ہم عرب اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں میں ہیں:امریکی عہدہ دار

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ ہم نے کچھ عرب ممالک کے ساتھ تل ابیب کے تعلقات معمول پر لانے کےلیے اقدامات کیے ہیں۔

ولایت پورٹل:یروشلم پوسٹ کے مطابق کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کےایک  سینئر عہدیدار نے اتوار کے روز عرب ریاستوں اور صیہونی حکومت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے واشنگٹن کی کوششوں کی وضاحت کی۔
رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا ہم تعلقات معمول پر لانے کے قریب ہیں۔
امریکی عہدیدار نے اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے غیر فوجی معاہدوں ، اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین براہ راست پروازوں اور اسرائیلی عہدیداروں کے عرب ممالک کی تقریبات میں شرکت کے لئے سفر کرنےجیسے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم پردے کے پیچھے اس کی کوشش کر رہے ہیں۔
یادرہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطین مخالف منصوبے کی نقاب کشائی  تقریب میں متحدہ عرب امارات ، بحرین اور عمان کے سفیر موجود تھے۔
واضح رہے کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں صیہونی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ منامہ تل ابیب سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یروشلم پوسٹ  نےامریکی عہدہ دار کا حوالہ دیتے ہوئے  اس سلسلہ میں مزید لکھا ہے کہ صدی ڈیل کا منصوبہ صیہونی حکومت کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کی جگہ نہیں لے گا ،یہ الگ راستہ ہے جس پر ایک ٹیم کام کر رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے اجراء کے بعد ، ہم نے عرب دنیا میں اس کے خلاف انتہائی اعتدال پسندانہ رد عمل دیکھے اور بہت سارے عرب رہنما ایسا کرنے کو تیار تھے۔
ترکی اور ایران کی اس منصوبے کی مخالفت کے بعد عرب دنیا میں لوگوں نے اختلافات کو دیکھ لیا۔





0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین