Code : 1524 22 Hit

روایات کی روشنی میں عید فطر کی فضیلت

امام حسن مجتبى علیه السّلام نے عید فطر کے دن کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ ہنسنے کھیلنے میں مصروف ہیں آپنے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوے اپنے اصحاب سے فرمایا:خداوند عالم نے ماہ مبارک رمضان کو اپنے بندوں کے لئے مسابقہ یعنی نیکیوں کی راہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑهنے کا ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ اپنے مالک کی اطاعت اور عبادت کے ذریعہ اس کی خوشنودی کے حصول کی راہ میں آگے بڑھیں پس کچھ لوگ اس میدان میں آگے بڑھے اور رضائے الہی کے حصول میں کامیاب ہوے اور کچھ لوگ پیچھے رہ گئے انھوں نے کوتاہی کی اور گھاٹے میں رہے۔پس تعجب ہے اور بہت تعجب ہے آج کے دن ہنسنے کھیلنے والوں پر جس دن نیکی کرنے والوں کو انعام ملتا ہےاورکوتاہی کرنے والوں کونقصان اٹھانا پڑتاہے۔

ولایت پورٹل:
1۔عَن رسول الله صلی الله علیه و آله و وسلم:’’فَإِذَا كَانَتْ لَیلَةُ الْفِطْرِ وَ هِی تُسَمَّى لَیلَةَ الْجَوَائِزِ أَعْطَى اللَّهُ الْعَامِلینَ أَجْرَهُمْ بِغَیرِ حِسَابٍ،فَإِذَا كَانَتْ غَدَاةُ یوْمِ الْفِطْرِ بَعَثَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ فِی كُلِّ الْبِلَادِ فَیهْبِطُونَ إِلَى الْأَرْضِ وَ یقِفُونَ عَلَى أَفْوَاهِ السِّكَكِ فَیقُولُونَ یا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اخْرُجُوا إِلَى رَبٍّ كَرِیمٍ یعْطِی الْجَزِیلَ وَ یغْفِرُ الْعَظِیمَ،فَإِذَا بَرَزُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ: مَلَائِكَتِی! مَا جَزَاءُ الْأَجِیرِ إِذَا عَمِلَ عَمَلَهُ؟ قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: إِلَهَنَا وَ سَیدَنَا! جَزَاۆُهُ أَنْ تُوَفِّی أَجْرَهُ،قَالَ: فَیقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ: فَإِنِّی أُشْهِدُكُمْ مَلَائِكَتِی أَنِّی قَدْ جَعَلْتُ ثَوَابَهُمْ عَنْ صِیامِهِمْ شَهْرَ رَمَضَانَ وَ قِیامِهِمْ فِیهِ رِضَای وَ مَغْفِرَتِی؛وَ یقُولُ: یا عِبَادِی سَلُونِی فَوَ عِزَّتِی وَ جَلَالِی لَا تَسْأَلُونِّی الْیوْمَ فِی جَمْعِكُمْ لِآخِرَتِكُمْ وَ دُنْیاكُمْ إِلَّا أَعْطَیتُكُمْ؛وَ عِزَّتِی لَأَسْتُرَنَّ عَلَیكُمْ عَوْرَاتِكُمْ مَا رَاقَبْتُمُونِی وَ عِزَّتِی لَآجَرْتُكُمْ وَ لَا أَفْضَحُكُمْ بَینَ یدَی أَصْحَابِ الْخُلُودِ؛انْصَرِفُوا مَغْفُوراً لَكُمْ قَدْ أَرْضَیتُمُونِی وَ رَضِیتُ عَنْكُمْ؛قَالَ: فَتَفْرَحُ الْمَلَائِكَةُ وَ تَسْتَبْشِرُ وَ یهَنِّئُ بَعْضُهَا بَعْضاً بِمَا یعْطِی اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ إِذَا أَفْطَرُوا‘‘۔(امالی مفید،مجلس 27 ص232)
ایک طویل روایت میں پیغمبر اکرم(ص) سے عید الفطر کی فضیلت میں نقل ہوا ہے کہ جب عید الفطر کی رات آتی ہے۔ جو انعام حاصل کرنے والی رات کے نام سے مشہور ہے۔ خداوند عالم عمل کرنے والوں کو بے حد و حساب جزا عطا فرماتا ہے۔
اور جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو خداوند عالم فرشتوں کو تمام شہروں اور بستیوں کی  طرف روانہ کرتا ہے فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور راستوں اور گلیوں کے دروازوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے محمد(ص) کی امت! اپنے پروردگار کی طرف (نماز عید کے لئے) نکلو وہ تمھییں بہترین جزا اور عظیم مغفرت عطا کرنے والا ہے۔جب لوگ نمازیں پڑھنے کی جگہوں کی طرف چلے جاتے ہیں  تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے  کہ اے میرے فرشتوں  کوئی کام کرنے والا جب اپنا کام پورا کر چکے تو اس کی اجرت کیا ہے؟ حضور(ص) فرماتے ہیں  کہ یہ سن کر فرشتے کہیں گے اے ہمارے معبود اور سید وسردار !اس کی جزا یہ ہے کہ اسکی پوری اجرت ادا کی جائے۔
اس وقت خداوند عزّ و جلّ فرمائے گا  کہ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں رمضان  کے روزوں اور راتوں کے ان کے قیام کا ثواب اپنی رضا و خوشنودی اور اپنی جانب سےمغفرت کو قرار دیتا ہوں۔
اور فرماتا ہے  اے میرے بندو! مجھ سے سوال کرو  اور جو چاہو مانگو میرے عز و جلال کی قسم آج کے دن اس اجتماع میں جو بھی تم مجھ سے مانگو گے  میں عطا کروں گا۔
اور جب تک تم مجھے اپنے اوپر نگراں اور محافظ سمجھوگے مجھے اپنی عزت و جبروت قسم ہے کہ میں تمھارے رازوں کو مخفی رکھوں گا  اور مجھے قسم ہے اپنی عزت کی میں تمھیں جزا دوں گا  اور تمھیں ہمیشہ جہنم  میں رہنے والے  لوگوں کے سامنے ذلیل نہیں ہونے دوں گا۔
واپس جاؤ اس عالم میں کہ تمہاری مغفرت کی جا چکی ہے اور میں تم سے راضی ہوں۔اس کےبعد  آپ (ص) فرماتے ہیں  فرشتے عید فطر کے دن امت کو عطا ہونے والے انعام  و اکرام  پرخوش ہوتے ہیں  اور ایک دوسرے کو بشارت اور مبارک باد دیتے ہیں۔
2۔رَوَى جَابِر عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ علیه السّلام قَالَ: قَالَ النَّبِی[صلّى اللَّه علیه و آله]:إِذَا كَانَ أَوَّلُ یوْمٍ مِنْ شَوَّالٍ نَادَى مُنَادٍ:یا أَیهَا الْمُۆْمِنُونَ اغْدُوا إِلَى جَوَائِزِكُمْ؛ ثُمَّ قَالَ: یا جَابِرُ جَوَائِزُ اللَّهِ لَیسَتْ كَجَوَائِزِ هَۆُلَاءِ الْمُلُوكِ ثُمَّ قَالَ:هُوَ یوْمُ الْجَوَائِز۔(من لا یحضره الفقیه،ج‏1 ص511  ح1478)
ترجمہ:جابر نے امام محمد باقر علیه السّلام سے روایت كی ہے كه  آپ نے  فرمایا:رسول خدا صلّى اللَّه علیه و آله کا ارشادہے:جب پہلی شوال کا دن آتا ہے  منادی ندا دیتا ہے اے صاحبان ایمان! آج کی صبح اپنا انعام حاصل کرنے کے لئے جلدی کرو۔
پھر آپ نے فرمایا:اے جابر! خداوند عالم کی طرف سے انعام و اکرام دنیا کے بادشاہوں کے انعام  کی طرح نہیں ہوتا  اس کے بعد آپ نے فرمایا  آج (عید) کا دن انعام  حاصل کرنے کا دن ہے۔
3۔نَظَرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِی(ع) إِلَى أُنَاسٍ فِی یوْمِ فِطْرٍ یلْعَبُونَ وَ یضْحَكُونَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ وَ الْتَفَتَ إِلَیهِمْ:إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَ شَهْرَ رَمَضَانَ مِضْمَاراً لِخَلْقِهِ یسْتَبِقُونَ فِیهِ بِطَاعَتِهِ إِلَى رِضْوَانِهِ فَسَبَقَ فِیهِ قَوْمٌ فَفَازُوا وَ تَخَلَّفَ آخَرُونَ فَخَابُوا،فَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ مِنَ الضَّاحِكِ اللَّاعِبِ فِی الْیوْمِ الَّذِی یثَابُ فِیهِ الْمُحْسِنُونَ وَ یخِیبُ فِیهِ الْمُقَصِّرُونَ وَ ایمُ اللَّهِ لَوْ كُشِفَ الْغِطَاءُ لَشُغِلَ مُحْسِنٌ بِإِحْسَانِهِ وَ مُسِی‏ءٌ بِإِسَاءَتِه‘‘۔(من لا یحضره الفقیه ج‏1 ص511 ح 1479)
ترجمہ: امام حسن مجتبى علیه السّلام  نے  عید فطر  کے دن کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ ہنسنے کھیلنے میں مصروف ہیں آپنے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوے اپنے اصحاب سے فرمایا:خداوند عالم نے  ماہ مبارک رمضان کو اپنے بندوں کے لئے مسابقہ یعنی نیکیوں کی راہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑهنے کا ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ اپنے مالک کی اطاعت اور عبادت کے ذریعہ اس کی خوشنودی کے حصول کی راہ میں آگے بڑھیں پس کچھ لوگ اس میدان میں آگے بڑھے اور رضائے الہی کے حصول میں کامیاب ہوے اور کچھ  لوگ پیچھے رہ گئے انھوں نے کوتاہی کی اور گھاٹے میں رہے۔
پس تعجب ہے اور بہت تعجب ہے  آج کے دن ہنسنے کھیلنے والوں پر جس دن نیکی کرنے والوں کو انعام ملتا ہےاورکوتاہی کرنے والوں کونقصان اٹھانا پڑتاہے۔
خدا کی قسم اگر پردے اٹھا دئے جائیں تو نیکی کرنے والے نیکیوں میں مصروف ہوں گے  اور برائی کرنے والے برائیوں کی انجام دہی میں مصروف ہوں گے۔


انتخاب و ترجمہ:سیدحمید الحسن زیدی


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम