Code : 2462 88 Hit

سعودی بادشاہ کا بیٹا عمان کیا کرنے گیا ہے؟

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عمان کے دروہ پر اس لیے گئے ہیں تاکہ یمن کی تنظیم انصاراللہ کے ساتھ ملاقات کا منصوبہ بنائیں۔

ولایت پورٹل:سعودی بادشاہ  شاہ سلمان کے بیٹے اور سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع خالد بن سلمان بن عبد العزیز ، پیر کے روز غیر اعلانیہ سفر پر عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچےجہاں انھوں نے سلطان قابوس بن سعید سے ملاقات کی،اگرچہ خالد کے عمان کے سفر کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہ کرتے ہوئے  ، سعودی وزارت دفاع فقط اتنا کہا گیا ہے  کہ خالد بن سلمان عمان کے متعدد عہدیداروں سے ملاقات کریں گے اور دوطرفہ تعلقات ، علاقائی استحکام اور  خطہ میں سلامتی کی صورتحال  پر تبادلہ خیال کریں گے،تاہم ، کچھ غیر سرکاری ذرائع نے سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع کے مسقط کے سفر کو ریاض کی  جانب سے یمن کی انصاراللہ تحریک کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی وجہ قرار دیا ہے،خالد بن سلمان نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ یہ سفر میرے بھائی  اور سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان کی درخواست پر کیا گیا تھا ، اور میں  نے اس سفر کے دوران اپنے بھائی کے  پیغام کو سلطان بن قابوس تک پہنچادیا ہے،انھوں نے مزید لکھا کہ سعودی عرب خطے کی صورتحال پر سلطان قابوس کی بات بھی سننا چاہتا ہے اور ان کی رائے بھی پوچھنا چاہتا ہے،ادھر یمن کے ایک مشہور قلمکار اور صحافی عباس الضالعی نے خالد کے مسقط کے سفر کے بارے میں  لکھا  کہ انھوں نے عمان میں انصاراللہ کے وفد سے ملاقات کی ہے اور عنقریب سعودی عرب انصار اللہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا  اور ان کے سب مطالبات کو مان لے گا،ایک یمنی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ سعودی عرب انصار اللہ سے امن کی بھیک مانگے مسقط گیا ہے اس لیے کہ انصار اللہ اس پر غلبہ حاصل کرچکی ہے۔






0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम