Code : 2485 60 Hit

ہم امن کے ٹھیکدار ہیں اور ایران کشیدگی کا ذمہ دار؛سعودی سفیر کی ہرزہ سرائی

مصر میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نے ایران کے خلاف الزام کی بوچھار کرتے ہوئے اس کو خطہ میں بحران ایجاد کرنے کا اصلی سبب قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل:الشرق الاوسط نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قاہرہ میں تعینات  سعودی عرب کے سفیر اور عرب لیگ میںاس ملک کے  مستقل نمائندہ  اسامہ نقلی نے  عرب سفارتی عملے کےدرمیان ایران کے بارے میں سعودی عرب کے تازہ ترین مؤقف کو بیان کرتے ہوئے کہا  الزام عائد کیا ہے کہ  ایران علاقائی بحرانوں کوبھرکانے کا اصلی سبب ہے،نقلی نے قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہے عرب لیگ کے متعدد مستقل نمائندوں اور عرب سفارتکاروں کے درمیان تقریر کی  ، یہ اجلاس تیونس کے زیر اہتمام عرب لیگ کے سالانہ اور تیسویں سربراہی اجلاس کا پیش خیمہ بھی ہے،سعودی سفیر نے علاقائی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ، کہا کہ ایران ہماری عرب دنیا کے اندرونی معاملات میں کھلے عام مداخلت کرتا ہے اور  کسی اخلاقی ، مذہبی یا اخلاقی رکاوٹ کے بغیر ، بحرانوں کو بڑھاوا دے کر عربوں کے دکھوں کو مزید گہرا کررہا ہے  نیز  خطہ میں  مذہبی اور فرقہ وارانہ  تشدد کی آگ کو بھڑکا رہا ہے،نقلی  نے ایران کی پالیسیوں کو معاندانہ قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ان پالیسیوں میں خطے میں دہشت گردی کی تحریکوں کی حمایت کرنا اور بیلسٹک میزائل بنانا بھی انھیں پالیسیوں کے ذمرے میں آتا ہے  جو پورےخطے خاص طور پر عرب خطے کی سلامتی اور استحکام نیز بین الاقوامی امن کے لیے بھی شدید خطرے کا باعث ہے،قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ کو خطے میں سب سے نمایاں مزاحمتی تحریک    اور اسرائیل کی اول درجہ کی مخالف تنظیم ہے لیکن سعودی عرب اس کو دہشت گرد کے طور پر دیکھتا ہے،سعودی سفیر نے اپنے مضحکہ خیز بیان میں آگے چل کر اپنے ملک کو امن کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عرب خطے میں بحران کے حل کے لئے  اور اپنے عرب امور میں ایران کی واضح مداخلت کا مقابلہ نیز اپنے ممالک میں سلامتی اور استحکام لانے کے لیے ایک صف  میں کھڑا ہونا چاہئے تاکہ اپنی سلامتی اور امن کے لیےخطرہ مداخلتوں سے نمٹا جاسکے،قابل ذکر ہے کہ سعودی سفیر ایسے وقت میں یہ بیان دے رہے ہیں جبکہ ان کا ملک امریکی حمایت سے 6 اپریل ، 2015 کو غریب عرب ملک یمن کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں داخل ہوچکا ہے جس میں اب تک  50،000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम