Code : 3030 63 Hit

شیعوں کو شعہ کب سے کہا جاتا ہے؟

مذکورہ احادیث سے بخوبی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ علی(ع) کے چاہنے والوں اور ان کا اتباع کرنے والوں کو سب سے پہلے پیغمبراکرم(ص) نے ہی ’’شیعہ ‘‘کہا ہے۔ چونکہ یہ اصطلاح عہد رسالتمآب(ص) میں معروف ہوچکی تھی لہٰذا رحلت پیغمبر(ص)کے بعد بھی رائج رہی۔ چنانچہ مسعودی نے سقیفہ سے متعلق واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:’’سقیفہ میں ابوبکر کی بیعت کا معاملہ ختم ہونے کے بعد امام علی(ع) اور آپ کے کچھ ’’شیعہ ‘‘ان کے گھر میں جمع ہوگئے‘‘۔

ولایت پورٹل: امیرالمؤمنین حضرت علی(ع)کا اتباع، آپ کو دیگر اصحاب پیغمبر سے افضل و برتر تسلیم کرنے اور آپ کی ذات گرامی سے محبت و مودت کا اظہار کرنے والے مسلمانوں کو شیعہ کہے جانے کی تاریخ بہت قدیم ہے اس کا تعلق عہد رسالتمآب(ص)سے ہے شیعہ و سنی محدثین نے پیغمبر اکرم(ص) سے جو احادیث اس سلسلہ میں نقل کی ہیں ان سے صاف طور پرظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی(ع)کے پیروکار اور چاہنے والوں کو خود حضورختمی مرتبت(ص)نے ’’شیعہ‘‘ فرمایا ہے۔ جلال الدین سیوطی نے آیۂ کریمہ:’’إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ‘‘۔(۱)کی تفسیر میں جابر بن عبد اللہ انصاری اور عبد اللہ ابن عباس سے پیغمبر اکرم(ص)کی روایتیں نقل ہیں کہ ہے آپ(ص) نے حضرت علی(ع)کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:’’والذی نفسی بیدہ ان ھذا و شیعتہ ھم الفائزون یوم القیامۃ‘‘۔(۲) یہ اور ان کے شیعہ روز قیامت کامیاب ہوں گے۔
ابن اثیر نے حضور ختمی مرتبت (ص)سے روایت کی ہے کہ آنحضرت(ص)نے حضرت علی(ع) سے خطاب کرکے فرمایا:’’ستقدم علی اللہ انت و شیعتک راضین مرضیین و یقدم علیہ عدوک غضبانا مقمحین‘‘۔(۳)۔ تم اور تمہارے شیعہ روز قیامت خدا کی بارگاہ میں اس حالت میں وارد ہوں گے کہ خدا ان سے راضی وہ خدا سے راضی اور تمہارے دشمن روز قیامت اذیت و شرمندگی کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔
ایسی ہی روایت شبلنجی نے بھی اپنی کتاب نور الابصار میں نقل کی ہے ۔(۴)سیوطی نے ایک اور روایت ابن مردویہ کے واسطے سے حضرت علی(ع)سے نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرم(ص)نے حضرت علی(ع)سے فرمایا: اس آیت:’’ان الذین آمنوا و عملوا الصالحات اولئک ھم خیر البریۃ‘‘ سے مراد تم اور تمہارے شیعہ ہیں ۔ میرا ،تمہاراوعدہ حوض (کوثر)ہے جب امتیں حساب کے لئے لائی جائیں گی تم مسرور اور سرافراز ہوگے:’’انت و شیعتک موعدی و موعدکم الحوض اذا جائک الامم للحساب تدعون غرا محجلین‘‘۔ (۵)ابن حجر ام سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ام سلمہ نے کہا:رسول اکرم(ص) میرے پاس تھے ۔ فاطمہ زہرا(س) اور ان کے بعد علی(ع) پیغمبر کی خدمت میں آئے پیغمبر نے حضرت علی(ع)سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا:’’یا علی انت و اصحابک فی الجنۃ ،انت و شیعتک فی الجنۃ‘‘۔(۶)
خطیب خوارزمی اپنی کتاب ’’المناقب ‘‘میں حضرت علی بن ابی طالب(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ:’’جب رسول اکرم(ص) معراج کے لئے تشریف لے گئے اور داخل بہشت ہوئے تو وہاں آپ نے ایک درخت دیکھا جسے مختلف قسم کی زینتوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ پیغمبر(ص) نے جبرئیل سے دریافت کیا یہ درخت کس کے لئے ہے؟ جبرئیل نے جواب دیا: آپ کے ابن عم علی ابن ابی طالب(ع)کی ملکیت ہے جب خدا اہل بہشت کو جنت میں داخل کرے گا تو شیعیان علی(ع)کو اس درخت کے نزدیک لایا جائے گا اور وہ لوگ اس درخت کی زینت و آرائش سے مستفید ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا دے گا کہ یہ افراد علی ابن ابی طالب(ع)کے شیعہ ہیں انہوں نے دنیا میں اذیتوں پر صبر کیا تھا اب اس کے صلہ میں انہیں یہ ہدایا دیئے گئے ہیں ۔(۷)
انہوں نے دوسرے مقام پر جابر سے روایت کی ہے کہ ’’ہم لوگ پیغمبر(ص)کی خدمت میں تھے اتنے میں علی ابن ابی طالب وارد ہوئے پیغمبر(ص) نے ہم لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا:’’اتاکم اخی‘‘پھر کعبہ کی طرف رخ کرکے فرمایا: ’’خدا کی قسم’’ان ھذا و شیعتہ ھم الفائزون یوم القیامۃ‘‘۔(۸)
اہل سنت کی کتب میں اس سلسلہ میں دیگر روایات بھی موجود ہیں جن کا نقل کرنا طول کلام کا باعث ہوگا صرف مذکورہ روایات ہی ہمارے مقصود کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔(۹)
ان احادیث سے بخوبی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ علی(ع) کے چاہنے والوں اور ان کا اتباع کرنے والوں کو سب سے پہلے پیغمبراکرم(ص) نے ہی ’’شیعہ ‘‘کہا ہے۔ چونکہ یہ اصطلاح عہد رسالتمآب(ص) میں معروف ہوچکی تھی لہٰذا رحلت پیغمبر(ص)کے بعد بھی رائج رہی۔ چنانچہ مسعودی نے سقیفہ سے متعلق واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:’’سقیفہ میں ابوبکر کی بیعت کا معاملہ ختم ہونے کے بعد امام علی(ع) اور آپ کے کچھ ’’شیعہ ‘‘ان کے گھر میں جمع ہوگئے‘‘۔(۱۰)
امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) جنگ جمل کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:’’اصحاب جمل نے بصرہ میں میرے شیعوں پر حملہ کردیا کچھ کو دھوکہ سے شہید کردیا اور کچھ ان کے ساتھ مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے  اور آخر کار جام شہادت نوش کیا:’’وثبوا علی شیعتی فقتلوا طائفۃ منھم غدراً وطائفۃ عضوا علیٰ اسیافھم فضاربوا بھا حتیٰ لقوا اللہ صادقین‘‘۔(۱۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ بینہ:۷ ۔
۲۔الدر المنثور ج۸، ص۵۳۸، مطبوعہ دار الاحیاء التراث العربی ۔
۳۔النہایہ ، ج۴، ص۱۰۶، الاقماج: رفع الراس وغض البصر ،یقال اقمحہ الغل :اذا ترک راسہ مرفوعاً من ضیقہ‘‘۔
۴۔نور الابصار ص۱۵۹، منثورات الرضی۔
۵۔الدر المنثورج۸، ص۵۳۸۔
۶۔الصواعق المحرقہ ،ص۱۶۱، مطبوعہ مکتبۃ القاہرہ۔
۷۔المناقب فصل ۶، ص۷۳، حدیث ۵۲، مطبوعہ موسسہ النشر الاسلامی ، قم۔
۸۔المناقب فصل نہم ص۱۱۱، حدیث ۱۳۰۔
۹۔تاریخ الشیعہ ، ص۴تا۸ ، اور بحوث فی الملل و النحل ، ج۶ ، ص۱۰۲تا۱۰۶ملاحظہ فرمائیں۔
۱۰۔اثبات الوصیۃ ، ۱۲۱،النجف۔
۱۱۔نہج البلاغہ ، خطبہ /۲۱۸۔
 




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम