آیة الکرسی  اور اس کے بعد سورۂ انعام ، بنی اسرائیل ، کهف ، لقمان ، یس ، صافات ، حم سجده ، حم عسق ، دخان ، فتح ، واقعه ، ملک ، قلم و انشقاق سے آخر قرآن تک تلاوت کریں اور جب ان سب سوروں سے فارغ ہو جائیں تو پھر  اس وقت کی مخصوص دعا پڑھیں(۱)
چنانچہ میں نے حسب دستور امام(ع) رجب کی ۱۳ ، ۱۴ اور ۱۵ کو روزہ رکھا اور ان اعمال کو انجام دیا۔ اللہ کی رحمت اور اس کے ولی کے وسیلہ سے میرا بیٹا آزاد ہو کر مدینہ پہونچ گیا اور پھر میں داؤد کو امام صادق(ع) کی خدمت میں لے گئی تو امام(ع) نے میرے بیٹے سے فرمایا: تمہاری آزادی کی وجہ یہ تھی کہ منصور دوانیقی نے امام علی علیہ السلام کو خواب میں دیکھا، آپ(ع) نے منصور سے فرمایا کہ اگر میرے بیٹے کو آزاد نہ کروگے تو میں تمہیں آگ میں ڈال دونگا، منصور بھی اپنے پاس آگ کی لپٹ کو محسوس کر رہا تھا، لہذا اس نے مجبور ہو کر تمہیں آزاد کیا۔
ام داؤد کہتی ہیں کہ میں امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا: اے مولا! آیا اس دعا کو ماہ رجب کے علاوہ بھی پڑھا جا سکتا ہے؟
امام نے فرمایا: اگر روز عرفہ اور جمعہ ایک دن پڑ جائے تو اس  دعا کو پڑھ سکتے ہیں اور جس نے بھی اس دعا اور عمل کو انجام دیا، خداوند عالم دعا کے اختتام پر اس شخص کو بخش دیگا۔( الاقبال، ج۳، ص۲۳۹-۲۵۱)
قارئین کرام عمل ام داؤد کو اس مخصوص دعا کو مفاتیح الجنان میں ، رجب کے اعمال کے باب میں اور عمل ام داؤد کے زمرہ میں دیکھ سکتے ہیں۔



3
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम