ایرانی اور افغانستانی عوام کے درمیان اختلاف ڈالنے کے لیے مغربی میڈیا کی نفسیاتی جنگ

مغربی میڈیا نے ایران اور افغانستان کے شہریوں کے درمیان تناؤ پیدا کرنے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر نفسیاتی جنگ شروع کر رکھی ہے۔

ولایت پورٹل:تقریباً ایک سال قبل افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء اور اسلامی جمہوریہ ایران میں متعدد افغان تارکین وطن کی موجودگی کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ نے ایرانیوں اور افغانوں کے درمیان تناؤ پیدا کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کو خراب کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر نفسیاتی جنگ شروع کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
 اس سال کے آغاز میں ایرانیوں اور افغانوں کے درمیان تصادم پیدا کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر نفسیاتی آپریشنز کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جہاں مغربی میڈیا کے آلۂ کاروں کی ایک بڑی تعداد اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آئی اور کچھ پرانی ویڈیوز اور کچھ جھوٹی ویڈیوز کو بڑے پیمانے پر شائع کرکے اور اسے ایران میں افغان تارکین وطن کے ساتھ ہونے والے سلوک سے جوڑ کر ایک لہر پیدا کی جس کا اثر یہ ہوا کہ افغانوں کے دلوں میں ایران کے خلاف نفرت پیدا ہوئی اور اس کا نتیجہ کابل اور ہرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملے کی صورت میں نکلا۔
 دوسری جانب اس بہت بڑی میڈیا کمپنی نے تہران اور کچھ شہروں کے کچھ اپارٹمنٹس کے رہائشیوں پر افغانیوں کے حملے کے موضوع کے ساتھ آڈیو تیار کرنا اور شائع کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ کچھ افغان شہریوں کی جانب سے ایرانی لڑکیوں کی عصمت دری کی جھوٹی خبریں بھی تیار کرنا شروع کر دیں جس سے ایران میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین