Code : 1232 24 Hit

وہابی فکر کا فروغ اور مسلمانوں کی پسماندگی کا آغاز

وہابی فکر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے ذہنوں کو منجمد بنا کر انہیں اعلیٰ تعلیم ٹیکنالوجی اور اجتماع سے دور کردیا گیا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل افغانستان یا پاکستان کے نوحی علاقہ جات میں طالبان کا وجود ہے کہ جن کے آنے سے افغانستان کے سینکڑوں علاقہ تعلیم سے محروم ہوگئے اور لڑکیوں کی تعلیم پر یکسرہ پابندی عائد کردی گئی گھروں دکانوں میں رکھے ہوئے ٹی وی توڑ دیئے گئے اور اس جامد فکر کو یہ اندازہ نہیں کہ انہوں نے کتنا مسلمانوں کو نقصان پہونچایا اور استعمار کی کتنی بڑی خدمت کی ہے۔

ولایت پورٹل: فرقہ وہابیت کا بانی محمد بن عبدالوہاب ۱۱۱۱ ہجری میں پیدا اور ۱۲۰۶ ہجری میں فوت ہوا۔اس کا بچپن حجاز کے عینیہ اور نجد  شہر میں گذرا جب ہوش سنبھالا تو عینیہ کے ایک دینی مدرسہ میں داخلہ لیا کچھ عرصہ بعد مدینہ بھی آیا مدینہ کے حنبلی مدرسہ سے پڑھ کر بہت سے اسلامی ممالک میں رہا چنانچہ کئی سال بصرہ،اصفہان اور قم میں رہا اور اس کے بعد اپنے باپ کے پاس شہر حریملہ میں چلا گیا جہاں وہ ایک مبلغ تھے۔ پھر اپنے باپ کے فوت ہونے تک انہیں کے ساتھ رہا جبکہ باپ اس سے راضی نہیں تھا۔
جب تک اس کے باپ عبد الوہاب تھے تو وہ لوگ کے سامنے کچھ زیادہ کہنے کی جرأت نہیں کرتا تھا اور صرف ایک حد میں رہ کر ہی اپنے خرافاتی عقائد کا اظہار کرتا تھا لیکن باپ کے انتقال کے بعد ہی یہ بے لگام ہوکر اپنے خرافات کو پھیلانے لگا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اس کے پیچھے پڑ گئے اور موقع پاکر اسے قتل کردینا چاہتے تھے لیکن یہ ہوشیاری سے فرار ہوکر عینیہ چلا گیا  اور وہاں سے درعیہ(مسیلمہ کذاب کے شہر) بھاگ گیا اور وہاں اس کی ملاقات محمد بن سعود (آل سعود کا مورث اعلیٰ) کہ جو اس شہر کا والی تھا اور ان دونوں کی ملاقات میں طئے یہ پایا کہ محمد بن سعود عینیہ پر حملہ کرے گا اور اس شہر پر اپنا قبضہ کرلے گا۔
لہذا شیخ محمد بن عبد الوہاب کی زہریلی زبان سے سب سے پہلا فتویٰ خود عینیہ کے امیر کو کافر قرار دینے کے لئے صادر ہوا اور پھر اس نے محمد بن سعود کو عینیہ پر حملہ کرنے کے لئے بھڑکایا ۔غرض محمد بن سعود کی فوج نے عینیہ کا محاصرہ کرلیا اور ہاں بہت سے لوگوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا اور حد تو یہ ہوگئی کہ مسلمان عورتوں کے ساتھ کافروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا اور نہ جانے کتنی عورتوں کی عفتیں پامال ہوئیں چنانچہ وہابیوں نے اس بے دینی پر توحید کی نصرت اور شرک و کفر کے خلاف جنگ کا ٹائٹل لگایا۔
فکر وہابی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو ہونے والے نقصانات
۱۔دین میں نت نئے شبہات و اعتراض کا پیدا ہونا :فکر وہابیت کا ایک سب سے بڑا خطرہ شبہات و اعتراض کو گھڑنا ہے یعنی اس گروہ کی ابتداء سے یہ خاصیت رہی ہے کہ اسلام کے مسلم الثبوت عقائد میں ایسے ریشہ تلاش کرنا اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کو جو ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں،کو  بڑھ چڑھا کر پیش کیا ہے اور وہ مسائل جو عرف میں قبول شدہ ہیں انہیں اس طرح سے پیش کیا گویا یہ مخالف توحید اور روح دین کے خلاف ہوں جیسا کہ شفاعت،توسل اور اولیائے الہی کی زیارت کرنا یا ان کے مزاروں پر مسجد وغیرہ بنانا ۔وہابیوں نے ان عظیم شعائر کو شرک و کفر کا مظہر بناکر مسلمانوں کے ذہنوں کو ورغلانے کی کوشش کی ہے۔
۲۔مسلمانوں کا قتل عام: وہابی فکر کے پنپنے کا ایک دوسرا نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں کو مسلمان آج قتل کررہے ہیں اور اس کا سب سے بڑا منھ بولتا ثبوت طائف کا قتل عام یا اس سے بھی بڑھ کر ۱۲۱۶ ہجری میں کربلا کے رہنے والوں کا بہیمانہ قتل کہ جس میں ڈیڑھ لاکھ لوگ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیئے گئے ۔اور ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے وہابیت کے منحرف عقائد کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور یہ گمراہ جماعت اس کام کو جہاد فی سبیل اللہ کہتی ہے اور پرچم توحید کو بلند کرنے کا نام رکھتے ہیں اور بات صرف یہیں تمام نہیں ہوتی بلکہ ان کی نظر میں آج کا وہ مسلمان جو ان کے باطل افکار و نظریات کو نہیں مانتا وہ دوران جاہلیت میں جینے والے کفار و مشرکین سے بھی بدتر ہے۔
۳۔ اسلام کے قدیم اور قیمتی سرمائے کی بربادی: اس تفکر کے نتیجے میں عالم اسلام کا ایک عظیم نقصان یہ بھی ہوا کہ اس گروہ نے بدعت کا لیبل لگا کر عالم اسلام کے عظیم و قدیم آثار کو تاراج کردیا ہے چنانچہ انہوں نے طول تاریخ میں بقیع کے مقدس قبرستان کو تاراج کیا کہ جہاں نہ جانے کتنے عظیم المرتبت صحابہ اور اہل بیت عصمت و طہارت(ع) کی پاکیزہ ہستیاں آرام فرما تھیں اسی طرح مکہ مکرمہ کے قدیمی ترین قبرستان کہ جہاں خود رسول اللہ(ص) کے بہت سے بزرگان کی قبور موجود تھیں اور جن پر روضہ بنے ہوئے تھے اور آخر میں سامرہ کی سرزمین پر امامین عسکریین(ع) کے روضوں کو منہدم کردیا گیا اور اس کے علاوہ تمام بلاد اسلامی میں علماء،اولیاء اور صلحاء کے قبور کو بھی مسمار کردیا گیا۔
۴۔امن عالم کے لئے چیلنج:فکر وہابیت کے رائج ہونے سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف بڑھ گئے ہیں اور پورے عالم میں ہر طرف بد امنی ہی بد امنی پھیل چکی ہے۔آج پاکستان افغانستان اس کے منھ بولتے ثبوت ہیں جہاں بہت سی جگہوں پر یہ معلوم نہیں کہ کون سی مسجد میں بم پھٹ جائے گا اور یہ معلوم نہیں کون سی درگاہ اڑا دی جائے گی اور کس امامباڑے کو مسمار کردیا جائے گا۔
۵۔ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ: وہابی فکر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے ذہنوں کو منجمد بنا کر انہیں اعلیٰ تعلیم ٹیکنالوجی اور اجتماع سے دور کردیا گیا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل افغانستان یا پاکستان کے نوحی علاقہ جات میں طالبان کا وجود ہے کہ جن کے آنے سے افغانستان کے سینکڑوں علاقہ تعلیم سے محروم ہوگئے اور لڑکیوں کی تعلیم پر یکسرہ پابندی عائد کردی گئی گھروں دکانوں میں رکھے ہوئے ٹی وی توڑ دیئے گئے اور اس جامد فکر کو یہ اندازہ نہیں کہ انہوں نے کتنا مسلمانوں کو نقصان پہونچایا اور استعمار کی کتنی بڑی خدمت کی ہے۔

..........................................................................................................
منابع:
۱۔رضواني، علي اصغر، شيعه شناسي و پاسخ به شبهات، ج2، ص 536، دارالحديث 1384.
۲۔رضواني، علي اصغر، شيعه شناسي و پاسخ به شبهات، ج1، ص 125، دار الحديث 1384.
۳۔مکارم شيرازي، ناصر،وهابيت بر سر دو راهي، ص 39، مدرسه الامام علي بن ابي طالب، به نقل از شرح کشف الشبهات، ص 100.
۴۔ مکارم شيرازي، ناصر، وهابيت بر سر دو راهي، ص 34، مدرسه الامام علي بن ابي طالب، 1384.
۵۔مکارم شيرازي، ناصر، شيعه پاسخ مي گويد، ص 102، مدرسه الامام علي بن ابي طالب، 1384.


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम