Code : 1122 14 Hit

سلفی کن لوگوں کو کہا جاتا ہے؟

سلفیہ،حنبلی مذہب کے پیروکاروں کا ایک گروہ تھا جو چوتھی صدی ہجری میں وجود میں آیا، یہ لوگ اپنے اعتقادات کو احمد حنبل کی طرف نسبت دیتے تھے، لیکن بعض حنبلی علماء نے اس نسبت کے سلسلے میں اعتراضات کئے ہیں۔یہ لوگ خود کو اس وجہ سے سلفیہ کہتے تھے اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ لوگ اپنے اعمال و اعتقادات میں سلف صالح یعنی اصحاب پیغمبر اکرم(ص) اور تابعین(یعنی وہ لوگ جنہوں نے اصحاب رسول(ص) کا زمانہ دیکھا اور ان سے ملاقات کی) کی پیروی کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل: محمد بن عبد الوہاب کے عقائد اور نظریات کے بارے میں تفصیلی بحث کرنے سے پہلے مناسب بلکہ ضروری ہے کہ ہم سلفیہ اور سلفیوں کے بارے میں کچھ جان لیں کہ جو وہابیت کی اصل اور بنیاد ہے۔
سلفیہ،حنبلی مذہب کے پیروکاروں کا ایک گروہ تھا جو چوتھی صدی ہجری میں وجود میں آیا، یہ لوگ اپنے اعتقادات کو احمد حنبل کی طرف نسبت دیتے تھے، لیکن بعض حنبلی علماء نے اس نسبت کے سلسلے میں اعتراضات کئے ہیں۔
یہ لوگ خود کو اس وجہ سے سلفیہ کہتے تھے اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ لوگ اپنے اعمال و اعتقادات میں سلف صالح یعنی اصحاب پیغمبر اکرم(ص) اور تابعین(یعنی وہ لوگ جنہوں نے اصحاب رسول(ص) کا زمانہ دیکھا اور ان سے ملاقات کی) کی پیروی کرتے ہیں۔
اس زمانہ میں سلفیوں اور فرقہ اشاعرہ کے درمیان کافی جھگڑے اور بحثیں ہوتی رہتی تھیں اور دونوں فرقے کہتے تھے کہ ہم مذہب سلف صالح کی طرف دعوت دیتے ہیں۔
سلفیہ، فرقہ معتزلہ کے طریقہ کی مخالفت کرتا تھا، کیونکہ معتزلہ اپنے اسلامی عقائد کو یونانی منطق سے متأثر فلاسفہ کی روش بیان کرتے تھے، اور سلفیہ یہ چاہتے تھے کہ اسلامی عقائد اسی طریقہ سے بیان ہوں جو اصحاب اور تابعین کے زمانہ میں تھا یعنی جو مسئلہ بھی اسلامی اعتقاد کے متعلق ہو اس کو قرآن وحدیث کے ذریعہ حل کیا جائے اور علماء کو قرآن مجید کی دلیلوں کے علاوہ دوسری دلیلوں میں غور وفکر سے منع کیا جائے۔
سلفیہ چونکہ اسلام میں عقلی اور منطقی طریقوں کو جدید مسائل میں شمار کرتے تھے جو صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نہیں تھے لہٰذا ان پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے، اور صرف قرآن و حدیث کی نصوص اور ان نصوص سے سمجھی جانے والی دلیلوں کو قبول کرتے تھے، ان کا ماننا یہ تھا کہ ہمیں اسلامی اعتقادات اور دینی احکام میں چاہے وہ اجمالی ہوں یا تفصیلی، چاہے وہ بعنوان اعتقادات ہوں یا بعنوان استدلال قرآن کریم اور اس سنت نبوی جو قرآنی ہو اور وہ سیرت جو قرآن وسنت کی روشنی میں ہو، کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے۔
سلفیہ دوسرے فرقوں کی طرح توحید کو اسلام کی پہلی اصل مانتے تھے، لیکن بعض امور کو توحید کے منافی جانتے تھے جن کو دوسرے اسلامی فرقے قبول کرتے تھے مثلاً کسی مخلوق کے ذریعہ خدا کی بارگاہ میں توسل کرنا یا اس کو وسیلہ قراردینا، حضرت پیغمبر اکرم (ص) کے روضۂ مبارک کی طرف منھ کرکے زیارت کرنا، اور روضۂ اقدس کے قرب و جوار میں شعائر (دینی امور) کو انجام دینا یا کسی نبی اللہ یا اولیاء اللہ کی قبر پر خدا کو پکارنا وغیرہ جیسے امور کو توحید کے مخالف سمجھتے تھے اور یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ یہ امور(مذکورہ امور کو توحید کے مخالف سمجھنا) سلف صالح کا مذہب ہے اور اس کے علاوہ تمام چیزیں بدعت ہیں جو توحید کے مخالف اور منافی ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम