Code : 3715 5 Hit

ہمیں پابندیوں کی عادت ہوچکی ہے؛ایران ہمارا ساتھ نہیں چھوڑے کا:شامی وزیر خارجہ

شامی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے اس ملک پر مسلط کیے جانے والے سزار نامی قانون کو دمشق کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کے مزید گہرے ہونے کے لیے ایک موقع قرار دیا ۔

ولایت پورٹل:شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے ایک نیوز کانفرنس میں سزار نامی قانون کے تحت شام کے خلاف نئی امریکی پابندیوں پر رد عمل کا اظہار کیا ۔
واضح رہے کہ جون کے مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی شام کے خلاف امریکی قانون جس کو "سزار" (یا قیصر) کہا جاتا ہے ،ایگزیکٹو مرحلے میں داخل ہوگیا۔
اس قانون کے تحت امریکہ نے شامی عوام پر پابندیاں سخت کردی ہیں اور معاشی ناکہ بندی کو تیز کردیا ہے ۔
اس قانون میں دمشق کے اتحادیوں کے خلاف ایسی شقیں عائد کی گئی ہیں جو انھیں شام کی تعمیر نو اورا س ملک کی حکومت کی حمایت کرنےسے روکتی ہیں۔
شام کے وزیر خارجہ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ میں سزار قانون کو کم نہیں سمجھتا لیکن ہم دسیوں سال سےپابندیوں سے نمٹنے کے عادی ہوچکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں سزار  قانون کو خودکفالت کے حصول اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مزید گہرےتعاون کے مواقع میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
المعلم نے وضاحت کی کہ یہ قانون شامی شہریوں کے روزگار کو نشانہ بنانے اور دہشت گردی کی واپسی کے راستے کھولنے کے لئے ایک حملہ ہے  جیسے 2011 میں ہوا تھا۔
انہوں نے دمشق کی دہشت گردی سے لڑنے کی پالیسی جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹوں کا گروہ دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور داعش عناصر کی عراق منتقلی اس کی تصدیق کرتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جسے قیصر قانون کہا جاتا ہے وہ شام کی مسلسل فتوحات سے مایوس  ہونے والےافراد کی دشمنی اور غصہ کا ثبوت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مزاحمت اور اپنی قوم کی معاش سے متعلق اپنے عہدوں پر باقی رہیں گے۔
 



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین