Code : 3443 31 Hit

رمضان المبارک میں ہمیں اللہ سے کیا دعا کرنی چاہیئے؟

قرآن کے تئیں ہم بہت غفلت کا شکار ہیں۔آج بھی ہماری قوم کے لاکھوں جوان ایسے ہیں جو ظاہری طور پر تلاوت قرآن نہیں کرسکتے۔رمضان المبارک کو روایات میں قرآن کی بہار کہا گیا ہے۔اس مہینے میں ہم سب کی کوشش ہونا چاہیے کہ ہم قرآن کی طرف رجوع کریں۔قرآن کی تلاوت کریں ،اس کی کچھ آیتوں میں ہی صحیح غور و فکر کی کوشش کریں،اسے مردوں کے بجائے زندہ انسانوں کی کتاب بنائیں۔کوشش کریں کچھ ایسا کریں کہ کل قیامت میں قرآن ہماری شکایت نہ کرے کہ ہم نے اسے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! خطبہ شعبانیہ رسول اللہ(ص) سے منسوب بہت ہی عظیم مفاہیم پر مشتمل خطبہ ہے جس میں آپ نے رمضان المبارک کی فضیلت اور اللہ تعالی کی مہمانی کے آداب بتلائے ہیں  جن آداب کو رمضان المبارک میں زیادہ اہمیت دینا چاہیئے اور جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا مہمان بنایا ہے۔چنانچہ سرکار نے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا:" فَاسأَلُوا اللّه َ رَبَّکُم بِنِیّاتٍ صادِقَةٍ وقُلوبٍ طاهِرَةٍ أن یُوَفِّقَکُم لِصِیامِهِ وتِلاوَةِ کِتابِهِ ؛ فَإِنَّ الشَّقِیَّ مَن حُرِمَ غُفرانَ اللّه ِ فی هذَا الشَّهرِ العَظیمِ "۔ اے بندگان خدا! تم اللہ کی بارگاہ میں سچی نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ دعا کرو کہ وہ تمہیں اس مہینے کے روزوں اور تلاوت قرآن کی توفیق عنایت فرمائے۔بے شک جو اس عظیم مہینے میں نہ بخشا جائے وہ بدبخت انسان ہے۔
دعا کیا ہے؟
دعا کا عام تصور یہ ہے کہ جب انسان مشکلات میں گرفتار ہو،اس کے دل میں حاجتیں اور آرزئیں  ہوں اور پریشانیوں نے اسے گھیر رکھا ہو تو وہ خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔لیکن یہ دعا کا ایک سطحی مفہوم ہے۔دعا درحقیقت ایک کمزور اور عاجز مخلوق کا  اس عظیم ہستی کے ساتھ مسلسل رابطے کا نام ہے، جو سرچشمہ قدرت ہے۔
انسان  ایک ایسی مخلوق ہے جو  کمزور اور محتاج ہے،شروع سے آخر تک  اگر ہم انسان کو دیکھیں تو وہ سراپا محتاج اور کمزور نظر  آئے گا ۔
ایک وقت تھا جب انسان کا کوئی وجود نہیں تھا اور  وہ قابل ذکر بھی نہیں ہے’’هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا‘‘۔(سورہ انسان:آیت1)
پھر جب باپ کے صلب میں نطفے کی شکل میں آیا تو ایک نجس چیز تھا۔’’أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَ ‘‘۔(سورہ قیامت:آیت 37)
پھر خدا نے اسے رحم مادر میں قرار دیا جہاں اس کا کوئی اختیار نہیں تھا’’ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ‘‘۔(سورہ مومنون:13)
پھر دنیا میں آیا تو ایک ناتواں بچے کی شکل میں آیا۔’’ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ‘‘۔(سورہ غافر:آیت67)
اس کے بعد بھی یہ رشد و نمو کے مختلف مراحل میں اپنے والدین اور دوسروں کا محتاج تھا۔
اس کے بعد زندگی کے تمام مراحل میں بلاؤوں اور مصیبتوں میں کمزور نظر آتا ہے۔
موت کے بعد اسے کچھ دن کے لئے یوں ہی چھوڑ دیا جائے تو ایک بدبودار مردار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ان تمام مراحل میں اگر آپ ملاحظہ کریں تو ایک چیز آپ کو واضح طور پر نظر آئے گی اور وہ یہ ہے کہ انسان کمزورا ور محتاج ہے۔
دوسری طرف ایک ایسی ہستی ہے جو کبھی،کسی طرح سے بھی کسی کی محتاج نہیں ہے بلکہ ہمیشہ بے نیاز ہے۔
انسان کو اپنے وجود سے لے کر زندگی کے ہر مرحلے میں بلکہ موت کے بعد بھی ایک ایسی ہستی کے ساتھ رابطے اور تعلق کی ضرورت ہے جو قدرت و طاقت کا سرچشمہ ہو۔ اور وہ خدا کے سوا کوئی  اورنہیں ہے۔
دعا کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اس بات کو سمجھ لے کہ وہ محتاج محض ہے اور اسے اپنے وجود کی بقا اور اپنے تحفظ کے لئے قدرت محض کی ضرورت ہے۔جب انسان اسے سمجھ لے گا تو  نہ صرف سختیوں میں خدا کو پکارے  گا بلکہ آسانیوں میں بھی اس کی ضرورت محسوس کرے گا اور نہ صرف حاجتوں میں اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے گا بلکہ خود کو فقیر محض اور اسے غنی مطلق جان کر اپنا رابطہ ہمیشہ اس سے جوڑے رکھے گا۔
دعا کی اہمیت کے سلسلے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔پیغمبر اکرم(ص)فرماتے ہیں:"اَلدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ وَ لَا یَهلِکُ مَعَ الدُّعَاءِ اَحَدٌ"(بحار الانوار/ج90/ص300) دعا عبادت کا مغز اور اس کی روح ہے۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:’’مَا مِن شَیءٍ اَحَبُّ اِلیٰ اللهِ مِن اَن یُّسأَلَ‘‘۔(تحف العقول/ص282)خدا کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اس کے سامنے دست سوال پھیلائے۔
مختصر یہ کہ دعا ،خدا کے سامنے انسان کے تواضع،اظہار ذلت اور بندگی کا نام ہے اور دعا کی ضرورت سے انکار یا اس سے خود کو بے نیاز سمجھنا انسان کے متکبر ہونے کی نشانی ہے۔جبکہ اس کی خدا کے سامنے کوئی حیثیت اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔
دعا کی شرطیں
دعا کے لئے دو اہم شرطیں بیان کی گئی ہیں:
۱۔صدق نیت
دعا کی بنیادی  شرط  ،نیت کی سچائی ہوتی  ہے ۔اور صدق نیت  دو پہلو سے  اجاگر ہوتی ہے:
الف: نیت کی سچائی کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان صرف خدا پر امید رکھے اور خدا کے علاوہ کسی دوسرے سے امید نہ رکھے۔امام صادقؑ فرماتے ہیں:’’ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُم أَن لَّا يَسأَلَ رَبَّه شَيئاً إِلَّا أَعطَاهُ فَليَيأَسْ مِنَ النَّاسِ كُلِّهِم وَ لاَ يَكُونَ لَه رَجَاءٌ إِلاَّ عِندَ اللهِ فَإِذَا عَلِمَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ ذَالِكَ مِن قَلبِهِ لَم يَسأَلَ اللهَ شَيئاً إَلَّا أَعطَاهُ ‘‘(الکافی،ج۲،ص۱۴۸) تم میں  جو بھی چاہتا ہے کہ وہ جب خدا سے دعا کرے اور خدا اسے عطا کرے تو خدا کے علاوہ سب سے ناامید ہوجائے  اور صرف خدا پر امید رکھے،جب  خدا اس کے دل میں یہ چیز دیکھے گا تو اس کی ہر دعا قبول کرے گا۔
ب: صدق نیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان  استجابت دعا پر یقین رکھے۔زبان پر حرف دعا ہو اور دل میں یقین نہ ہوتو دعا کے  قبول ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انسان زبان سے دعا کررہا ہو اور دل میں شک ہو کہ معلوم نہیں دعا سنی بھی جائے گی یا نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دعا نہیں کررہا ہے بلکہ صرف آزما رہا ہے ،مانگ کے دیکھتے ہیں  کہ ملتا ہے یا نہیں۔چھٹے امامؑ فرماتے ہیں:’’إِنَّ اللهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَا يَستَجِيبُ دُعَاءاً بِظَهرِ قَلبٍ سَاهٍ فَإِذَا دَعَوتَ فَأَقبِلْ بِقَلبِكَ ثُمَّ اسْتَيْقِنْ بِالإِجَابَةِ ‘‘(الکافی،ج۲،ص۴۷۳) خدا غافل دل  کی ظاہری دعا کو قبول نہیں کرتا،اس لئے جب بھی خدا کی بارگاہ میں دعا کرو تو پہلے دل کو اس کی طرف متوجہ کرو اور پھر قبولیت کا یقین رکھو۔
۲۔ دل کی پاکیزگی
دل کا پاک  ہونا دعا کی  دوسری شرط  ہوتی ہے ۔پاک دل ہونے  کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل کینوں،نفرتوں،حسد،بدگمانیوں ،خواہشات کی گندگیوں سے پاک ہو۔گناہان کبیرہ اور لقمہ حرام کی سیاہی اس پر نہ چڑھی ہو۔روایات میں ہے کہ حرام کے ایک لقمے کا اثر یہ  ہوتا ہے کہ چالیس دن تک انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔اب اگر کسی کا ذریعہ معاش ہی حرام ہو یا اس کے مال میں حرام بھی ملا ہو تو اس کے دل و روح کا کیا حال ہوگا۔وہ کس طرح خدا کی بارگاہ میں جائے گا اور کس طرح خدا سے توقع رکھ پائے گا کہ  وہ  اس کی دعائیں قبول کرلے۔
ماہ رمضان المبارک ان دونوں کی مشق کا نام ہے۔انسان اس میں صدق نیت کی بھی مشق کرسکتا ہے اور پاکیزگی قلب کی بھی ۔انسان صدق دل سے روزہ رکھے،صدق دل سے قرآن پڑھے،صدق دل سے دعا کرے،صدق دل سے خیرات کرے۔ اور جہاں حلال چیزوں سے بھی اس نے خود کو روک رکھا ہے وہیں ارادہ کرے کہ  وہ حرام چیزوں کو زندگی سے دور کرے گا۔اپنا مال پاک کرے گا،اپنا دل پاک کرے گا،اپنی زبان پاک کرےگا۔یہ کوششوں کا مہینہ ہے،اس سے بہتر موقع انسان کو نہیں مل سکتا ،کیونکہ دل بھی کافی حد تک نیکیوں کی جانب مائل اور برائیوں سے دور ہوتا ہے۔
روزہ  داری اور تلاوت قرآن کی توفیق
۔رسول خدا(ص)نے اپنے خطبے میں دو چیزوں کی توفیق کے لئے دعا پر خصوصی تأکید  فرمائی ہے:
۱۔روزہ کی توفیق۔
روزےکی توفیق کا ایک مطلب یہ ہے کہ انسان دعا کرے کہ خدا اسے صحت و عافیت عطا کرے تاکہ وہ روزہ رکھ سکے۔کیونکہ ممکن ہے کوئی ایسی مشکل پیش آجائے جس کی وجہ سے وہ روزہ رکھنے سے محروم  رہ جائے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا سے یہ چاہے کہ وہ صرف بھوک پیاس کا روزہ نہ رکھے بلکہ حقیقی روزہ رکھ سکے،یعنی  اس کے تمام اعضاو جوارح  بھی اس کے اس عمل ( روزہ) میں اس کے شریک ہوں۔
کہتے ہیں ایک بوڑھے کو چند جوانوں  نے  ماہ رمضان میں کچھ کھاتے ہوئے دیکھ لیا تو انہوں نے اس بوڑھے کو گھیر لیا اور پوچھا:چچا آپ نے روزہ نہیں رکھا ،آرام سے کھا پی رہے ہیں؟ بوڑھے نے جواب دیا : میں تو روزے سے ہوں بس میرے پیٹ کا روزہ نہیں ہے۔ جوانوں کو اس کی بات سمجھ میں نہ آئی۔انہوں نے وضاحت طلب کی:چچا یہ کیا آپ کھا پی رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں روزے سے ہوں ۔بوڑھے نے جواب دیا: یہ آنکھیں کسی نامحرم کو نہیں دیکھتیں،یہ کان کسی کی غیبت نہیں سنتے،یہ زبان کسی کی برائی نہیں کرتے،یہ ہاتھ کسی پر ظلم نہیں کرتے،یہ پیر برائی کی طرف نہیں بڑھتے یہ  سب روزے سے ہیں،لیکن میرا جسم بھوک اور پیاس برداشت نہیں کرسکتا،اس لئے پیٹ کا روزہ نہیں ہے۔
اس کے بعد بوڑھے نے  پلٹ کر جوانوں سے پوچھا: تم میں سے کون روزے سے ہے؟ جوانوں نے جواب دیا: ہم روزے سے نہیں ہیں ،بس ہم   کھاپی نہیں رہے ہیں۔
 حقیقی روزہ یہی ہے کہ انسان کے تمام اعضا و جوارح گناہوں سے دور ہوں  اور ایسا روزہ خدا کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے،جس کے لئے دعا بہت ضروری ہے۔
۲۔تلاوت قرآن کی توفیق
دوسری دعا یہ ہونا چاہیے کہ انسان کو تلاوت قرآن،اس کی آیات میں تدبر اور اس پر عمل کی توفیق نصیب ہو۔قرآن کے تئیں ہم بہت غفلت کا شکار ہیں۔آج بھی ہماری قوم کے لاکھوں جوان ایسے ہیں جو ظاہری طور پر تلاوت قرآن نہیں کرسکتے۔رمضان المبارک کو روایات میں قرآن کی بہار کہا گیا ہے۔اس مہینے  میں ہم سب کی کوشش ہونا چاہیے کہ ہم قرآن کی طرف رجوع کریں۔قرآن کی تلاوت کریں ،اس کی کچھ آیتوں میں ہی صحیح غور و فکر کی کوشش کریں،اسے مردوں کے بجائے زندہ انسانوں کی کتاب بنائیں۔کوشش کریں کچھ ایسا کریں کہ کل قیامت میں قرآن ہماری شکایت نہ کرے کہ ہم نے اسے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
پروردگار ہمیں توفیق عنایت فرمائے ایسی روزہ داری اور تلاوت قرآن کی اور اس کے نتیجے میں ہماری مغفرت فرمائے۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین