Code : 4879 5 Hit

ہم سعودی خفیہ ادارے کی سربراہی میں کام کرتے ہیں؛ایران کے خلاف کاروائیوں میں ملوث دہشتگرد گروہ کے سرغنہ کا اعتراف

ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے دہشت گرد گروہ حرکت النضال کے سعودی انٹیلی جنس کے ساتھ براہ راست رابطوں سے متعلق شواہد اور دستاویزات جاری کیے ہیں۔

ولایت پورٹل:ایران کی وزارت انٹیلی جینس نے پچھلے دنوں اعلان کیا تھا کہ اس نے سن دو ہزار اٹھارہ کے دہشت گردانہ حملے میں ملوث دہشت گرد گروہ حرکت النضال العربی لتحریر الاحواز (ASMLA) کے سرغنہ فرج اللہ چعف کو گرفتار کرلیا ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ پچھلے چند برس کے دوران مذکورہ دہشت گرد گروہ کے سرغنہ نے کئی بار تہران اور خوزستان میں دہشت گردی کی کوشش کی ہے جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
ایران کی وزارت انٹیلی جینس کے مطابق حرکت النضال سعودی عرب اور اسرائیل کے خفیہ اداروں کی براہ راست نگرانی میں کام کرتا ہے اور گرفتاری کے عالمی وارنٹ جاری ہونے کے باوجود اس گروپ کے سرکردہ عناصر یورپی ملکوں سے ایران کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کی کمان کر رہے ہیں۔
حرکت النضال کے سرغنہ فرج اللہ چعف نے اپنے ایک انٹرویو میں ایران کے انٹیلی جینس اداروں کے ہاتھوں اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم شروع ہی سے سعودی عرب کی انٹیلی جنس کے ساتھ رابطے میں تھے اور ہماری متعدد میٹنگیں بھی ہو چکی ہیں۔
قبل ازیں امریکہ کی حکمران جماعت کے سیئنیئر رکن اسٹیو کنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سن دوہزار سترہ میں الاحوازیہ گروپ کے ایک سرغنہ کریم عبدیان نے واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔
حرکت النضال،  العربیہ فرنٹ اور حزب النضہ نامی تینوں گروپ، الاحوازیہ نامی دہشت گرد گروہ کا حصہ ہیں اور اس کے زیادہ تر ارکان اور سرغنہ ہالینڈ، ڈینمارک اور سوئیزر لینڈ میں مقیم ہیں۔
دہشت گرد گروہ الاحوازیہ نے بائیس ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو مسلح افواج کے قومی دن کے موقع پر ہونے والی  فوجی  پریڈ دیکھنے والوں  پر حملہ کر دیا تھا جس میں پچیس افراد شہید اور ساٹھ زخمی ہو گئے تھے۔
ایران اب تک سعودی عرب، اسرائیل امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی لاتعداد سازشوں اور دہشت گردانہ اقدامات کا سامنا کرتا آیا ہے۔
ڈنمارک کی پولیس نے بھی حال ہی میں بتایا تھا کہ اس نے حرکت النضال کے تین ارکان کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔ یہ افراد سعودی عرب کے ایک خفیہ ادارے کے تعاون سے ایران میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی اور فنڈنگ میں ملوث تھے۔
ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے دہشت گرد گروہ الاحوازیہ کی حمایت کے سبب سعودی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب بھی کیا تھا۔
تقریب

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین