Code : 2810 23 Hit

ہم عراقی خودمختاری کے تحفظ کے لئے پوری کوشش کررہے ہیں:عراقی عبوری وزیراعظم

عراقی عبوری حکومت کے سربراہ نے اربیل کے دورے کے بعد کہا ہے کہ اس دورے کے دوران انہوں نے کردستان میں کرد عہدیداروں سے سکیورٹی امور اور داعش کی واپسی کو روکنے اورملک کی خودمختاری برقرار رکھنے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ولایت پورٹل:عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے ہفتے کے روز اربیل میں عراقی عہدیداروں سے ملاقات کی ، جس میں ملکی سلامتی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،عراقی وزیر اعظم کے دفتر نے ہفتہ کی شام ایک بیان میں کہا ہے کہ عبد المہدی نےپیٹریاٹک یونین آف کردستان کی پولیٹیکل کونسل کے سربراہ کوسرت رسول علی اور اس کے متعدد ممبران سے ملاقات کی،مذکورہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں عراقی سکیورٹی فورسز اور پیشمرگہ کے مابین سکیورٹی ، تعاون اور ہم آہنگی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ داعش کی واپسی کے خطرے کو روکا اور اس کی باقیات کا مقابلہ کیا جاسکے،المسلہ نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں عراقی حکومت کو مضبوط بنانے،ملک کی سلامتی اور خودمختاری کو برقرار رکھنے سے متعلق اپنے فیصلوں ، تنازعات ، غیر ملکی مداخلت نیز عراق سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے،حالیہ علاقائی تناؤ کے بارے میں عراقی حکومت کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ عراق ہمسایہ ممالک کے علاوہ امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کا دوست ہےاور ہم سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مستحکم بنانا چاہتے ہیں،یادرہے کہ عراق کے عبوری وزیر اعظم  عادل عبد المہدی نے ہفتہ (7 جنوری ) کو اربیل میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما مسعود بارزانی سے بھی ملاقات کی،عراق کے ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ عبد المہدی نے کرد عہدیداروں کے ساتھ متعدد مقدمات کا جائزہ لینے کے لئے خطے کا دورہ کیا ہے ، اور ان میں اہم وزیر اعظم کے انتخاب یا نئے انتخابات ہونے تک اس عہدے پراپنے باقی  رہنے کا امکان جیسے اہم معاملات کردستان کے خطے کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران اٹھائے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम