Code : 2499 33 Hit

وسطی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد امام کے نہیں امیر کے انتظار میں

تاجکستان کے دار الحکومت دوشنبہ میں وسطی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح کرنے میں تاخیر اس لیے ہورہی ہے کہ کیونکہ امیر قطر نےافتتاحی تقریب میں شرکت کی درخواست کی ہے۔

ولایت پورٹل:ایشیاء پلس نیوز  ایجنسی نے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تاجکستان کے دار الحکومت  دوشنبہ میں وسطی ایشیائی کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح کرنے میں  تاخیر اس لیے ہورہی ہے کہ کیونکہ امیر قطر  نےافتتاحی تقریب میں شرکت کی درخواست  کی ہے،رپورت میں مزید آیا ہے کہ یہ جو افواہیں اڑائی جارہی ہیں کہ مسجد کے افتتاح میں دیر اس لیے ہورہی ہے کیونکہ اس کی تعمیر میں سنگین غلطیاں ہوئی ہیں ،یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں،قابل ذکر ہے کہ آج تک تاجک اور قطری ماہرین کے مشترکہ کمیشن نے مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں کوئی  سنجیدہ نوٹس جاری نہیں کیا ہے،بلکہ طر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی نے تاجک حکام سے اس مسجد کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور تاجک مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے،جیسا کہ پہلے بھی خبروں میں بتایا جاچکا ہے کہ مذکورہ  مسجد  میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں  اور اس کا  افتتاح تاجکستان کی آزادی کی 28 ویں برسی کے موقع پر کیا جائے گا،یادرہے کہ امام ابو حنیفہ کی 1310 ویں برسی کے موقع پر تاجک صدر امام علی رحمان نے اکتوبر 2009 میں اس مسجد کی سنگ بنیاد رکھی تھی اور اس کی تعمیر دو سال بعد اکتوبر 2011 میں شروع ہوئی اور یہ آٹھ سال تک جاری رہی،اس منصوبے پر تقریبا 100 ملین ڈالرکی لاگت آئی  جس میں سے 30 ملین ڈالر تاجک حکومت نے لگائے اور باقی قطری حکومت نے دیے ہیں،دوشنبہ کے شمالی مضافات میں واقع  یہ مرکزی مسجد 12 ہیکٹر رقبے پر تعمیر کی گئی ہے جس میں لائبریری ، میوزیم ، کانفرنس ہال ، آفس عمارتیں ، کھانے کا حال  اور 4000 کاروں کی پارکنگ ہے۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम