Code : 3092 57 Hit

کامیاب لوگوں کی عادتیں؟

اب آپ اپنے بارے میں بتائیے ! کیا آپ نے اپنے کل کے کاموں کا شیڈول تیار کیا ہے؟ آپ کو آئندہ ہفتہ میں کون کون سے کام کرنے ہیں آپ نے ابھی سے مشخص و معین کیا ہے؟ لیکن افسوس ! ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس اپنی عمر کے لمحات تو کیا مہینوں اور برسوں کو صحیح سے استعمال کرنے کا بھی خیال نہیں رہتا اور ہم ایسے ہی انہیں فضول میں گذار دیتے ہیں۔

ولایت پوٹل: خلاقیت میں رشد  کا ایک اہم عامل  زندگی میں اعتدلال کی رعایت کرتے ہوئے ذہنی سکون کی تلاش اور بری عادتوں سے پرہیز کرنا ہے۔  اگر آپ نے اپنی بری عادتوں کو چھوڑ دیا تو یہ سمجھئے آپ نے کامیابی کا پہلا مرحلہ طئے کرلیا  لیکن یہ کافی نہیں ہے بلکہ آپ بری عادتوں کی جگہ اپنے کو اچھی عادتوں سے مزین کیجئے اور اس کے لئے آپ یہ دیکھئے اور غور کیجئے کہ کامیاب آدمیوں کے پاس اکثر و بیشتر کون سی عادتیں ہوتی ہیں  تاکہ آپ بھی انہیں زندگی میں لائیے۔اور یہ حد درجہ حیاتی امر ہے چونکہ اچھی عادتیں آپ کی مدد کرتی ہیں کہ آپ کے اندر چھپی ہوئیں استعداد اور صلاحتیں ظاہر ہوں جس کا نتیجہ جلد ہی آپ کا کامیابی سے ہمکنار ہونا ہے لیکن اس سے پہلے کہ ہم یہ جانیں کہ کامیاب لوگ کیا کرتے ہیں اور وہ اس مقام تک کیسے پہونچے؟ ہمیں یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ کامیابی کسے کہتے ہیں:
اس سوال کا سب سے مختصر اور جامع جواب یہ ہے کہ ہر انسان کامیابی کا معنیٰ اپنے اعتبار سے کرتا ہے کچھ لوگ زیادہ درآمد اور کمائی کو کامیابی کا نام دیتے ہیں۔ جبکہ کچھ دوسروں پر اپنی تأثیر کی وسعت سے کامیابی کا معنیٰ سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنے انفرادی یا اجتماعی زندگی میں مہارتوں اور فنون کی دستیابی کو کامیابی کا عنوان دیتے ہیں۔
اب ظاہر ہے آپ کا تعلق جس شعبہ حیات سے ہوگا آپ اسی کے اعتبار سے کامیابی کا معنیٰ کریں گے اگر آپ ایک اسٹیوڈنٹ ہیں تو آپ کے لئے آپ کے اسکول ، یونیورسٹی یا دیگر پروفیشنل کلاسز اور ورکشاپس کو بخوبی پورا کرنا اور اپنے کریئر اور مستقبل کے لئے اسی کے اعتبار سے تعلیم اور کسی فن میں ماہر بن جانا آپ کی کامیابی ہے۔
اگر آپ بازار میں کام کرتے ہیں یا آپ کا اپنا کاروبار ہے تو آپ کی نظر میں موجودہ آمدنی سے کچھ زیادہ کمانا کامیابی تصور ہوگی۔ اگر آپ ایک ٹیچر ہیں تو اپنے شاگردوں کو اچھی تعلیم دینا تاکہ آپ اپنے اسکول میں ایک مناسب و ممتاز منصب سے نوازے جائیں ۔۔  ۔۔۔۔ غرض! ہر انسان کامیابی کا معنیٰ اسی شعبہ کے اعتبار سے کرتا ہے جس سے وہ منسلک ہوتا ہے۔
اب جبکہ یہ واضح ہوگیا کہ کامیابی کسے کہتے ہیں تو آئیے بات کرتے کہ کامیاب لوگ کن عادتوں کے حامل ہوتے ہیں تاکہ ہماری بھی یہ کوشش ہو کہ ہم ان کے جیسی عادتوں کو اپنا کر ایک کامیاب زندگی گذار سکیں۔
زیادہ مطالعہ کرنا
کامیاب لوگوں کی ۔ چاہے وہ کسی میدان اور عمل سے تعلق رکھتے ہوں  ۔ ایک رائج عادت  یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ مطالعہ کرنے میں گذارتے ہیں ۔ کیا آپ نے کسی ایسے قائد یا ایسے کامیاب انسان کو دیکھا ہے کہ جو قطعاً مطالعہ نہ کرتا ہو ؟
اس بنا پر اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ایک کامیاب انسان بن جائیں تو بہتر ہے ابھی سے اپنے کو مطالعہ کا عادی بنا لیجئے چونکہ کتابیں آپ کو وہ سب چیزیں بتاتی ہیں جو کوئی اور نہیں بتا سکتا۔
ورزش کرنا
دنیا کے کامیاب انسان ضرورت کے مطابق ہر روز کچھ وقت ورزش بھی کرتے ہیں چونکہ یہ طبیعی سے بات ہے اگر آپ کا جسم صحت مند ہوگا تو آپ کی عقل بھی اتنی ہی فعال ہوگی اگر بدن سست ہوگیا تو عقل بھی وہ سب نہیں کرسکتی جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
دنیا کا سب سے بڑا تاجر بل گیٹس ہے  ۔ امریکی کمپنی مایکروسافٹ کا مالک ۔ اس کے لئے مشہور کہ وہ ہر دن جب بستر سے اٹھتا ہے تو اپنے جم میں جاکر ورزش کرتا ہے اور بہت سی ایسی ویڈیوز دیکھتا ہے جو ٹکنالوجی پر بنائی گئی ہے۔ اس بنا پر ہمیشہ یہ کوشش کیجئے چاہے آپ کی عمر کتنی بھی ہو کہ آپ سے ورزش نہ چھوٹے تاکہ آپ کے بدن میں طاقت رہے اور آپ کسی ایسی بیماری میں مبتلاء نہ ہوں جو آپ کو آپ کے مقصد تک پہونچنے میں مانع ہو۔
مشکلات سے نہ گھبرانا  
گھبراہٹ اور خوف  ایسے خطرات ہیں جو انسان کو اس کے مقصد تک پہونچے میں مانع ہوتے ہیں لہذا اللہ پر توکل کرتے ہوئے بڑی سے بڑی مشکل سے گھبرانا نہیں چاہیئے البتہ احتیاطی تدابیر جہاں تک ہوسکے رعایت کی جائیں لیکن گھبراہٹ اور خوف کو اپنے اندر کبھی جگہ نہ دیں ۔ یقیناً آپ نے امریکہ کے مشہور سرمایہ کار ’’ وارن بافیٹ‘‘ کا نام سنا ہوگا وہ پہلے اپنی کلاس میں بھی پرزنٹیشن سے گھبراتے تھے لیکن انہوں نے یہ ارادہ کیا اور آہستہ آہستہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ذریعہ وہ آج اس مقام پر ہیں کہ دنیا کے ہزاروں لوگوں کے سامنے اپنے پروجیکٹس کو بتلاتے ہیں۔
مشکلات کے سامنے تسلیم نہ ہونا
کامیاب لوگوں کی ایک عادت یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی سخت سے سخت مشکل کے سامنے وہ اپنا توازن کھونے نہیں دیتے بلکہ وہ ڈٹے رہتے ہیں ان کا مقابلہ کرتے ہیں اور اخرکار کامیابی ان کا مقدر بن جاتی ہے چنانچہ دنیا کے بڑے بڑے اقتصاد والے لوگ ابتداء میں ایسے ہی  تھے اگر آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے سامنے کتنے بڑے بڑے مشکلات کے طوفان آئے لیکن وہ ان کا رخ نہیں موڑ سکے بلکہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہے اور آج دنیا انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
ہر اہم چیز کو لکھنا
شاید آپ کو تعجب ہو کہ دنیا میں اکثر وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ہر اچھی چیز کو اپنی ڈائری میں نوٹ کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ شاید آپ نے کبھی سنا ہوگا کہ بل گیٹس اتنی تمام مصروفیات کے باوجود جب اس کے ذہن میں کوئی چیز یا نظریہ آتا ہے یا کسی سے کوئی نئی چیز سنتا ہے تو وہ اسے اپنی ڈائری میں لکھتا ہے اسی طرح آج کی دنیا میں ایک اور کامیاب شخص ریجرڈ ہے ان کا ماننا ہے کہ کامیاب لوگوں کی ایک عادت نوٹس بنانا ہوتی ہے چونکہ اس کام  کے ذریعہ انسان کے سوچنے کی طاقت بڑھتی ہے اور وہ بہتر طریقہ سے کام کرلیتا ہے۔
ہر کام کے لئے خاص وقت معین کرنا
قارئین ! وقت ایک ایسا انمول الہی تحفہ ہے ہے جسے عظیم سرمایہ خرچ کرکے بھی خریدا نہیں جاسکتا اور یہ جلد گذر جاتا ہے لہذا اپنی زندگی کے ہر لمحہ کی قدر کرتے ہوئے اس کو صحیح استعمال کرنے کی بھی عادت ڈالئے تاکہ آپ کو پشیمانی نہ ہو۔ چنانچہ موجودہ وقت کے بڑے کامیاب لوگوں کی فہرست میں آنے والے لوگوں میں ایک نام بل گٹس کا بھی ہے اور وہ اپنے وقت کا اتنا دقیق محاسبہ کرتے ہیں کہ ان کے ہر ۵ منٹ کا ایک الگ پروگرام  معین ہے جس میں وہ اسی کام کو انجام دیتے ہیں ۔
اب آپ اپنے بارے میں بتائیے ! کیا آپ نے اپنے کل کے کاموں کا شیڈول تیار کیا ہے؟ آپ کو آئندہ ہفتہ میں کون کون سے کام کرنے ہیں آپ نے ابھی سے مشخص و معین کیا ہے؟
لیکن افسوس ! ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس اپنی عمر کے لمحات تو کیا مہینوں اور برسوں کو صحیح سے استعمال کرنے کا بھی خیال نہیں رہتا اور ہم ایسے ہی انہیں فضول میں گذار دیتے ہیں۔
انفاق کرنا
دنیا کے اکثر کامیاب لوگ ہمیشہ دوسروں کو عطا کرتے ہیں اور انفاق میں ان کا ہاتھ خاصا کھلا ہوتا ہے۔ اب ظاہر ہے جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ دوسروں کو وہی دیتا ہے چونکہ اکثر کامیاب لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ عطا کرنے سے ان کی کامیابی نہیں رکتی بلکہ اس کام سے ان کی زندگی میں معنیٰ پیدا ہوجاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے معروف ثروتمند لوگوں کے اپنے خیراتی سینٹر و مراکز  ہوتے ہیں جہاں وہ معاشرے کے نادار لوگوں کی دستگیری کرتے ہیں۔
کسی کو عطا اور بخشش کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ پیسہ دیں  بلکہ آپ کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے انفاق کریں اگر پیسہ نہیں ہے لیکن آپ کے نظریات کسی کی تعمیر میں کام آسکتے ہوں تو آپ ان سے بھی کسی کی مدد  کرسکتے ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम