Code : 1968 75 Hit

ہم1200 کلو میٹر سعودی عرب کے اندر جا کر حملہ کرسکتے ہیں؛ جارح اتحاد کو انصاراللہ کا انتباہ

انصار اللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی الشیبہ آئل فیلڈ پر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون حملے، جارح اتحاد کے لیے کھلا انتباہ ہے۔

ولایت پورٹل:مشرقی سعودی عرب کی الشیبہ آئل فیلڈ پر ہفتے کو  ہونے والے ڈرون حملے کا کئی لحاظ سے جائزہ لیا جا سکتا ہے،یہ حملہ سعودی حدود میں بارہ سو کلو میٹر کے اندر کیا گیا ہے، اسٹریٹیجک ماہرین اس حملے میں بارہ سو کلومیٹر کے فاصلے کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں،یہ پہلی بار ہے کہ جب یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون طیارے سعودی عرب کی حدود میں بارہ سو کلو میٹر اندر تک پہنچے ہیں، اس سے پہلے یمنی فوج کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں نے تیرہ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے مشرقی سعودی عرب میں واقع الدمام کے علاقے کو نشانہ بنایا تھا،انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی سرحدوں کے قریب واقع الشبیہ کی آئل فیلڈ پر حملہ اس ملک کے لیے بھی پیغام کا حامل ہے، انہوں نے کہا کہ دشمن جارحیت کے ذریعے یمنی عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتا اور اس ملک کے عوام دشمن کے ساتھ سرتسلیم خم نہیں کریں گے،انصاراللہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ سعودی جارحیت ہمیں اپنی دفاعی توانائیوں اور طاقت میں اضاضے سے بھی باز نہیں رکھ سکتی،انہوں نے سعودی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں یہ بات اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ اس جنگ سے خود تمہاری قوم کو نقصان پہنچ رہا ہے،انہوں نے کہا کہ سعودیوں کو فوجی، سیاسی، اقتصادی اور حتی اپنی آبرو اور حیثیت سمیت تمام میدانوں میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑے گا،انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا پیغام ، طاقت، عزت، آزادی، اتحاد، خودمختاری اور تعاون کا پیغام ہے، انصاراللہ کے سربراہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ رسمی اور سفارتی تعلقات کے از سرنو آغاز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ہمسایہ عرب اور اسلامی ملکوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بھی یمنی عوام کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات پھر سے استوار کریں،سید عبدالملک بدارالدین الحوثی نے واضح کیا کہ امریکی تسلط پسندی خلاف جدوجہد، مسئلہ فلسطین کی حمایت اور اسرائیل سے دشمنی میں ہمارا اور ایران کا موقف ایک ہے، انہوں نے کہا کہ خطے کے بعض ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور خطے میں تفریق و اختلافات پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،انصار اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم آزاد قوم ہیں اور آزادانہ فیصلے کرتے ہیں، ہم کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے، ہم صرف وہی فیصلہ کرتے ہیں جسے ہم مناسب سمجھتے ہیں،انصار اللہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمارا موقف پوری طرح سے واضح ہے ہم امریکہ کی تسلط پسندی کے خلاف ہیں اسرائیل کے دشمن ہیں، خطے میں اختلاف، تشدد، جھڑپوں اور جنگ بھڑکانے کے مخالف ہیں۔
سحر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम