واشنگٹن کی حالت اس وقت افغانستان اور عراق سے بھی بری ہے: امریکی میڈیا

امریکی نو منتخب صدر جوبائیڈن کی حلف برداری کی تقریب کے دوران انتشار کے پیش نظرمبینہ طور پر واشنگٹن  ڈی سی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد عراق اور افغانستان میں موجود امریکی فوج سے زیادہ کر دی گئی ہے۔

ولایت پورٹل:گذشتہ ہفتے امریکی کانگریس کی عمارت پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے حملہ، جس میں کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی، کے پیش نظر 20جنوری کو ہونے والی جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب سے قبل امریکی نیشنل گارڈ کے ہزاروں فوجی دستے واشنگٹن ، ڈی سی میں تعینات کردیئے گئے ہیں جن کی تعداد عراق اور افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد کے مقابلے زیادہ ہے، فاکس نیوز کے نمائندے نے بتایا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی پہنچنے والے نیشنل گارڈ کے دستوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اگلے ہفتے ہفتہ تک امریکی دارالحکومت میں امریکی نیشنل گارڈ کے فوجیوں کی کل تعداد کم سے کم 10000 تک پہنچ جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق  امریکی نیشنل گارڈ کے سربراہ  جنرل ڈینیئل ہوکسان نے اعلان کیا ہے کہ ان کے پاس بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب  کےروز واشنگٹن ڈی سی میں تقریبا 15000 امریکی نیشنل گارڈ  تعینات کرنے کی اجازت ہے،یادرہے کہ گذشتہ بدھ کو امریکی کانگریس پر ٹرمپ کےحامیوں کی جناب سے کیے جانے والے حملے کے بعد امریکی دارالحکومت میں سکیورٹی انتباہ کی سطح بلند ترین سطح پر آگئی ہے  اور اگلے امریکی صدرکی حلف برداری کی تقریب  کےدوران تشویش تیزی سے بڑھ گئی ہیں،قابل ذکر ہے کہ یہ حقیقت کہ واشنگٹن ، ڈی سی میں تعینات فوجیوں کی تعداد عراق اور افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد سے تجاوز کر چکی ہے ، اس حقیقت کی سنگین یاد دہانی ہے کہ امریکہ میں اندرونی انتہا پسند غیر ملکی دہشت گردوں کے مقابلے میں اس ملک کے لیے زیادہ خطرہ  ہیں۔  

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین