Code : 3035 14 Hit

صدی ڈیل کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے:حماس

لبنان میں فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے نمائندے کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مسلط کیے جانے والے"صدی ڈیل" کے منصوبہ میں فلسطین کے مسئلے خاص طور پر قدس،مہاجرین کی واپسی کےحق اور مزاحمتی تحریک کو نشانہ بنایا گیاہے۔

ولایت پورٹل:العہد نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں حماس کے نمائندہ احمد عبدالہادی نے فلسطینی قوم کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صدی ڈیل کے منصوبے نے قدس ، سرزمین ، مہاجرین کی واپسی کے حق اور مزاحمتی تحریک  سمیت فلسطین کے مسئلے کے اصولوں کو نشانہ بنایا ہے۔
عبد الہادی نے مزید کہا کہ قدس فلسطینیوں کا ہے جو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت ہے اور یہ کہ فلسطینی سرزمین اس قوم کی ہے، دریا سے لے کر سمندر اور النکورہ سے ام الراشراش تک اور ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ غاصب حکومت ہماری سر زمین کے ایک ٹکڑے پر قابض رہے،اس کو کبھی نہیں ہم تسلیم نہیں کریں گےنیز واپسی کا حق ایک مقدس حق ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت ہی آزادی کا واحد راستہ ہے اور یہ کہ ہمارے ہتھیار ہماری جان ہیں اور ہم ہرگز اس کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔
لبنان میں حماس کے نمائندہ نے بے گھر افراد کی وطن واپسی کے حق اور اوسلو معاہدہ ، سیکیورٹی کوآرڈینیشن  سمیت اس کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام سے اجتناب کرنے پر بھی زور دیا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان صدی ڈیل کا مقابلہ کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ قومی اتحاد  کےاصولوں پر مبنی ہے۔
عبد الہادی نے مسلح مزاحمت پر مبنی قومی حکمت عملی پر معاہدے کا مطالبہ کرتے ہوئے  فلسطینی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ ہر میدان  میں موثر کاروائی کریں صدی ڈیل کا مرکزی اور اہم نقطہ ہونے کے ناطے اپنا کردار اد اکریں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम