Code : 3555 8 Hit

مغربی پٹی کے الحاق سے وہائٹ ہاؤس میں اسرائیل ہار جائے گا: تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر

تل ابیب یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ کے پروفیسر نے اگلے نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ناکامی اور ناکارہ ہونے کی وجہ سےآنے والے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کا امکان کا زیادہ ہے۔

ولایت پورٹل:انٹر ریجنل اخبار رای الیوم کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ کے پروفیسر یوشی شین نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکی حکومت کے زیر اہتمام اور بنیامین نتن یاہو اور بینی گانٹز کے تعاون سے تیار کردہ سنچری ڈیل پلان کو کورونا کے موقع مسلط کردیا گیا لیکن امکان ہے کہ یہ بڑے وعدے سے ایک جال  میں تبدیل ہوجائے گا۔
یادرہے کہ نیتن یاھو نے گذشتہ ہفتے کیسیٹ میں لیکوڈ پارٹی کے اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ مغربی پٹی کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ جولائی میں لاگو ہوگا نیزاور اسرائیل کے نئے وزیر خارجہ گبی اشکنازی نے اپنا عہدہ سنبھالتے کے وقت اعلان کیا کہ یہ منصوبہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
ادھرمغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کونسل نے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے خطرناک قرار دیا ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ  کے پروفیسر نے صہیونی حکومت کے مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو منسلک کرنے کے منصوبے پر امریکی حکومت کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کروونا کی وجہ سے لاکھوں ہلاکتوں سے نبرد آزما ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں لاکھوں نئے بے روزگاروں کی وجہ سے ٹرمپ کو انتخابات سے چند ماہ قبل حساس حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے  اور وہائٹ ہاؤس میں یہ سوال پوچھاجارہاہے کہ آیا  مغربی پٹی کی شمولیت پر مبنی نیتن یاہو کا منصوبہ امریکی صدر کے لئے اچھا ہے یا برا؟
جبکہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نیتن یاہو کے الحاق منصوبے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔
 یوشی شین نے اگلے نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ناکامی اور ناکارہ ہونے کی وجہ سےآنے والے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کا امکان کا زیادہ ہے۔
 
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین