Code : 3039 38 Hit

ہمیں ایران کی مالی اعانت کے تمام حصوں پر پابندی عائدکرنا چاہئے: امریکی انتہا پسند سینیٹر

امریکی سخت گیر ریپبلکن سینیٹر نے ایران کی بلیک لسٹنگ پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پورے مالیاتی نظام پر پابندی عائد ہونا چاہیے۔

ولایت پورٹل:ایران سے خلاف ایف ڈی اے کے فیصلے کے بعد سخت گیرریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے اپنے ایک بیان میں اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
کروز نے اپنے بیان میں کہاکہ باراک اوبامہ کے تباہ کن جوہری معاہدے نے ایران کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے جوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے اربوں ڈالر ایران کی حکومت کو ملے ہیں اور انہیں وہ سب کچھ دیا ہے جو وہ دہشت گردی کی حمایت اور اسلحہ میں اضافہ  پر خرچ کرنا چاہتے ہیں ۔
امریکی سنیٹر نے مزید کہا کہ میں نے بہت پہلے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے ایران کے خلاف جوابی کاروائی کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ ایران کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف عالمی مالیاتی نظام کی حمایت کرنا ضروری تھا  اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنےپر میں ان کی قدردانی کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے نئے فیصلے سے دنیا بھر کے کمزور بینکوں کے تحفظ کے لئے پورے ایرانی مالیاتی شعبے پر پابندی لگانے کی ضرورت کو تقویت ملی ہے۔
امریکی سنیٹر کا کہنا تھا کہ میں کئی سالوں سے ایران پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں  اور میں ان پابندیوں کو نافذ کرنے کے لئے کانگریس اور امریکی حکومت میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
یادرہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کا مقابلہ کرنے والی تنظیم  کے نام سے جانی جانے والی  ایف اے ٹی ایف نے  جمعہ کے روز ایران کو بلیک لسٹ میں قرار دیا ہے۔


 




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین