مسجد الاقصی کی آزادی کا کیا مطلب ہے،میری سمجھ سے باہر ہے؟!! سعودی قلمکار

ایک سعودی قلمکار نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟۔

ولایت پورٹل:سعودی اخبارعکاظ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں  سعودی قلمکار فهد الدغیثرنے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں اور عیسائیوں کی موجودگی کو ایک تاریخی واقعہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مسجد اقصی کی آزادی بے معنی ہے، سعودی سعودی قلمکار نے لکھا ہے کہ  میں سمجھ نہیں پایا کہ مسجد اقصی کی آزادی سے کیا مراد ہے؟ ہم اسرائیل کے ساتھ امن کے خلاف سائبر اسپیس میں اس اصطلاح کے استعمال کے مشاہدہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ میڈرڈ آسلو معاہدے کے بعد سے ہی عرب ممالک کی جانب سے قدس شہر کو آزاد کرنے کے تصور پر غور نہیں کیا جا رہا ہے۔
سعودی قلمکار نے اپنے مضمون میں یہودیوں اور صیہونیوں کو ایک ہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یروشلم پر دونوں کے حق کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے مسجد اقصی کی نگرانی کے لئے اقوام متحدہ ، اسلامی تعاون تنظیم ، ویٹیکن اور صیہونی حکومت کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی ہے، سعودی قلمکار کے اس مضمون نے عوامی سطح پر رد عمل کو اتنا مشتعل کیا ہے کہ بہت سے لوگ اسے صہیونی دشمن سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ سعودی وظیفہ خور مفتیوں اور قلمکاروں سے اس سے زیادہ توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے اس لیے کہ ان کے ہر قول وفعل کا مقصد صرف اور صرف امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنا ہے  فلسطینیوں اور مسجد الاقصی  تو دور کی بات ان کے نزدیک اللہ کے گھر اور روضۂ رسول کی کوئی اہمیت نہیں ہے تبھی تو ان کے آقا ومولا ٹرمپ جوتے پہن کر خانۂ کعبہ میں داخل ہوتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین