عراقی پارلیمانی انتخابات میں امریکی مداخلت کا انتباہ

جیسے جیسے عراق کے پارلیمانی انتخابات قریب آرہے ہیں ، کچھ لوگ اس عمل اور اس کے نتائج میں مداخلت کی امریکی کوششوں سے خبردار کر رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:عراق کے ممتاز سیاسی تجزیہ کار عباس العرداوی نے المعلومہ ویب سائٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا میں تاخیر کی وجوہات کے بارے میں بتایا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی پارلیمانی انتخابات کے قریب آتے ہی امریکہ نے اس ملک سے فوجوں کے انخلا میں تاخیر کی ہے، العرداوی نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ 2018 کی طرح عراقی انتخابات میں مداخلت کرنا چاہتا ہےلہذا عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودی انتخابی نتائج میں واشنگٹن کی مداخلت کی ایک خطرناک علامت ہے۔ کیونکہ وہ اس عمل  میں اپناکردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
 عراقی ماہر نے مزید کہا کہ امریکی فوجیوں کا انخلاء اور اس حوالے سے عراقی پارلیمنٹ کی قرارداد پر عمل درآمد پارلیمانی انتخابات سے پہلے ایک ضرورت ہے کیونکہ بصورت دیگر لامحالہ ہمیں انتخابی دھاندلی دیکھنے کو ملے گی،واضح رہے کہ  چند روز قبل بھی عراقی پارلیمنٹ کی رکن ندی شاکر جودت نے 10 اکتوبر کے انتخابات میں امریکی سفارت خانے کے ملوث ہونے کے بارے میں خبردار کیا تھا، انہوں نے کہا کہ عراقی انتخابات   علاقائی سطح پر اہمیت اور اثرات کے لحاظ سے دوسرے ممالک سے مختلف ہیں،یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی سفارت خانے اس الیکشن پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور امریکی سفارت خانہ کسی بھی دوسرے سفارت خانے کے مقابلے میں اس الیکشن پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔
 عراقی پارلیمنٹ ممبر نے زور دیا کہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہونے کے لیے حکومت اور ہائی الیکٹورل کمیشن کو امریکی سفارت خانے اور دیگر غیر ملکی سفارت خانوں کی کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی چاہیے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین