Code : 3105 15 Hit

ممکن ہے ہم بغیر تیاری کے غزہ کے ساتھ جنگ میں وارد ہوجائیں: صہیونی تجزیہ کار

صہیونی فوجی انٹلیجنس کے ایک سابق سربراہ نے غزہ میں حالیہ تنازعہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ، ورنہ تل ابیب مجبورا ایسی جنگ میں داخل ہوسکتا ہے جس کے لیے وہ تیار نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:اسرائیلی فوجی انٹلیجنس برانچ کے سابق سربراہ مشال میلچن نے صیہونی اخبار ہاریٹز کو بھیجے گئے ایک مضمون میں غزہ اور تل ابیب کے مابین تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حماس اور اسرائیلی عہدوں کے مابین ابھی بہت سارے حل طلب مسائل باقی ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ حالیہ تناؤ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان مسائل کے حل نہ ہونے کی بنا پر تل ابیب کو بھاری  معاوضہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مشال  نے لکھا ہے کہ حماس آخر کا زمینی سطح پر شاہکار کرنے میں کامیاب رہی ؛ ایک طرف اس نے غزہ کو ملنے والی انسان دوستانہ امداد حاصل کی  اور دوسری طرف اس نے اپنی مزاحمت کو برقرار رکھا اور دوسرے گروہوں کے ساتھ  تصادم نہیں ہوئی ۔
صہیونی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ بہت سارے معاملات ہیں جن پر بڑے پیمانے پر گفتگو کی ضرورت ہے جن میں ایک  غزہ پٹی سے مغربی پٹی  تک حماس کے فوجی آپریشن اور منصوبوں کے بارے میں معلوما ت کا ہونا ہے اور دوسرے اس تنظیم کے پا س اسرائیلی قیدیوں کا مسئلہ ہے اور تیسرے  غزہ پٹی میں باقی فلسطینی گروپوں پر حماس کا قبضہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ اسرائیلی حکومت کو غزہ کے تئیں  دو ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے؛ایک  حماس کے ساتھ جنگ بندی کی فائل کو دوبارہ کھولنا ہوگا اور دوسرےاور غزہ کے ساتھ مختلف موضوعات پر  افہام و تفہیم تک پہنچنے کی کوشش کرنا ہوگی۔
 




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین