Code : 3364 50 Hit

ماہ شعبان المعظم کے متعلق آیت اللہ خامنہ ای کی نصیحتیں

ماہ شعبان اللہ کی ایک نعمت ہے لہذا ہمیں اس کا قدر شناس ہونا چاہیئے ۔ اس مہینہ کا ہر لمحہ اکسیر کی مانند ہے کہ جو انسان کی روح و قلب کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے اور بندے کو رب کریم سے نزدیک کردیتا ہے۔ یہ مہینہ رجب کی طرح رمضان المبارک میں داخل ہونے کی دہلیز ہے۔ ان دونوں میں نماز و دعاؤں کا اہتمام کرنا اللہ سے قربت کا سبب ہے۔رمضان المبارک الہی ضیافت کا مہینہ ہے جس میں ایک خاص قسم کی تیاری و آمادگی درکار ہوتی ہے لہذا اس ضیافت سے استفادہ کرنے کے لئے مکمل آمادگی و تیاری انہی ایام کی جاتی ہے اور ان لمحات سے بھرپور استفادہ کریں اور انہیں اپنی زندگی کا عظیم سرمایہ قرار دیں۔

ولایت پورٹل: شعبان المعظم ان مہینوں میں سے ہے جن کے لئے مؤمنین کے دلوں میں خاص احترام و عظمت پائی ہے اور سالکان راہ خدا اور بندگان صالح اس مہینہ سے بہت مانوس ہوتے ہیں۔ اس مہینہ کی دیگر عظمتوں کو چھوڑتے ہوئے جن کا تذکرہ معصومین علیہم السلام کی سیرت میں ہمیں نظر آتا ہے ایک اس مہینہ میں حضرت حجت(عج) کی ولادت کا واقع ہونا ہے جس سے اس مہینہ کی عظمت میں چار چاند لگ جاتے ہیں اور اس کی سیادت و کرامت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ (ص) کا ارشاد گرامی ہے:’’ شعبان شهری، رحم الله من اعاننی علی شهری"۔ (مصباح المجتهد، ج. ۲، ص) شعبان میرا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم نازل کرے جو میری اس مہینہ میں مدد کرے۔
ماہ شعبان اللہ کی ایک نعمت ہے لہذا ہمیں اس کا قدر شناس ہونا چاہیئے ۔ اس مہینہ کا ہر لمحہ اکسیر کی مانند ہے کہ جو انسان کی روح و قلب کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے اور بندے کو رب کریم سے نزدیک کردیتا ہے۔ یہ مہینہ رجب کی طرح رمضان المبارک میں داخل ہونے کی دہلیز ہے۔ ان دونوں میں نماز و دعاؤں کا اہتمام کرنا اللہ سے قربت کا سبب ہے۔رمضان المبارک الہی ضیافت کا مہینہ ہے جس میں ایک خاص قسم کی تیاری و آمادگی درکار ہوتی ہے لہذا اس ضیافت سے استفادہ کرنے کے لئے مکمل آمادگی و تیاری انہی ایام کی جاتی ہے اور ان لمحات سے بھرپور استفادہ کریں اور  انہیں اپنی زندگی کا عظیم سرمایہ قرار دیں۔
اس مہینے( شعبان المعظم) میں روزہ رکھنا عام مہینوں میں روزہ رکھنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور اس مہینے کے روزوں کے سلسلہ سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام  فرماتے ہیں: جب سے میں نے منادی حق( سرکار ختمی مرتبت(ص) کی اس مہینہ می روزہ رکھنے کی ندا کو سنا کبھی بھی روزہ ترک نہیں کیا اور اگر توفیق خدا شامل حال رہی تو  پوری زندگی اس پر عمل کرتا رہوں گا۔
ماہ شعبان انسانی کرامتوں میں اضافہ و ترقی کا مہینہ ہے چنانچہ صلوات شعبانیہ میں اس امر کی اس طرح وضاحت ہوئی ہے:’’الّذی کان رسول اللَّه صلّی اللَّه علیه و آله و سلّم یدأب فی صیامه و قیامه فی لیالیه و ایّامه بخوعا لک فی اکرامه‘‘۔ اس اکرام کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے قلب و روح کو الاھی اہداف سے نزدیک کریں اور یہ مقدمات اس مہینہ میں دیگر مہینوں کی نسبت زیادہ آمادہ ہیں لہذا توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس ماہ میں مشغول عبادت رہنا چاہیئے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین