Code : 2684 48 Hit

ہم اسد کی حکومت ختم کرنے اور ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے میں ناکام رہے: صہیونی تجزیہ کار

ایک ممتاز صیہونی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ صیہونی حکام نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کو گرانے اورخطہ میں ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے میں اپنی اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔

ولایت پورٹل:صیہونی سرکاری ٹیلی ویژن  کی رپورٹ کے مطابق ایک صہیونی تجزیہ کار نے منگل کے روز کہا کہ شام میں کئی برسوں سے جاری جنگ میں  تل ابیب کو اسٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسرائیلی رہنماؤں نے شام کے صدر بشار الاسد کو معزول کرنے میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا ہے،صیہونی سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق عرب امور سے متعلق صہیونی تجزیہ کار یہود یعاری نے کہا کہ ، مجھے نہیں معلوم کہ کتنی بار یہ کہ چکا ہے لیکن پھر کہہ رہا ہوں  کہ اسرائیل کو شام کی جنگ میں اسٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑاہے،انہوں نے دعوی کیا  کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین  نیتن یاھو کا انتہائی احتیاط اور فوجی ہیڈ کوارٹر کی کمان اسد کو ہٹانے میں آڑے آئی  جبکہ یہ کام اسرائیلی فوج کو دمشقہ بھیجے بغیر بھی  ہوسکتا تھا،یعاری نے بین الاقوامی  اخبار رائے الیوم میں عربی زبان میں شائع ہونے والے اپنے تجزیہ  میں کہا کہ آج ہماری  فوج کے ہیڈکوارٹر میں بہت سے لوگ ناخوش ہیں اور اے کاش نیتن یاہو کو  وقت مل سکتا کہ وہ  اس خطرناک غلطی کے بارے میں سوچتے،انہوں نے اپنے تجزیہ  کے ایک اور حصے میں ،شام میں ایران کے اہداف کے خلاف صیہونی حکومت کے فوجی حملوں کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے ایران کو فوجی اعتبار سے شام میں مظبوط  ہونے سے نہیں روکا،صہیونی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ  مجھے افسوس ہے کہ صیہونی وزیر دفاع نفتالی بنت مسلسل ایرانیوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں  جب کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہےکیونکہ شام میں ایران اثر ورسوخ کو روکنے کے لیے اسرائیل کی کوششوں سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے، اس کے برعکس  ان دھمکیوں کی وجہ سے ایران  اسرائیلی حملوں کو کم کرنے یا روکنے کے طریقوں کے بارے میں سوچتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین