مغربی ممالک اگر دوسرے ملکوں میں جنگیں روک دیں گے تو مٹ جائیں گے:شامی صدر

شام کے صدر نے بیلاروس کے وزیر اعظم سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ مغرب نے اپنی بقا کے لیے جنگ سازی کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔

ولایت پورٹل:رائے الیوم اخبار کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد نے بیلاروس کے وزیر اعظم رومن گلووچینکو سے ملاقات میں کہا کہ بیلا روس کو یورپ کے مرکز میں اس کی اسٹریٹجک پوزیشن اور اس کی پالیسیوں نیز آزادانہ فیصلوں کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب نے اپنی بقا کے لیے جنگ سازی کی پالیسی اپنا رکھی ہے کیونکہ اگر یہ جنگیں رک گئیں تو مغرب کا تسلط کا نظام بھی تباہ ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ مغرب بہت سے ممالک جیسے شام، روس اور بیلاروس میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اس لیے اس نےان کے خلاف اقتصادی جنگیں شروع کر دیں۔
بشار الاسد نے کہا کہ ان جنگوں سے نمٹنے کے لیے ان ممالک کے درمیان کوششوں کو مربوط کرنا ضروری ہے، ان ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کا ایک ایسا نیٹ ورک بنانا بھی ضروری ہے جس کے اصول اور اقدار یکساں ہوں، ان اقدامات سے مغرب گوشہ نشین ہو جائے گا۔
 بشار اسد نے کہا کہ بیلا روس کے وزیر اعظم کا دورہ نہ صرف دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کے لیے بلکہ اس کا مقصد تعاون کے شعبوں کو عملی طور پر جانچنا اور تعلقات کو فروغ دینا نیز مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کے قیام کے لیے بھی اہم ہے۔
 بشار الاسد نے شام کی خودمختاری کو برقرار رکھنے پر اپنے مضبوط موقف کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام کی حمایت کرنے پر بیلاروس کا شکریہ ادا کیا،بیلاروس کے وزیر اعظم نے بھی بشار الاسد کو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے حوالے سے اپنے ملک کے صدر کا پیغام پہنچایا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین