Code : 2856 55 Hit

جناب حجر بن عدی

حجر بن عدی صدر اسلام کے شیعوں کے درمیان ایک معروف شخصیت تھے آپ جنگ صفین میں امام علی(ع) کی طرف سے قبیلہ کندہ کے سپہ سالار تھے نیز جنگ نہروان میں میسرہ لشکرہ کے سالار تھے ۔

ولایت پورٹل: جناب حجر بن عدی رسول اکرم(ص) کے باوفا صحابی اور علی(ع) کے محبوب جانثار تھے کہ جنہیں معاویہ نے شہید کروایا تھا ان کی شہادت کے سبب پوری امت کے درمیان اموی حکومت اور اس کے زرخیریدوں سے شدید نفرت کی لہر دوڑ گئی تھی۔
جناب حجر بن عدی قبیلہ کندہ کے سردار اور کوفہ کے رہنے والے تھے جب وہ جوان ہی تھے کہ اپنے بھائی ہانی کے ہمراہ اپنے قبیلہ کے نمائندے کے طور پر رسول اللہ(ص) کی خدمت میں پہونچ کر اسلام سے مشرف ہوئے آپ ایک سچے ، باوفا، دنوں کو روزہ رکھنے اور راتوں کو عبادت میں بسر کرنے والے مسلمان تھے۔
جناب حجر بن عدی حضرت علی(ع) کے اصحاب کے درمیان اپنی مثال آپ تھے آپ نے امیرالمؤمنین کے ظاہری اقتدار کے زمانے کی تینوں جنگوں یعنی صفین، نہروان اور جمل میں امام (ع) کی رکاب میں تلوار چلائی۔ چنانچہ جنگ صفین کا آغاز ہونے سے پہلے آپ نے امام علی(ع) کی حمایت کا ان الفاظ میں اظہار فرمایا تھا:’’ہم جنگ کے شیدائی اور تلوار کے دھنی ہیں اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ کس وقت اور کہاں سے جنگ کا آغاز کرنا چاہیئے اور کیسے اسے اپنے حق میں موڑا جاتا ہے۔ ہم جنگ کی آغوش میں رہ کر پروان چڑھے ہیں۔ ہمارے تمام نیک ساتھی آپ کے اختیار میں ہیں اگر آپ مشرق سے مغرب تک بھی جنگ کرتے جائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ جو بھی حکم دیں گے ہم اطاعت کریں گے ‘‘۔
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام حجر بن عدی کی اس وفاداری سے بہت خوش ہوئے اور آپ نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ نیز حجر بن عدی کا ایک افتخار یہ بھی ہے کہ آپ نے معاویہ کے لشکر کا سب سے معروف سپہ سالار ضحاک، سے مقابلہ کر اسے ڈھیر کیا تھا۔
علی(ع) کی شہادت کے بعد حجر بن عدی 
جب امام علی(ع) کو مسجد کوفہ میں شہید کردیا گیا اور آپ کے فرزند ارجمند امام مجتبیٰ(ع) کو بھی ناچار ہوکر صلح کرنا پڑی، علی کا یہ وفادار صحابی باوجود اس کے کہ امام حسن کے سپاہیوں کی بے بصیرتی اور حماقت سے غمزدہ تھا لیکن امام مجتبیٰ کے احترام میں آپ کے سامنے خاموش بیٹھا اور اس فکر میں تھا کہ کیسے ممکن ہو امام (ع) ان چند معدودے اصحاب پر ہی اعتماد کرتے ہوئے معاویہ سے جنگ جاری رکھیں۔ اور یہ وہی فکر تھی کہ جسے  خود امام حسن(ع) بھی پسند کرتے تھے لیکن حالات اتنے پرآشوب ہوچکے تھے کہ علی(ع) کے اس بیٹے کے سامنے صلح کے علاوہ کے علاوہ اب کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں رہ گیا تھا۔
چنانچہ خدمت امام حسن(ع) میں حاضر ہوکر عرض کیا: فرزند رسول! اے کاش میں یہ دن دیکھنے سے پہلے مرجاتا آپ نے ہمارا سخت امتحان لے لیا ہے ہمیں اہل عدل کے زمرے سے نکال کر ارباب جور میں داخل کردیا ہے، ہمارا ایک دوسرے پر جو حق تھا ہم نے اسے نظرانداز کردیا  اور ہم اس باطل سے روبرو ہورہے ہیں جس سے ہم ہمیشہ کنارہ کش رہے ہیں اور ہم نے اس ذلت کو قبول کرلیا ہے جس کے ہم کبھی حقدار نہ تھے‘‘۔
حجر بن عدی کا کلام بہت تند تھا لیکن اس کے باوجود امام حسن(ع) نے حالات کی آشفتگی اور معاویہ سے صلح کرنے کے اسباب کو ان کے سامنے واضح کیا لیکن حجر قانع نہ ہوپائے پھر وہ امام حسین(ع) کی خدمت میں پہونچے تاکہ آپ جنگ کا حکم دیں اور معاویہ کے خلاف جنگ جاری رکھی جاسکے۔
امام حسین(ع) نے بھی اپنے بھائی کی باتوں کی تائید کی اور حجر کو امام حسن(ع) کی اطاعت پر وادار کیا آخر کار حجر بن عدی نے قبول کرلیا۔اور اپنے اماموں کی مصلحت کو اپنی خواہش پر ترجیح دی۔ چونکہ حجر اس دن کا بڑی شدت سے انتظار کررہے تھے کہ جس کا وعدہ امیرالمؤمنین(ع) نے ان سے کیا تھا یعنی اپنی شہادت کا انتظار ، لہذا اپنے محکم ارادے کے ساتھ حجر علی کی محبت اور پیروی پر ثابت قدم رہے۔
حجر بن عدی کی دردناک شہادت
معاویہ کی طرف سے امام حسن علیہ السلام پر تھونپی ہوئی صلح کے بعد بنی امیہ کے تمام نمک خوار گورنروں اور والیوں کی طرف سے ہر شہر میں شیعوں اور علی(ع) کے چاہنے والوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جانے لگا چنانچہ انہیں ظالم و سنگدل حکمرانوں میں سے ایک مغیرہ بھی تھا کہ جو حجر بن عدی کی فضیلت اور شہرت سے بخوبی آگاہ تھا اور بہت سی مرتبہ خود وہ اس کا اقرار بھی کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں اس شہر کے بہترین لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین نہیں کرنا چاہتا تاکہ وہ اپنے معبود کی بارگاہ میں بھی سرخ رو ہوجائیں اور میں پشیمان قرار پاؤں! پھر اس کے بعد وہ(مغیرہ) کہتا ہے کہ حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرکے معاویہ دنیا میں عزت و اقتدار حاصل کرلے گا لیکن مجھ مغیرہ کے حصہ میں سوائے بدبختی کے کوئی اور چیز نہیں آئے گی۔
چنانچہ امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد عراق و حجاز کے اشراف و بزرگوں کی رفت و آمد امام حسین علیہ السلام کے یہاں زیادہ بڑھ گئی چونکہ معاویہ اور اس کے گورنروں کی طرف سے مسلسل کوفہ اور پوری مملکت میں پھیلے ہوئے شیعوں کے تئیں اموی نفرت کی ہوائیں بڑی شدت کے ساتھ چل رہی تھیں اور معمولی معمولی چیزوں کو بہانا بنا کر شیعوں کی معروف شخصیتوں کو قتل کیا جارہا تھا کہ جن میں ایک حجر بن عدی بھی تھے۔
چنانچہ جب جناب حجر کو قتل کرنا چاہتے تھے تو آپ نے ان سے اجازت لی اور دو رکعت نماز پڑھنا شروع کی آپ نے نماز کو بڑے خضوع و خشوع کے ساتھ پڑھا۔ جب نماز پڑھتے ہوئے کچھ دیر ہوگئی دشمن نے کہا کہ کہیں تم موت کے خوف کی وجہ سے تو نماز کو طول نہیں دے رہے ہو؟ آپ نے نماز سے فارغ ہوکر فرمایا:’’خدا کی قسم! میں نے زندگی میں جب بھی وضو کیا دو رکعت نماز ضرور پڑھی اور آج تک اتنی مختصر نماز میں نے کبھی ادا نہیں کی تاکہ تم یہ خیال نہ کربیٹھو کہ حجر موت سے ڈرتا ہے اور اس کے بعد فرمایا میری شہادت کے بعد میرے ہاتھ  اور پاؤں سے زنجیر مت کھولنا اور میرے جسم سے خون بھی صاف نہ کرنا چونکہ میں چاہتا ہوں قیامت کے دن، معاویہ سے میرا سامنا اسی حالت میں ہو‘‘!۔
جناب حجر کی شہادت کے اثرات
جناب حجر کی شہادت نے پوری اسلامی مملکت کے لوگوں کے دلوں کو داغدار بنا دیا جس کے سبب تمام گوشہ و کنار سے اموی حکومت کے خلاف لوگوں میں غم و غصہ پیدا ہوگیا چنانچہ جب حج کے موقع پر جناب عائشہ نے معاویہ سے ملاقات کی تو اس سے کہا:’’ تونے کیوں حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا اور اپنی بردباری کا مظاہرہ نہ کیا؟ میں نے رسول اللہ(ص) سے سنا آپ نے فرمایا تھا ’’مرج عذراء‘‘ نامی جگہ پر ایک گروہ کو بے دردی سے قتل کیا جائے گا کہ آسمان کے فرشتے ان کے قتل پر آنسو بہائیں گے ‘‘ ۔ معاویہ نے اپنے قبیح و شنیع فعل کو توجیہ کرتے ہوئے کہا: جب میں نے ایسا کیا میرے پاس کوئی عقلمند اور دور اندیش آدمی نہیں تھا جو مجھے اس کام سے منع کردیتا۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین