Code : 2507 26 Hit

ہم تمہارے ملک میں مالک ہیں اور تم ہمارے مہمان؛ٹرمپ کا افغان حکام کو عملی پیغام

اشرف غنی خواستہ یا نخواستہ امریکی صدر کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے بگرام پہنچ گئے جہاں ٹرمپ نے ان کا استقبال اس توہین کے ساتھ کیا کہ اپنے پیچھے امریکی فوج کی دیوار بنائی جیسے اپنے ملک میں بنائی جاتی ہے۔

ولایت پورٹل:سابق امریکی صدر باراک اوباما 2014 میں  جب کسی پیشگی اطلاع کے بغیر بگرام کے فوجی اڈے میں  آئے تو اسوقت کے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ان سے ملنے سے انکار کردیا،امریکہ نے 18 سال سے افغانستان پر قبضہ کر رکھا ہے  اس  دوران متعدد امریکی عہدیداروں نے واشنگٹن سے کابل کا سفر کیا  ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ خفیہ دورہ سفارتی طرز عمل سےبالاترتھا نیز افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کی بے حرمتی تھی،اگر ٹرمپ کو افغانستان کی قومی آزادی کا  ذرا سا بھی خیال یا احترام  ہوتا تو وہ صدارتی محل میں اشرف غنی سے ملتے جو کے فوجی اڈے سے صرف 60 کلومیٹر کی دور ی پر واقع ہے ، لیکن وہ غرور اور پستی کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں افغانستان اپنا گھر لگتا ہے  اورافغانستا ن کے صدر اشرف غنی کو ملاقات کرنے کے لیے  بگرام بلاتے ہیں اور وہ آ بھی جاتے ہیں،اگرچہ  امریکی صدور کے افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کوئی نئی بات نہیں جیسا کہ باراک اوبامہ کے 2010  میں اس ملک کے دورہ پر پہنچنے سے  صرف ایک گھنٹہ پہلے حامد کرزئی کو اس کے بارے میں معلوم ہوا تھا لیکن اوباما ان سے ملنے صدارتی ہاؤس گئے تھے،جب 2014میں اوبامہ بغیر بتائے بگرام آئے تو کرزئی نے ان سے ملنے سے انکار کردیا جس کو افغان عوام نے کافی سراہا تھا اور اس وجہ سے ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ،لیکن اس بار اشرف غنی خواستہ یا نخواستہ امریکی صدر کی دعوت  پر لبیک کہتے ہوئے بگرام پہنچ گئے جہاں ٹرمپ نے ان کا استقبال اس توہین کے ساتھ کیا کہ اپنے پیچھے امریکی فوج کی دیوار بنائی جیسے اپنے ملک میں بنائی جاتی ہے ،ٹرمپ اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ افغانستان میں ہم مالک ہیں تو آپ جو اس ملک کے صدر ہیں یہاں ہمارے مہمان ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम