Code : 2533 233 Hit

شیعت کو پہچاننے کے صحیح طریقے

کسی بھی مذہب کو حقیقی طور پر پہچاننے اور جاننے کے لئے ایک اہم کام یہ ہے کہ اس مذہب کے علماء اور دانشوروں کے حالات زندگی اور ان کی علمی خدمات کا مطالعہ کریں چونکہ ہمارے علماء ہی حقیقت میں ہمیں مذہب اہل بیت(ع) سے روشناس کراتے ہیں یہ حضرات پہلے مرحلہ میں خود عمل کرتے ہیں اور پھر مذہب اہل بیت(ع) کو عترت طاہرہ(ع) کے پیروکاروں کے لئے بیان کرتے ہیں چنانچہ اس ضمن میں ان کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے جو ہمیں علماء کے حالات سے واقف کردے چنانچہ فارسی اور عربی زبان میں لاتعداد کتابیں موجود ہیں اگرچہ اس حوالہ سے اردو زبان میں خاطر خواہ کام تو نہیں ہوا لیکن پھر بھی ۳ ، ۴ کتابیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں جیسا کہ مولانا مجتبٰی نوگانوی (قدس سرہ) کی کتاب ’’تذکرہ بے بہا‘‘ جو اس سلسلہ کی اردو زبان میں پہلی کتاب ہے اور اس کے بعد مولانا مرتضیٰ حسین صاحب قبلہ کی کتاب’’ مطلع انوار‘‘ بھی ایک بہترین کتاب ہے اور اس کے بعد مولانا اختر گوپالپوری کی ’’خورشید خاور‘‘ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ایک سچے اور حقیقی شیعہ ہونے کے ناطے یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم صحیح طور پر شیعہ مذہب اور اس کے خصوصیات کو جانیں چنانچہ اس کے لئے علماء اور دانشوروں نے متعدد راستوں کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے لہذا اس مقالہ میں ہماری یہ کوشش ہوگی کہ جو لوگ شیعہ مذہب کو صحیح ڈھنگ سے دقیق طور پر پہچاننا چاہتے ہیں اور دیگر مذاہب کے مقابلے اس کے خصوصیات اور امتیازات کو بہتر طور پر پرکھنا چاہتے ہیں انہیں مندرجہ ذیل چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا:
الف) شیعہ اور دیگر اسلامی مذاہب کے ما بین ایک مقائسہ ای و موازنہ ای مطالعہ کی طرف ہمیں توجہ کرنا ہوگی اور اس کے لئے یہ دوکتابیں نہایت ہی موزوں نظر آتی ہیں’’ اور میں ہدایت پاگیا‘‘ جس میں ڈاکٹر تیجانی سماوی نے اپنے تطبیقی مطالعات کا نچوڑ پیش کیا ہے اور یہ کتاب اصل تو عربی میں ہے لیکن فارسی اور اردو میں اس کے متعدد تراجم موجود ہیں۔جیسا کہ آپ جانتے ہونگے ڈاکٹر تیجانی سماوی ایک ایسے مفکر ہیں جو پہلے سنی مسلمان تھے لیکن ایک عرصہ تک تحقیق و جستجو کی اور اپنی کئی برسوں کی تحقیق کو بطور خلاصہ اس کتاب میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب در حقیقت ڈاکٹر تیجانی سماوی کے اندر اٹھنے والے لا تعداد سوالوں کے بعد وجود میں آنے والے جوابات پر مشتمل ایک مطالعہ ہے اور اس میں ہر ایک ٹائیٹل در حقیقت ایک سوال یا شبہ کا جواب ہے جو کبھی کبھی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرف سے شیعوں پر کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے دوسری اہم کتاب لبنانی عالم علامہ سید عبد الحسین شرف الدین(رح) کی ’’ المراجعات‘‘ ہے جس کا فارسی سمیت کئی مشہور زبانوں میں ترجمہ موجود ہے چنانچہ اردو زبان میں بھی یہ کتاب دو الگ الگ ناموں سے ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہے ۔ ایک مرتبہ اس کا ترجمہ ’’مذہب اہل بیت(ع)‘‘ کے نام سے ہوا اور پھر دوسری مرتبہ کچھ اضافات کے ساتھ ’’ تلاش حق‘‘ کے نام سے ہوا۔
معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ کتاب حقیقت میں  علامہ شرف الدین اور شیخ الازہر عالم اہل سنت، علامہ شیخ سلیم البشریٰ کے درمیان امامت کے موضوع پر لکھے گئے وہ خطوط  ہیں جن میں آپ نے اہل سنت کے معتبر منابع سے امامت و ولایت اہل بیت(ع) کو ثابت کیا ہے چنانچہ یہ کتاب بھی شیعیت کی شناخت کے لئے مطالعہ کے قابل ہے۔
ب) دوسرے ان کتابوں کا مطالعہ کرنا ۔اس شخص کے لئے ناگزیر ہے جو شیعہ مذہب کو واقعی و حقیقی طور پر جاننے اور پہچاننے کا خواہاں ہے، جو کتابیں شیعوں کی تاریخ، عقائد اور طول تاریخ میں شیعوں کی خدمات کو بیان کرنے کے لئے تحریر کی گئی ہیں چنانچہ عربی و فارسی زبان میں تو بہت سی کتب موجود ہیں جیسا کہ’’ شیعہ در اسلام‘‘ اور علامہ طباطبائی کی ’’ تاریخ شیعہ‘‘ علامہ کاشف الغطاء ، علامہ محمد حسین مظفر اور شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی کتابیں اس سلسلہ میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن اردو زبان میں بھی آخر میں کچھ کتابیں تحریر یا ترجمہ ہوکر شائع ہوئیں جیسا کہ ’’شیعہ شناسی‘‘ جو آقای ربانی گلپائگانی نے تحریر کی اور مولانا منظر صادق صاحب نے اس کا ترجمہ کیا یا آیت اللہ العظمٰی مکارم شیرازی کی حال ہی میں تحریر کردہ کتاب کہ جس کا ترجمہ شائع ہوا وہ بھی قابل ملاحظہ ہے۔ نیز حال ہی میں پاکستان سے لکھی گئی کتاب’’ شیعیت کا مقدمہ‘‘ بھی ایک اچھی کتاب ثابت ہوسکتی ہے جو ہندوستان میں پہلی بار نوگانواں سادات سے شائع ہوکر شائقین تک پہونچی۔
ج) کسی بھی مذہب کو حقیقی طور پر پہچاننے اور جاننے کے لئے ایک اہم کام یہ ہے کہ اس مذہب کے علماء اور دانشوروں کے حالات زندگی اور ان کی علمی خدمات کا مطالعہ کریں چونکہ ہمارے علماء ہی حقیقت میں ہمیں مذہب اہل بیت(ع)  سے روشناس کراتے ہیں یہ حضرات پہلے مرحلہ میں خود عمل کرتے ہیں اور پھر مذہب اہل بیت(ع) کو عترت طاہرہ(ع) کے پیروکاروں کے لئے بیان کرتے ہیں چنانچہ اس ضمن میں ان کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے جو ہمیں علماء کے حالات سے واقف کردے چنانچہ فارسی اور عربی زبان میں  لاتعداد کتابیں موجود ہیں اگرچہ اس حوالہ سے اردو زبان میں خاطر خواہ کام تو نہیں ہوا لیکن پھر بھی ۳ ، ۴ کتابیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں جیسا کہ مولانا مجتبٰی نوگانوی (قدس سرہ) کی کتاب ’’تذکرہ بے بہا‘‘ جو اس سلسلہ کی اردو زبان میں پہلی کتاب ہے اور اس کے بعد مولانا مرتضیٰ حسین صاحب قبلہ کی کتاب’’ مطلع انوار‘‘  بھی ایک بہترین کتاب ہے اور اس کے بعد مولانا اختر گوپالپوری کی ’’خورشید خاور‘‘ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
د) روایات و احادیث کی کتب کا مطالعہ جیسا کہ کتب اربعہ، نہج البلاغہ ، تحف العقول اور ان جیسی سینکڑوں دیگر روائی کتب کا مطالعہ کرنے سے شیعہ مذہب کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اگرچہ مذکورہ سب کتب اصل عربی زبان میں ہیں اور جو لوگ عربی کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں انہیں براہ راست خود انہیں سے استفادہ کرنا چاہیئے اور ان پر لکھے علماء کے حواشی اور تراجم و شروحات کو دیکھنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ لیکن جو لوگ کسی سبب عربی سے ناواقف ہیں انہیں چاہیئے کہ ان میں جن کتابوں کے اردو تراجم دستیاب ہیں ان کا مطالعہ کریں۔
حدیث  کی روشنی میں ایک حقیقی شیعہ کا مرتبہ
چھٹے امام حضرت صادق آل محمد(ع) سے روایت ہے: میں ایک دن اپنے بابا کے ہمراہ مسجد نبوی میں مشرف ہوا  میں نے قبر و منبر رسول(ص) کی زیارت کی تو وہاں میرے بابا کے کچھ خاص اصحاب بیٹھے ہوئے تھے میرے بابا کھڑے ہوگئے آپ نے ان سب کو سلام کیا اور فرمایا:’’ خدا کی قسم! مجھے آپ سب ، اور آپ حضرات کی خوشبو اور اور آپ سب کی روحیں بڑی عزیز ہیں، پس آپ لوگ بھی تقوائے الہی ، ورع و زہد اختیار کرکے ہماری مدد کریں اور ہمیشہ کوشش کرتے رہیں۔ چونکہ تم میں سے کوئی بھی ہماری ولایت تک نہیں پہونچ سکتا مگر وہی کہ جو تقوائے الہی اختیارکرنے میں کوشش و مشقت سے دریغ نہ کرے اور جو بھی اپنے وقت کے امام کی اقتداء کرنا چاہتا ہے تو اسے ویسا ہی عمل کرنا  ہوگا جیسا اس کے امام کا عمل ہے۔
اس کے بعد امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: آپ لوگ سب اللہ کا لشکر اور اس کے مطیع و تابع فرمان ہیں۔ آپ لوگ ایمان لانے میں سبقت کرنے والے اور بہشت کی طرف جانے والوں میں بھی سب سے پیش پیش ہوں گے اور ہم(آئمہ طاہرین(ع) خدا اور اس کے رسول(ص) کی ضمانت کے سبب آپ لوگوں کی جنت کے ضامن ہیں،آپ پاک لوگ ہیں اور آپ کی بیویاں پاک خواتین ہیں اور ہر مؤمنہ عورت اپنے شوہر کے لئے جنت میں حور بن جائے گی ۔ اور امام علی علیہ السلام نے کتنا اچھا قنبر سے فرمایا تھا:’’ اے قنبر تمہیں بشارت ہو اور تم بھی دوسروں کو بشارت دو اور یہ یقین رکھو کہ اللہ کی قسم! رسول اکرم(ص) اس حال میں دنیا سے گئے ہیں کہ آپ شیعوں کے علاوہ دیگر تمام لوگوں سے ناراض تھے اور قنبر تم یہ بھی جان لو! ہر چیز اپنے ستون کے سہارے استوار و ثابت رہتی ہے اور اسلام کا ستون شیعہ ہیں۔ اے قنبر یہ جان لو! ہر چیز کا ایک امام ہوتا ہے اور زمینوں میں اس زمین کا مرتبہ بلند ہوتا ہے جس پر ہمارے شیعہ آباد ہوں۔
اے قنبر یاد رکھو! ہر ایک چیز کا ایک شرف ہوتا ہے اور دین کا شرف ہمارے شیعہ ہیں۔ خدا کی قسم ! اگر آپ جیسے لوگ روئے زمین پر نہ ہوں تو زمین فاسد و تباہ ہوجائے اور جو شخص ہماری مخالفت کرے اگرچہ وہ اہل عبادت و ریاضت ہی کیوں نہ ہو وہ اس آیہ کریمہ کا مصداق ہے:’’وُجُوهٌ یَوْمَئِذٍ خاشِعَةٌ،عامِلَةٌ ناصِبَةٌ،تَصْلى‏ ناراً حامِیَةً‘‘۔(سورہ غاشیہ:2۔4)اس دن بہت سے چہرے ذلیل اور رسوا ہوں گے۔محنت کرنے والے تھکے ہوئے۔دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔
خدا کی قسم! اگر ہمارے مخالفین اپنے حق میں دعا کرتے ہیں وہ آپ حضرات کے فائدے میں دعا قبول کی جاتی ہے۔(یعنی ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں)  اور تم میں سے جو بھی دعا کرتا ہے اللہ اس کا 100 برابر عطا کرے گا اور جو شخص تم میں سے کوئی عمل خیر کرے گا تو اللہ اس کے کئی گنا کہ جس کی صحیح مقدار اس (اللہ)کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں اس کے نامہ اعمال میں تحریر کردے گا۔
خدا کی قسم آپ حضرات میں سے روزہ رکھنے والے جنت کے باغوں میں آرام سے رہیں گے اور تم میں سے حج و عمرہ بجا لانے والے اس کے خاص بندے ہیں اور تم سب اہل دعا و اہل قبولیت ہو ، تمہارے لئے کوئی خوف نہیں ہے اور تمہیں کبھی کوئی غم لاحق نہیں ہوگا تم سب کے سب جنت میں جاؤگے اور تمہیں وہاں بلند و بالا درجات نصیب ہونگے ۔
خدا کی قسم ! عرش خدا کی نسبت تم میں سب سے زیادہ نزدیک ہمارے شیعہ ہیں خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جن کے لئے اللہ نے یہ مقام و مرتبہ رکھا ہے۔(إرشاد القلوب إلى الصواب، ج‏1، ص: 101 )


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین