Code : 4613 32 Hit

صحیفہ سجادیہ میں فضائل و سیرت رسول(ص) کے جلوے

امام زین العابدین(ع) کی نظر میں پیغمبر اکرم(ص) کا مقام و مرتبہ نہایت ہی بلند و اعلی ہے لہذا تمام بشریت کو چاہیئے کہ وہ ہر میدان میں حضرت کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیں،امام نے اس مھم کے لئے حضرت پر مختلف انداز میں درود و سلام ہدیہ کیا اور حضرت کو امام رحمت امین وحی،خاتم الانبیاء اور سید المرسلین جیسے القاب سے یاد کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت کی بندگی اور عبدیت کو بھی اجاگر فرمایا کہ جو در حقیقت اللہ کے لئے پیغمبر کے خشوع و خضوع اور دشمن کے مقابل سخت کوش و سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے ۔

ولایت پورٹل: قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے اپنے محبوب کا تعارف کراتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’لَقَدْ كانَ لَكُمْ في‏ رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَ الْيَوْمَ الْآخِرَ وَ ذَكَرَ اللَّهَ كَثيراً‘‘۔(۱)
ترجمہ: مسلمانو!تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔
ہم آج ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ جب ہر دور سے زیادہ پیغمبر اکرم(ص) کی شخصیت کے تعارف کی اشد ضرورت ہے لیکن افسوس کہ آنحضرت(ص) صرف یہی نہیں کہ دوسروں کے یہاں غیر متعارف ہیں بلکہ اپنے بھی حضرت کو صحیح طور پر نہیں پہچانتے!
واقعاً حضرت کی ذات والا صفات نہایت مظلوم ہیں  اگرچہ بعض افراد نے حضرت کی سیرت طیبہ کی کچھ گوشوں سے نقاب کشائی کرنے کی  کوشش کی ہے، بعض محققین نے قرآن مجید میں حضرت(ص) کی سیرت طیبہ کے خدو خال تلاش کئے ہیں اور بعض لوگوں نے کتب تواریخ سے  حضرت(ص) کی شخصیت کو پہچاننے کی کوشش کی ہے۔
لیکن  جس چیز سے غفلت کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے حضرت(ص) کی شخصیت کو ان کی معصوم آل پاک کی روایات کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی ہے، خصوصاً آپ کے فرزند ارجمند امام زین العابدین(ع) کے کلام کے تناظر میں ، لہذا اس مقالہ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ ہم رسالتمآب(ص) کے بعض فضائل اور سیرت کے گوشوں کو صحیفہ سجادیہ کے شفاف آئنہ میں دیکھیں!
صحیفہ سجادیہ  عالم اسلام کے لئے نہایت ہی گرانقدر اور غنی علمی  میراث ہے  جو امام زین العابدین(ع) کی دعاؤں کا ایک عظیم مجموعہ ہے ، چنانچہ  پیغمبر اکرم(ص) کا تعارف اور آپ کی سیرت کے خدوخال خود  اہل بیت(ع) اطہار کی زبان مبارک سے   دریافت کرنا ہمیشہ اہل علم کا  طرہ امتیاز رہا ہے ۔
پیغمبر اکرم(ص)  امام سجاد (ع) کی نظر میں  ایک بلند مرتبہ انسان اور اللہ کے منتخب بندے ہیں  لہذا  امام(ع)  نے رسول(ص) خدا کو امین وحی، امام رحمت، منبع برکت ،ہادی خیر و سعادت،اور  ہدایت و نجات بشری  کے واحد  وسیلہ کے طور پر یاد فرمایا ہے۔
اگر صحیفہ سجادیہ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو امام(ع) نے رسول خدا(ص) کی سیرت عملی کو دو حصوں میں بیان کیا ہے1۔تبلیغی زندگی 2۔جنگی  حکمت عملی
یعنی رسول خدا(ص) ،تمام اخلاص کے ساتھ، دین خدا کی سربلندی اور فرزندان توحید کی خیر خواہی کی خاطر سخت ترین مشاکل کے سامنے بھی  ہمیشہ سینہ سپر رہے  یہاں تک کہ آپ کو اپنا محبوب وطن(مکہ) بھی چھوڑنا پڑا،دوسری طرف   پیغمبر اکرم (ص) نے   جنگ کے میدانوں میں عجیب  مہارت کے جوہر دکھائے کہ جن میں آپ کا مقصد صرف  و صرف  متعصب دشمنوں پر کامیابی اور فرزندان توحید کے کے لئے امن فراہم کرنا تھا۔
پس  ہم اس مقالے میں آنحضرت(ص) کے بعض فضائل اور آپ کی سیرت عملی کے کچھ گوشوں کو قارئین کرام  کی خدمت میں پیش کرنے کو کوشش کریں گے۔
الف) رسول(ص) خدا کے فضائل امام سجاد(ع) کی زبانی
امام سجاد(ع) کا زمانہ اسلام و تشیع کے لئے  تایخ کا  ایک سیاہ دور تھا،جس میں  فرزند رسول(ص) اور دلبند علی(ع) و بتول(ع) کو ان کے تمام اعوان انصار سمیت کربلا میں شہید کردیا گیا اور ان کے اہل بیت(ع) کو اسیر بناکر کوچہ بہ کوچہ اور دیار بہ دیار پھرایا گیا  اور اہل بیت(ع) کی ممتاز فرد، علی(ع) کو منبروں سے سب و شتم کیا گیا ۔
شہادت امام حسین(ع) کے بعد پژ مردگی  کی غبار اسلامی معاشرہ پر بیٹھ گئی  اور حقیقت میں سب نے اہل بیت(ع) اطہار سے کنارہ کشی اختیار کرلی چنانچہ امام جعفر صادق(ع) کی یہ حدیث اس دور کی صحیح طور پر غمازی کرتی ہے:’’ارتد الناس بعد قتل الحسین الا ثلاثۃ‘‘۔(۲)
ترجمہ: امام حسین(ع) کی شہادت کے بعدصرف تین افراد کے علاوہ،تمام امت اہل بیت(ع) سے منھ موڑ کر مرتد ہوگئی۔
اب اس دور میں شاید کوئی یہ تصور کرے کہ  کربلا کے بعد  معصوم رہبر اور اولاد حسین(ع)  سیاست سے کنارہ کش ہوکر  صرف عبادت اور گوشہ نشین رہےیا کوئی یہ تصور کرے کہ آئمہ طاہرین(ع) خود  چونکہ مظلوم اور ستم دیدہ تھے  لہذا انہوں نے رہبری امت  سے دوری اختیار کرلی  اور اپنے ان اوہام کے لئے امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کو دلیل کے طور پر پیش کرے، درحقیقت ایسی فکر کے لوگ غافل ہیں چونکہ امام(ع) کا جو مقصد اور ذمہ داری تھی یعنی مکتب اور دین کی حفاظت ،آپ ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے غافل نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ دین کی حیات اور اقدار کے لئے لازم تدابیر کرتے رہے  لہذا  امام سجاد(ع) کی اسی تدبیر کا ایک حصہ  آپ کی وہ دعائیں تھیں جن کو آپ نے امت کی رہبری اور ہدایت کے لئے تعلیم فرمائیں اور انہیں کے ضمن میں سیرت پیغمبر(ص) اکرم کا احیاء فرمایا ۔
چنانچہ آپ(ع) نے پیغمبر اکرم(ص) اورآپ(ص) کی آل پاک پر صلواۃ و سلام بھیجنے کے متعدد طریقہ  اور مختلف تعبیرات اپنی دعاؤں کے ذریعہ تعلیم فرمائے ، امام(ع) نے نہایت ہی جاذب نظری کے ساتھ پیغمبر اکر(ص)م کے فضائل اورجوش و خروش سے لبریز  آپ کی زندگی کا تعارف  ان لوگوں کے سامنے پیش کیا کہ جو لوگ  اپنے کو امت کی ہدایت اور زعامت کے ٹھیکدار سمجھتے تھے آپ نے انھیں بتلایا کہ دین کی راہ،   پاکیزگی ، مہربانی   ،مشکلات و مصائب کا تحمل، اسکے علاوہ کچھ نہیں،اور یہ سب چیزیں خاتم الانبیآء(ص)  اور آپ(ص)  کی آل پاک  کے علاوہ  کہیں اور نہیں ملیں گی ۔
چنانچہ آپ(ع) نے رسول(ص) خدا کے فضائل کا  جو تصور اپنی دعاؤں کے ذریعہ ہم تک پہونچایا ہے وہ یہ ہے کہ: پیغمبر اکر(ص)م اللہ کے سب سے مقرب بندے ،اس کے منتخب کردہ رسول،امین وحی،امام رحمت و عطوفت،،سردار انبیاء و رہنمائے خیر،منبع برکت، وسیلہ  ہدایت و نجات بشر، لہذا حضرت(ص) کی ذات والا صفات   کے ساتھ وفاداری کا ثبوت یہ ہے  کہ  آپ(ص)  پر اور آپ(ص) کی آل پاک پر دورد و سلام بھیجا جائے۔(۳)
رسول خدا(ص) کا مقام امام سجاد(ع) کی نگاہ میں
امام سجاد کے نظر میں آنحضرت کا وہ بلند مقام ہے کہ جن کے توسل کے سبب انسان مقام قرب خدا تک پہونچ سکتا ہے اور حضرت کو وسیلہ قرار دیکر اس دنیا کی سختی اور رنج اور دشمنوں کے مکر و فریب سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے لہذا صحفہ سجادیہ کی دعا نمبر 49 میں آپ نے فرمایا: اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِالْمُحَمَّدِيَّةِ الرَّفِيعَةِ ، وَ الْعَلَوِيَّةِ الْبَيْضَاءِ ، وَ أَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِهِمَا أَنْ تُعِيذَنِي مِنْ شَرِّ كَذَا وَ كَذَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَضِيقُ عَلَيْكَ فِي وُجْدِكَ ، وَ لَا يَتَكَأَّدُكَ فِي قُدْرَتِكَ وَ أَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فَهَبْ لِي يَا إِلَهِي مِنْ رَحْمَتِكَ وَ دَوَامِ تَوْفِيقِكَ مَا أَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ بِهِ إِلَى رِضْوَانِكَ ، وَ آمَنُ بِهِ مِنْ عِقَابِكَ ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ
اے میرے معبود ! میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منزلت بلند پایہ اور علی علیہ السلام کے مرتبۂ روشن ودرخشاں کے واسط سے تجھ سے تقرب کا خواستگار ہوں اور ان دونوں کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوں تا کہ مجھے ان چیزوں کی برائی سے پناہ دے جن سے پناہ طلب کی جاتی ہے اس لیے کہ یہ تیری تونگری و وسعت کے مقابلہ میں دشوار اورتیری قدرت کے آگے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے لہذا تو اپنی رحمت اور دائمی توفیق سے مجھے بہرہ مند فرما کہ جسے زینہ قرار دے کر تیری رضا مندی کی سطح پر بلند ہوسکوں اور اس کے ذریعہ تیرے عذاب سے محفوظ رہوں ۔ اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے!
امام سجاد(ع) کا پیغمبر اکرم(ص) پر درود و سلام بھیجنا
اللہ کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنے کے بعد شاید امام سجاد(ع) نے اللہ سے جس چیز کی دعا اور درخواست کی ہے وہ  رسول اور آل رسول پر درود و سلام کی ہے تقریباً 220 مرتبہ صحیفہ سجادیہ میں  رسول اور آل رسول پر دورد و سلام بھیجا گیا ہے  اور استاد محمد رضا حکیمی کے بقول:امام سجاد(ع)  کا بکثرت  رسول  اور آل رسول پر   صلواۃ و درود بھیجنے کا مقصد در واقع حق و عدل کی حکومت اور رہبران حقیقی کو دنیا کے سامنے پہچنوانا تھا ۔(۴)
حضرت نے صلوات و درود کے مختلف اسلوب اور طریقہ صحیفہ سجادیہ میں بیان کئے ہیں جو در حقیقت اس امر کے عکاس ہیں  کہ ایک مسلمان کو جان و دل کی گہرائی کے ساتھ  رسول اللہ(ص) اور ان کے نائبین برحق کی دعوت و ولایت پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے پیمان محبت و بیعت کو ہر آن  مستحکم کرنا چاہیئے۔
چنانچہ امام جعفر صادق(ع)  امت کا پیغمبر اکرم پر صلوات کے فلسلفہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:جو شخص بھی پیغمبر اکرم(ص) پر صلوات بھیجتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جو اس نے عالم ذر میں اپنے اللہ سے پیمان "الستُ" کیا تھا وہ اس پر قائم ہے۔(۵)
لہذا امام سجاد نے صحیفہ سجادیہ کی متعدد دعاؤں میں حضرت ختمی مرتبت پر درود و صلوات بھیجا ہے ہم اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ایک   اشارہ کرتے ہیں چنانچہ دعا  نمبر 32  میں کہ جو حضرت کی دعا نماز شب سے فراغت کے بعد وارد ہوئی ہے اس میں ارشاد فرماتے ہیں:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، إِذَا ذُكِرَ الْأَبْرَارُ، وَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ، صَلَاةً لَا يَنْقَطِعُ مَدَدُهَا، وَ لَا يُحْصَى عَدَدُهَا، صَلَاةً تَشْحَنُ الْهَوَاءَ، وَ تَمْلَأُ الْأَرْضَ وَ السَّمَاءَ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حَتَّى يَرْضَى، وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ بَعْدَ الرِّضَا، صَلَاةً لَا حَدَّ لَهَا وَ لَا مُنْتَهَى، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.
ترجمہ: ے اللہ ! جب بھی نیکوکاروں کا ذکر آۓ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور جب تک شب و روز کے آنے جانے کا سلسلہ قائم رہے تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما ۔ ایسی رحمت جس کا ذخیرہ ختم نہ ہو اور جس کی گنتی شمار نہ ہو سکے ۔ ایسی رحمت جو فضاۓ عالم کو پر کر دے اور زمین وآسمان کو بھر دے ۔خدا ان پر رحمت نازل کرے اس حد تک کہ وہ خوشنود ہو جاۓ اور خوشنودی کے بعد بھی ان پر اور ان کی آل پر رحمت نازل کرتا رہے ۔ ایسی رحمت جس کی کوئی حد نہ ہو اور نہ کوئی انتہا ۔ اے تمام رحم کرنیوالوں میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
پیغمبر اکرم(ص) امام رحمت ہیں
شاید ہم  اس دعوے میں حق بجانب ہوں کہ قرآن مجید میں حضرت ختمی مرتبت(ص) کی سب  جلی صفت اور جس کو خود امام  سجاد نے بھی صحیفہ سجادیہ میں بیان کیا ہے آپ کا تمام عالمین کے لئے رحمت ہونا ہے چونکہ جو صفت تمام انسانوں کو اس امر پر وادار کرتی ہیں کہ وہ حضرت کا اتباع اور پیروی کریں وہ آپ کا  رحمۃ للعالمین ہونا ہے اس معنی میں کہ آپ کا وجود اطہر ہر اعتبار سے تمام جہان والوں کے لئے رحمت و رافت کا پیکر ہے،آپ اپنی جان و مقصد کے دشمنوں کے ساتھ بھی رحم و کرم کے ساتھ پیش آتے تھے اور اسی طرح آپ کا اپنی امت کی  آخرت میں شفاعت کروانا  خود اس صفت بارز کے اثبات کے لئے کافی ہے چنانچہ  آپ کی تمام جنگیں  اور غزوات چونکہ انسانیت کو تفکر بت پرستی اور الحاد سے نجات دلانے کے لئے تھیں لہذا یہ بھی رحمۃ للعالمین کی رحمت کی شعائیں ہیں۔
چنانچہ صحفہ سجادیہ کی دوسری دعا میں امام نے حضرت(ص) کو اس صفت کے ساتھ یاد کیا ہے: اللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ أَمِينِكَ عَلَى وَحْيِكَ ، وَ نَجِيبِكَ مِنْ خَلْقِكَ ، وَ صَفِيِّكَ مِنْ عِبَادِكَ ، إِمَامِ الرَّحْمَةِ ، وَ قَائِدِ الْخَيْرِ ، وَ مِفْتَاحِ الْبَرَكَةِ ۔
ترجمہ: اے اللہ ! تو رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر جو تیری وحی کے امانتدار تمام مخلوقات میں تیرے برگزیدہ ، تیرے بندوں میں پسندیدہ رحمت کے پیشوا ، خیر وسعادت کے پیشتر وبرکت کا سرچشمہ تھے ۔
چنانچہ یہ مضمون قرآن مجید کی معروف آیت و اما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین
اور اسی طرح خود ایک حدیث میں نقل ہوا ہے:’’جعلنی رسول الرحمۃ‘‘۔(۶)
ترجمہ: مجھے پروردگار نے رسول رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
رسول و نبی
حضرت کی دو دیگر صفات جو صحفیہ سجادیہ میں بیان ہوئی ہیں   وہ آپ کا  نبی خدا اور رسول خدا ہونا ہےچنانچہ یہ مضمون دعا نمبر 2، 4، 6، 42، 45، اور 54 ) میں موجود ہے۔
راغب اصفہانی لفظ رسول کے متعلق کہتے ہیں:مادہ "ر،س،ل"کا معنیٰ اطمئنان اور نرمی کے ساتھ راستہ طئے کرنا ہے، اور یہی معنی لفظ رسول کے بھی ہیں ، کبھی اس لفظ سےنرمی اور  تواضع  مراد لیا جاتا ہے اور کبھی بھیجنا اور مبعوث کرنا مراد ہوتا ہے لہذا کبھی رسول سے صرف  پیغام مراد ہوتا ہے تو کبھی پیغمبر۔(۷)
لہذا  راغب اصفہانی کے بیان کے تناظر میں  یہ بات کہی  جاسکتی ہے کہ اس شخص پر  رسول کا اطلاق جو لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ چونکہ رسول اپنی رفتار و گفتار میں نرمی  اور تواضع کے ساتھ لوگوں سے پیش آتا ہے۔
لفظ نبی کی اصل میں دو احتمال پائے جاتے ہیں ،پہلا یہ کہ یہ نبا سے لیا گیا ہو دوسرا یہ کہ نبوء سے لیا گیا ہوچنانچہ علامہ مجلسی بیان کرتے ہیں :ممکن ہے نبی مادہ انباء سے ہو جسکے معنی خبر لانے والا،نیز یہ بھی ممکن ہے از نبا ہو جس کے معنی اوپر کی طرف جانا ،لہذا پیغمبر اکرم کو نبی اس وجہ سے کہتے ہیں چونکہ آپ کا مقام و مرتبہ نہایت ہی بلند ہے اور وہ اللہ کی مخلوق کے درمیان اس کا انتخاب ہے۔(۸)
خاتم الانبیاء
امام سجاد صحیفہ سجادیہ کی 17 ویں دعا میں پیغمبر اکرم(ص) کو خاتم الانبیاء اور سید المرسلین  جیسے القاب سے یاد کرتے ہوئے آپ پر اور آپ کے اہل بیت(ع) پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور اپنے لئے اور اپنے اہل و عیال و بھائیوں نیز تمام مؤمنین اور مؤمنات کے لئے  حضرت کے طفیل شیطان سے پناہ طلب کرتے ہیں :اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى‏ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِيّينَ، وَ سَيِّدِ الْمُرْسَلينَ، وَ عَلى‏ اَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ الطّاهِرينَ، وَاَعِذْنا وَاَهالِيَنا وَاِخْوانَنا وَ جَميعَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ مِمَّا اسْتَعَذْنا مِنْهُ،
اے پروردگار ! اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمد پر جو تمام نبیوں کے خاتم اور سب رسولوں کے سر تاج ہیں اورا ن کے اہل بیت پر جو طیب وطاہر ہیں اور ہمارے عزیزوں ، بھائیوں ، اور تمام مومن مردوں اورمومنہ عورتوں کو اس چیز سے خوف کھاتے ہوئے ہم نے تجھ سے امان چاہی ہے اس سے امان دے اور جو درخواست کی ہے اسے منظور فرما
خاتم لغت میں  اس مہر کو کہا جاتا ہے جو خط کو بند کرنے کے بعد اس پر لگا دی جاتی ہے چونکہ اللہ تبارک و تعالی نے حضرت کے بعد منصب نبوت اور رسالت کا کاتمہ کردیا اس وجہ سے آپ کو خاتم الانبیاء اور خاتم المرسلین کہا جاتا ہے اور یہ عقیدہ مسلمانوں کے درمیان اجماعی ہے۔
اللہ کا انتخاب
امام سجاد نے اپنی متعدد دعاؤں میں حضرت کو اللہ کے انتخاب کے طور پر تعارف کروایا ہے مثال کے طور پر صحیفہ سجادیہ کی دعا 6 اور 34 میں ذکر فرمایا ہے کہ ان دونوں مذکورہ دعاؤں میں لفظ خیرۃ اللہ ذکر ہوا ہے جبکہ اسی صفت اور عنوان کو متعدد تعبیروں مٰں مثلاً صفی دعا2 ، مصطفی و صفوۃ دعا 47 میں یاد کیا ہے
پیغمبر اکرم(ص)  کا اللہ کی طرف سے منتخب ہونا اس امر کا غماز ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت کو منصب نبوت و رسالت کے لئے لائق اور شائستہ پاکر آپ کا انتخاب کیا ہے ۔
پیغمبر اکرم (ص) عبد خدا
صحیفہ سجادیہ کی متعدد دعائیں پیغمبر اکرم کی عبدیت کو بیان کرتی ہیں چنانچہ امام(ع) نے 6 ،24 ، 27ویں دعاؤں میں خصوصی طور پر حضرت کے عبد خدا ہونے پر تاکید فرمائی ہے
عبدیت   انسان کے لئے ایک عظیم افتخار ہے اور خصوصاً رسالتمآب(ص) کے لئے چونکہ حضرت(ص)  خود کو  اللہ کا سب سے ادنی بندہ کہتے تھے چنانچہ علامہ مجلسی بحار میں امام صادق(ع) سے  روایت کرتے ہیں کہ ایک بادیہ نشین عورت کا گذر حضرت(ص) کے قریب سے ہوا اس وقت آپ(ص) زمین پر بیٹھے ہوئے کھانا تناول فرما رہے تھے  اس نے حضرت کو دیکھ کر تعجب کرتے ہوئے کہا:ائے محمد(ص)! تم بلکل بندوں(غلاموں) کی طرح بیٹھتے اور کھاتے ہو؟ رسول خدا(ص) نے جواب میں فرمایا:"ویحک! ای عبد اعبد منی‘‘۔(۹)وائے ہو تجھ پر کون سا بندہ مجھ سے بڑا عبدخدا ہوگا۔
سیرت رسول اکرم(ص) صحیفہ سجادیہ میں
پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت طیبہ  کو   متعدد  زاویوں سے بیان کیا جاسکتا ہے ،لیکن  امام سجاد(ع) نے اپنے نورانی کلام حضرت کی سیرت کے دو اہم اور تاثیر گذار پہلوؤں کو بیان فرمایا ہے 1۔ رسول اکرم(ص) کی تبلیغی سیرت 2۔ آپ کی جنگی سیرت
تبلیغی سیرت
امام سجاد(ع) نے اپنی دعاؤں میں حضرت کی تبلیغی زندگی کے متعدد گوشوں سے دنیا کو متعارف کرایا ہے لہذا ذیل میں ہم کچھ اہم گوشوں کی طرف  قارئین کرام کی توجہات کو مبذول کرائیں گے۔
1۔اخلاص کے ساتھ اعلی مقاصد
پیغمبر اکرم(ص)  اپنی رسالت   اور مقصد پر مکمل ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ پروردگار کے حکم کی تعمیل میں  کسی بھی مشکل  سے نہیں گھبراتے تھےلہذا  تبلیغ دین خدا کی  راہ میں آپ(ص) نے نہایت ہی ثبات قدمی اور صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا،امام سجاد(ع) کے بیانات کے تناظر میں  حضرت(ص) کے اس عظیم جذبہ کی پشت پر  دین خدا کو دنیا کے تمام دیگر ادیان پر غلبہ دلانا و کافروں کو شکشت دینا تھی۔
چنانچہ صحیفہ سجادیہ کی دوسری دعا کے ایک حصہ  میں امام(ع)  پیغمبر اکرم(ص) کا فرامین الہی کو دنیا میں عام کرنے کے سلسلہ میں آپ کی کوششوں او ر جانفشانیوں اور دعوت دین حق کے لئے اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر دیار غربت میں  آپ کی ہجرت کا تذکرہ  کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: إِرَادَةً مِنْهُ لِإِعْزَازِ دِينِكَ،وَ اسْتِنْصَاراً عَلَى أَهْلِ الْكُفْرِ بِكَ،  
ترجمہ:اے پروردگار پیغمبر اکرم نے یہ تمام تر مشقتیں اور مصائب محض اس مقصد کے لئے برداشت کئے کہ تیرا دین  مضبوط  ہوجائے اور تجھ سے کفر اختیار کرنے والے مغلوب ہوجائیں۔
2۔ نصیحت و خیر خواہی
صحیفہ سجادیہ کی متعدد دعاؤں میں  امام(ع) نے پیغمبر اکرم(ص) کی  تبلیغی  سیرت میں اس اہم خصوصیت (نصیحت و خیر خواہی) کی طرف توجہ دلائی ہے جیسا کہ دوسری  دعا میں ارشاد فرمایا: وَ شَغَلَهَا بِالنُّصْحِ لِأَهْلِ دَعْوَتِكَ ،
ترجمہ:اور  حضرت نے اپنے آپ کو ان لوگوں کے مخلصانہ وعظ و نصیحت کرنے میں مصروف رکھا جو تیری دعوت کو قبول کرنے والے تھے۔
اور اسی طرح 42 ویں دعا میں فرماتے ہیں: وَ نَصَحَ لِعِبَادِكَ  
رسول خدا نے تیرے مخلص بندوں کو نصیحت فرمائی
اس مرحلہ میں قابل توجہ امر یہ ہے کہ امام نے پیغمبر اکرم کے مخاطبین کے متعلق  کبھی "اہل دعوت" کبھی "امت" اور کبھی"عباد" کی لفظیں  استعمال فرمائی ہیں جو حقیقت میں  ایک ہی  معنی کو بیان کرتی ہیں چونکہ خدا وند عالم نے تمام بشریت کو سعادت کی طرف دعوت دی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:واللہ ید عو الی دار السلام۔سورہ یونس 25
اور اسی طرح  بعثت پیغمبر اکرم(ص) سے لیکر قیام قیامت تک تمام انسان آنحضرت(ص)  کے امتی ہیں لہذا امام نے" امت" کی لفظ استعمال کی ہیں اور چونکہ زمانہ بعثت سے قیامت تک کے لوگ امتی ہیں لہذا حضرت(ص) نے تمام بشریت کو خالصانہ نصیحت فرمائی  اوراس راہ میں  ہر طرح کی مشکل اور اذیت کو برداشت کیا۔
3۔مضمون تبلیغ
فرامین الہی اور قرآن مجید،  حضرت(ص) کی تبلیغی سیرت کے مضامین تھے چونکہ اللہ تبارک و تعالی کا کلام،  قرآن  کہ جس کا مکمل علم اور اس کے عجائبات اللہ نے حضرت کو الہام فرمائے تھے۔
چنانچہ صحیفہ سجادیہ کی 42 ویں دعا (دعائے ختم قرآن)میں  یہ جملہ وارد ہوا ہے : وَ أَلْهَمْتَهُ عِلْمَ عَجَائِبِهِ مُكَمَّلًا
ترجمہ: اے پروردگار! تونے قرآن مجید کے اسرار و عجائب کا مکمل علم اپنے حبیب پر الہام فرمایا۔
اور اسی طرح حضرت ختمی مرتبت کے لئے اللہ سے بہترین اجر و ثواب طلب کرتے ہوئے حضرت کی سیرت تبلیغی کے محتوا اور مضمون کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:’’اللهم اجزه بما بلغ من رسالاتك ، و ادي من اياتك ، و نصح لعبادك ، و جاهد في سبيلك ، أفضل ما جزيت احدا من ملائكتك المقربين ، و أنبيائك المرسلين‘‘۔
ترجمہ: اے پروردگار! انہوں نے تیرے پیغامات کی تبلیغ کی،تیری آیتوں کو پہنچایا، تیرے بندوں کو وعظ  ونصیحت  فرمائی  اور تیری راہ میں جہاد کیا ۔ان سب کی انہیں جزا دے جو ہر اس جزا سے بہتر و افضل ہو جو تونے  اپنے مقرب فرشتوں اور  اپنے بزگزیدہ رسولوں کو عطا کی ہے۔
لہذا  دینی محققین اور مبلغین کے لئے پیغمبر اکرم(ص)  کی یہ سیرت بہترین نمونہ ہے کہ یہ سب لوگ اپنی تبلیغی و پیغامی کاوشوں کا مضمون قرآن مجید کو  قرار دیں۔
4۔ شجاعت و شہامت
جیسا کہ آنحضرت(ص) اللہ کی طرف سے  اس بات کے لئے مامور ہوئے تھے کہ اے رسول!  آپ  اللہ کا پیغام واضح اور روشن طریقہ سے لوگوں کے سامنے بیان کردیجئے اور اس امر میں کافروں کا اعتنا نہ کریں لہذا  قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِين‘‘۔(۱۰)
تبلیغی زندگی  میں پیغمبر اکرم(ص)  کی اہم خصوصیات میں سے ایک آپ کا دین کے دشمنوں کے مقابل شجاعت و شہامت تھی  یہاں تک کہ اپنے عزیز و رشتہ داروں سے بھی اس امر میں نہایت  شجاعت کا مظاہرہ کیا چونکہ  اپنے رشتہ داروں  سے دشمنی اور جاہلیت  کی رسم و رواج سے مقابلہ  کرنا بہت ہی مشکل  کام ہے اس کے لئے ایک خاص قسم کی شجاعت و شہامت درکار  ہوتی ہے۔
امام زین العابدین(ع)  دوسری دعا کے مختلف حصوں میں اس خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’وَ كَاشَفَ فِي الدُّعَاءِ إِلَيْكَ حَامَّتَهُ  وَ حَارَبَ فِي رِضَاكَ أُسْرَتَهُ  وَ قَطَعَ فِي إِحْيَاءِ دِينِكَ رَحِمَهُ . وَ أَقْصَى الْأَدْنَيْنَ عَلَى جُحُودِهِمْ  وَ قَرَّبَ الْأَقْصَيْنَ عَلَى اسْتِجَابَتِهِمْ لَكَ‘‘۔
ترجمہ: اورتیری طرف دعوت دینے کے لئے اپنے عزیروں سے دشمنی کی،اورتیری رضا کے لیے اپنی قوم و قبیلے سے جنگ کی اورتیرے دین کو زندہ کرنے کے لیے  اپنے سب رشتے ناطے قطع کرلئے، نزدیک کے رشتہ داروں کو تیرا  انکار کرنے کی وجہ سے دور کردیا اوردور والوں کو تیرے اقرار  کے باعث اپنے گلے لیا۔
پیغمبر اکرم(ص) کی جنگی مہاریتں اور تدابیر
عام طور پر جن علماء نے سیرت النبی(ص) پر  کتابیں تحریر کی ہیں انہوں نے  حضرت (ص) کے اخلاق اور انفرادی زندگی جیسے لباس پہننا،کھانا کھانا،بیٹھنا اور عبادت کرنا اور اسی طرح حضرت کی تبلیغی  و اجتماعی زندگی میں عفو و بخشش  وغیرہ کو  خاص اہمیت کے ساتھ اپنی کتابوں اور آثار میں جگہ دی ہے ،لیکن میرے خیال میں حضرت کی جنگی تدابیر اور دشمن کے مقابل آپ کی مہارت پر بہت ہی کم لوگوں نے روشنی ڈالی ہوگی   اور شاید اس امر میں بعض ایسے پہلو بھی موجود ہوں  کہ جن سے یکسر غفلت کی گئی ہے لیکن امام سجاد(ع) نے سیرت النبی(ص) کے اس پہلو کو بڑی آب و تاب کے ساتھ اپنی دعاؤں میں پیش فرمایا ہے۔
1۔ غیبی امداد پر بھروسہ اور اپنے ضعف کا اقرار
امام سجاد(ع) نے دوسری دعا کے ایک حصہ میں اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) ظاہری طاقت و توانائی کے اعتبار سے ضعیف اور ناتواں تھے لیکن آپ نے خدا وندعالم  سے مدد طلب کرکے اپنی کمزوری کو طاقت میں تبدیل کردیا تھا لہذا آپ(ص) نے غیبی امداد کے سہارے  جنگ کے میدانوں میں  عجیب و غریب کارناموں کو انجام دیکر دنیا کے بڑے بڑے ماہروں کو حیرت میں ڈال دیا
چنانچہ امام سجاد(ع) ارشاد فرماتے ہیں:" فنهد اليهم مستفتحا بعونك ، و متقويا علی ضعفه بنصرك"۔
ترجمہ: پس وہ تیری نصرت سے فتح وکامرانی چاہتے ہوئے اوراپنی کمزوری کے باوجود تیری مدد کی پشت پناہی پر دشمنوں کے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
2۔دشمن پر چڑھائی کرنا حضرت کی کار آمد حکمت عملی
پیغمبر اکرم(ص) دشمن  کو نفسیاتی اور روحی طور پر کمزور کرنے اور راہ فروغ توحید میں ان کی رکاوٹوں کو دور کرنے  اور انسانیت  کو مختلف قسم کے بتوں سے نجات دلانے کے لئے دشمن پر چڑھائی کرنے کی حکمت عملی سے استفادہ فرمایا کرتے تھے یہ حضرت کی جنگی منصوبوں کا وہ اہم حصہ ہے جس کی طرف امام سجاد(ع) نے تصریح فرمائی ہے:"فغزاهم في عقر ديارهم .و هجم عليهم في بحبوحة قرارهم"۔
ترجمہ: اوران کے گھروں کے حدود میں ان سے لڑے یہاں تک کہ ان گھروں کے وسط میں ان پر ٹوٹ پڑے
چنانچہ حضرت امیر علیہ السلام پیغمبر اکرم کے تربیت شدہ نے جب معاویہ کے سپاہیوں کی انبار شہر میں چڑھائی کی خبر کو سن 38 ہجری میں سنا تو اور جب آپ نے کوفیوں کی کاہلی کو ملاحظہ فرمایا تو آپ نے فضیلت جہاد پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ایک جملہ یہ ہے:’’فواللہ ماغزی قوم فی عقر دارھم الا ذلوا‘‘۔(۱۱)
ترجمہ: خدا کی قسم جن افراد قوم پر ان کے گھروں کے حدود کے اندر ہی حملہ ہو جاتا ہے ۔ وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔
پیغمبر اکرم کہ جو ہر میدان میں علی کے استاد تھے وہ اس حکمت عملی سے بخوبی واقف تھے لہذا مدینہ منورہ میں حکومت اسلامی کے قیام کے بعد ابتدائی کچھ جنگیں محض دفاعی تھی جیسا کہ جنگ بدر احد و احزاب،اس کے علاوہ حضرت نے دشمن کے گھر جاکر اکثر جنگیں لڑیں ،صرف جنگ خندق۔کہ جس میں غیبی امداد اور حضرت امیر کی جانفشانی کے سبب کل ایمان کل کفر پر غالب ہوا۔ کے بعد شوال سن 5 ہجری سے سن 7 ہجری تک حضرت نے حضرت نے تقریباً 25 مرتبہ دشمن کی سرکوبی کے لئے لشکر روانہ فرمائے۔(۱۲)
3۔پیغمبر اکرم(ص) میدان جنگ کے فاتح اور بلند مقاصد میں کامیاب
امام سجاد(ع) نے حضرت ختمی مرتبت(ع) کی تبلیغی سیرت اور جنگ حکمت عملی کو بیان کرتے ہوئے حضرت کے سامنے آنے والی مصیبتوں کا تذکرہ کیا اور یہ وضاحت بھی فرمائی کہ حضرت نے یہ سب مشکلات محض دین خدا کی بالا دستی اور کفر پر ایمان کی برتری کے لئے برداشت کیں اور آخر کار اس نتیجہ تک پہونچ گئے جو انہوں نے خدا سے دشمنان دین اور اہل ایمان کے لئے طلب کیا تھا:" حتي استتب له ما حاول في اعدائك .و استتم له ما دبر في اوليائك"۔
ترجمہ: یہاں تک کہ تیرے دشمنوں کے بارے میں جو انہوں نے چاہا تھا وہ مکمل ہو گیا اورتیرے دوستوں کے لئے انہوں نے جو تدبیریں کی تھیں وہ کامل ہو گئیں۔
نیز اسی  طرح امام اسی دعا کے ایک حصہ میں حضرت کی جنگی حکمت عملی اور منصوبوں کا تذکرہ کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: حتي ظهر امرك ، و علت كلمتك ، و لو كره المشركون
یہاں تک کہ تیرا دین غالب اورتیرا کلمہ بلند ہو کر رہا۔ اگرچہ مشرک اسے ناپسند کرتے رہے ۔
غرض! ہم مذکورہ بیان کی روشنی میں یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ خدوندعالم وہ ذات گرامی ہے کہ جو اپنے رسول کو تنہا نہیں چھوڑتی جیسا کہ اس نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی توبہ 33
نتیجہ:
امام زین العابدین(ع) کی نظر میں پیغمبر اکرم(ص) کا مقام و مرتبہ نہایت ہی بلند و اعلی ہے لہذا تمام بشریت کو چاہیئے کہ وہ ہر میدان میں حضرت کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیں،امام نے اس مھم کے لئے حضرت پر مختلف انداز میں درود و سلام ہدیہ کیا اور حضرت کو امام رحمت امین وحی،خاتم الانبیاء اور سید المرسلین جیسے القاب سے یاد کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت کی بندگی اور عبدیت کو بھی اجاگر فرمایا کہ جو در حقیقت اللہ کے لئے پیغمبر کے خشوع و خضوع اور دشمن کے مقابل سخت کوش و سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے ۔
پیغمبر اکرم (ص)کی تبلیغی اور جنگی حکمت عملی آج ان کے حقیقی پیروکاروں کے لئے نہایت اہم ہیں جو ثقافتی اور تمدنی یلغار کے مقابل جہاد کرنے میں مشغول ہیں جن کے پاس مادی وسائل کی کمی ہے لہذا انہیں حضرت کی سیرت کو نمونہ بناتے ہوئے غیبی امداد کے سہارے میدان جہاد و شہادت میں مشرف ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ احزاب:21 ۔
۲۔طوسی،محمد بن حسن،اختیار معرفۃ الرجال،ج 1 ،ص 44 ۔
۳۔ جن دعاؤں میں حضرت نے پیغمبر اکرم پر دورد و سلام بھیجا ہے وہ یہ ہیں:صحیفہ سجادیہ،امام رحمت(دعا 2) امین وحی(دعا 2) حبیب خدا(دعا48)خاتم الانبیاء(دعا17)
۴۔حکیمی،محمد رضا،امام در عینیت جامعہ،تہران،فجر،1365 ش۔
۵۔صدوق،محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ،معانی الاخبار،ص 116 ۔
۶۔حسینی مدنی،سید علی خان،ریاض السالکین،ص 94 ۔
۷۔اصفہانی،راغب،مفرادات القرآن،مادہ "ر ،س،ل"۔
۸۔مجلسی،محمد باقر،بحار الانوار،ج 16،ص 119 ۔
۹۔مجلسی،محمد باقر،بحار الانوار،ج 16،ص 226 ۔
۱۰۔سورہ الحجر: آیت94 ۔
۱۱۔نھج البلاغہ ،خطبہ 27 ۔
۱۲۔ملاحظہ فرمائیں:آیتی،محمد ابراہیم،تاریخ پیامبر اسلام،ص 395 اور 419تا 456 ۔

تحریر:سید علی سجادی زادہ(رکن مجلس علمی امام رضا یونیورسٹی مشہد)

ترجمہ: سجاد ربانی


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین