Code : 2392 51 Hit

ہمیں اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ مظاہرین چاہتے کیا ہیں:عراقی حکومت کے فوجی ترجمان

عراقی مسلح افواج کے ترجمان نے عراقی حکومت کے بین الاقومی برادری سے مظاہرین کو کچلنے کے سلسلہ میں گرین سگنل حاصل کیے جانے کی جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور اس سے متعلق تمام تر خرین بے بنیاد ہیں۔

ولایت پورٹل:عراقی مسلح افواج کے ترجمان عبد الکریم خلف نے بغداد الیوم نیو ایب سائٹ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا  یہ جو کہا جارہا ہے کہ مظاہروں کے خاتمہ کے لیے عراقی حکومت نے بین الاقوامی برادی سے اجازت لے لی ہے ،یہ بالکل غلط اور بے بنیاد خبر ہے،انھوں نے ملک کی یونینوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عام مظاہروں کی کال دے کر عام شہریوں کی زندگی درھم برھم  کرنا چاہتے ہیں نیز ملک میں آشوب برپا کرنے کے در پے ہیں،عراقی نیز ایجنسی واع نے بھی  کمانڈر خلف کاحوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ  عراقی حکومت عوام کے لیے بہتر زندگی فراہم کرنے کی کوشش میں ہے یہ انتظار کررہی ہے کہ مظاہرین کی جانب سے کوئی متحد مطالبہ سامنے تو آئے جس پر غور کیا جائے اور ا س کا جائزہ لیا جائے تا کہ کسی نتیجہ تک پہنچا جائے لیکن کچھ شر پسند عناصر بلاوجہ  کشیدگی کو ہوا دینے اور بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں ، یہ لوگوں کو مظاہروں کی دعوت دیتے ہیں جس کی وجہ سے نظام زندگی درھم برھم ہوجاتا ہے،عراقی حکومت کے فوجی ترجمان نے مظاہرین کے ساتھ فوج کی ہر طرح کی ہمدردی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  ہم پر امن اور مسالمت آمیز مظاہروں کا مطالبہ کرتے ہیں ،یاد رہے  آج صبح اساتذہ یونین نے ٹیچروں سے مزید ایک ہفتہ تک  مظاہرے جارے رکھنے کی اپیل کی ہے جس میں اس یونین نے کہا ہے کہ مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے طور  پر ایتوار سے لے جمعرات تک  تمام تعلیمی اداروں میں عام ہڑتال  رہے گی،ادھر عراق میں موجود انسانی حقوق کے کمیشنر نے ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 260افراد ذکر کی ہے ، نیز سو سے زائد سرکاری دفاتر کو آگ لگائی جاچکی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम