Code : 3780 4 Hit

غصبی زمین بننے والےاسرائیل کو ہم ہرگز تسلیم نہیں کرتے ہیں:ملائشیا کے سابق وزیر اعظم

ملائشیا کے سابق وزیر اعظم نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ پورے "اسرائیل" کا قیام فلسطینی سرزمین پر قبضے کے ذریعے عمل میں لایا گیا ہے ، کہا کہ ملائیشیا کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

ولایت پورٹل:ملائشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیرمحمد نے المیادین چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو مسترد کرتا ہے اور یروشلم کو مقبوضہ فلسطین کا دارالحکومت قرار دینا ایک غیر قانونی فعل سمجھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے لیکن اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے وہ بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔
مہاتیرمحمد  نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو یہ معاملہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے پیش کرناہوگا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اسرائیل صحیح ہے یا غلط۔
انھوں نے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا غیرقانونی ہے جو بین الاقوامی قانون اور تمام قوانین سے متصادم ہے۔
ملائشیا کے سابق وزیر اعظم  نے کہا کہ کہیں بھی کوئی دوسروں کی اراضی پر قبضہ نہیں کر سکتا ہے اور ملکیت کا دعوی نہیں کرسکتا ہےجبکہ پورا اسرائیل فلسطینی سرزمین پر قبضہ کرکے بنایا گیا ہے۔
انھوں  نے مزید کہاکہ میں نے یاسر عرفات سے کہا تھا کہ جدوجہد طویل ہوگی اور اس جدوجہد کو جاری رکھنا قابل قدر ہے وہ بھی  نہ صرف مادی اور عسکری طور پر اسٹریٹ جنگ کے ذریعے بلکہ سفارتی چینلز کے ذریعے بھی۔
انہوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ ملائیشیا کے تعلقات کو معمول پر نہ لانے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہم نےشروع سے ہی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ اور اب تک ہمارے اور اسرائیل کے مابین کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں  اور ہم نے ہمیشہ اس کی مذمت کی ہے  لیکن بدقسمتی سے کچھ دوسرے ممالک مختلف پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔


 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین