Code : 2307 122 Hit

موت سے ڈرنے کی وجوہات؟

موت سے ڈرنے اور خوف کھانے کی تیسری اہم وجہ اعمال کے حساب و کتاب میں دقت و سختی یا نامہ اعمال میں نیکیوں کا نہ ہونا ہے۔ چنانچہ دین اسلام نے اس سبب کو بے اثر کرنے کے لئے ایک مؤمن کے لئے توبہ کا دروازہ کھول دیا ہے اور اسے یہ ضمانت بھی دی ہے کہ اگر سچے دل کے ساتھ توبہ کروگے تو اللہ ضرور تمہاری توبہ کو قبول کرکے تمہارے گذشتہ سارے گناہ معاف کردے گا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! موت ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ موت سے بڑے تو کیا چھوٹے چھوٹے بچے بھی واقف ہوتے ہیں اور خاص طور پر وہ بچے جن کے والدین بچپن ہی میں انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ موت آنی ہے اور ہر ایک کو ایک نہ ایک دن یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہے،لیکن کوئی مرنے کے لئے تیار بھی نہیں ہوتا آخر اس کی علت کیا ہے؟
جبکہ قوی مشاہدات اور بارہا جنازے اٹھانے کے بعد بھی اکثر لوگ اسے کیوں بھول جاتے ہیں یا اسے یاد نہیں کرنا چاہتے اور خود قرآن مجید اور احادیث معصومین(ع) نے جتنی تأکیدات عقیدہ توحید کے بعد موت کے وقوع پذیر ہونے کے متعلق بیان فرمائی ہیں شاید ہی کسی اور عقیدے کے متعلق ہمیں اتنی وضاحت دستیاب ہوں۔قارئین! آئیے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اکثر لوگ موت سے کیوں ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں؟
1۔موت کی حقیقت سے ناواقفیت
دسویں امام حضرت علی نقی علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے کہ جو بستر موت پر پڑا تھا اور موت کے خوف سے بے تاب تھا اور گریہ کررہا تھا فرمایا:’’ یا عبدالله تخاف من الموت لانک لاتعرفه‘‘۔ اے بندہ خدا تم موت سے اس وجہ سے ڈرے ہوئے ہو چونکہ تم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے۔(1) اگر انسان موت کو نابودی، فنا اور زوال تصور نہ کرے بلکہ اسے دار فانی سے دار بقا کی طرف انتقال تصور کرے تو اس کے دل سے ہرطرح کا خوف ختم ہوجائے گا۔ اور پھر اسے موت سے ڈر نہیں لگے گا۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ موت کی حقیقت کو جانتے ہیں وہ کبھی موت سے نہیں ڈرتے بلکہ ان کی نظروں میں موت اپنے رب اور مالک حقیقی کی بارگاہ میں مشرف ہونے کا ذریعہ ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ موت کو شربت کا گھونٹ سمجھ کر پی جاتے ہیں۔
2۔ دنیا سے وابستگی
وہ انسان کہ جو دنیا کی زرق برق اور اسکی چکا چوندھ کا عاشق بن چکا ہے وہ اس دنیا کی لذتوں کو حاصل کرنے اور پانے کے لئے اسی دنیا میں ابدی و دائمی زندگی تلاش کرتا ہے۔ اور ہمیشہ موت کے نام سے گھبراتا ہے۔ چونکہ اسے ایسا لگتا ہے اس کے مرنے سے اس کی تمام خواہشیں دم توڑ دیں گی پھر اسے اس دنیا کی لذتیں نصیب نہیں ہونگی یہی وجہ ہے کہ وہ موت کا نام سننے سے بھی کتراتا ہے۔چنانچہ امام علی علیہ السلام اپنے ایک کلام میں اس دنیا اور اس کی لذتوں کو وقتی اور آخرت اور اس کے اجر و انعامات کو ابدی بتاتے ہیں اور تمام لوگوں میں یہ جذبہ بیدار کرتے ہیں کہ اس فانی اور ختم ہوجانے والی دنیا سے دل نہ لگائیں:’’ أیها الناس إنما الدنیا دار مجاز، و الآخرة دار قرار‘‘۔(2) اے لوگو! دنیا ایک گذرگاہ ہے اور آخرت ہی تمہاری اصلی منزل اور قرار گاہ ہے۔
3۔ اعمال کے حساب و کتاب کا خطرہ
موت سے ڈرنے اور خوف کھانے کی تیسری اہم وجہ اعمال کے حساب و کتاب میں دقت و سختی یا نامہ اعمال میں نیکیوں کا نہ ہونا ہے چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے:’’وَ لا یَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً بِما قَدَّمَتْ أَیْدِیهِمْ وَ اللَّهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِین‘‘۔(سورہ جمعہ:7) اور وہ ہرگز اس کی تمنا نہیں کریں گے اپنے ان (برے) اعمال کی وجہ سے جو وہ آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔
دین اسلام نے اس سبب کو بے اثر کرنے کے لئے ایک مؤمن کے لئے توبہ کا دروازہ کھول دیا ہے اور اسے یہ ضمانت بھی دی ہے کہ اگر سچے دل کے ساتھ توبہ کروگے تو اللہ ضرور تمہاری توبہ کو قبول کرکے تمہارے گذشتہ سارے گناہ معاف کردے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔معاني الأخبار، ص 290۔
2۔نہج البلاغة (للصبحي صالح)، ص320۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम