Code : 3763 22 Hit

نماز جماعت میں شریک ہونے کی فضیلت و آداب

واجب نمازوں کو جماعت سے ادا کرنے کی اہمیت اور تأکید کا اندازہ ہمیں خود سیرت رسول اللہ(ص) سے ہوسکتا ہے کہ سرکار(ص) نے اپنی تمام جنگوں میں ۔ جبکہ بہت سخت اور مشکل وقت ہوتا تھا، اور ایک لمحہ کی غفلت بھی مجاہدین اسلام کو بہت بڑا نقصان پہونچا سکتی تھی، لیکن آپ ہمیشہ بڑھکتی ہوئی جنگوں میں بھی نماز جماعت کا انعقاد کرتے تھے

ولایت پورٹل: جب ہم اسلام کی تعلیمات پر نظر کرتے ہیں تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ نماز اسلام میں سب سے اہم عمل ہے جسے اللہ نے ہر بالغ و عاقل پر فرض کیا ہے۔ نماز کو دو صورت میں ادا کیا جاسکتا ہے۔ فرادی اور با جماعت۔
لیکن مستحب ہے کہ انسان اپنی پنجگانہ نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھے اور جہاں تک ممکن ہو اسے ترک نہ کرے۔ لیکن اگر میسر نہ ہو اور کوئی دشواری پیش آجائے تو فرادی بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ‘‘۔(سورہ بقرہ:۴۳) نماز قائم کرو.زکات ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
واجب نمازوں کو جماعت سے ادا کرنے کی اہمیت اور تأکید کا اندازہ ہمیں خود سیرت رسول اللہ(ص) سے ہوسکتا ہے کہ سرکار(ص) نے اپنی تمام جنگوں میں ۔ جبکہ بہت سخت اور مشکل وقت ہوتا تھا، اور ایک لمحہ کی غفلت بھی مجاہدین اسلام کو بہت بڑا نقصان پہونچا سکتی تھی، لیکن آپ ہمیشہ بڑھکتی ہوئی جنگوں میں بھی نماز جماعت کا انعقاد کرتے تھے۔اور آپ ملاحظہ فرمائیں کہ کسی نبی پر یا کسی ولی پر کربلا سے زیادہ مصیبت کی گھڑی نہیں آئی، ہر طرف جان کے پیاسے دشمن تھے اور خاندان رسول(ص) ظالموں کے نرغہ میں تھا ، تین دن کی بھوک اور پیاس بھی تھی ، لیکن امام حسین(ع) نے ظہر کی نماز تیروں کے سائے میں باجماعت ادا فرمائی۔اس طرح کہ امام حسین(ع) کے دو صحابی جناب سعید بن عبداللہ اور زہیر بن قین حفاظت کے واسطہ آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور اپنے بدن کو تیروں کی زد میں قرار دیا اور اس راہ میں سعید کام بھی آگئے ۔ غرض اس طرح کربلا میں ظہر عاشورا کی نماز ادا کی گئی۔
یوں تو نماز یومیہ کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہر مسلمان کے لئے مستحب ہے لیکن وہ افراد جو مسجد کے پڑوس میں آباد ہیں ان کے لئے خاص تأکید کی گئی ہے۔چنانچہ رسول اللہ(ص) کا ارشاد ہے:’’لا صلاۃ لمن لم یصل فی المسجد مع المسلمین الا من علۃ‘‘۔(وسائل الشیعۃ،ج۸،ص۲۹۳)۔ اس شخص کی نماز، نماز نہیں ہے جو مسجد میں جاکر دیگر مسلمانوں کے ساتھ ادا نہ کرے مگر یہ کہ اس کے لئے کوئی مجبوری پیش آجائے۔
یہ حدیث ہم نے صرف نمونہ کے لئے بیان کی ورنہ اگر حدیث کی کتابوں کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں نماز جماعت کی فضیلت و اہمیت کے سلسلہ میں بے شمار صحیح اور متواتر احادیث ملیں گی۔اور جن کے سبب اکثر فقہاء اور مجتہدین نے اپنی اپنی توضیح المسائل میں یہ مضمون نقل کیا ہے:’’ بے توجہی کے سبب نماز جماعت کو چھوڑنا جائز نہیں ہے، کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی معقول وجہ کے نماز جماعت میں شرکت کو ترک کرے‘‘۔
ایک نکتہ یہ بھی قابل غور ہے اور جس کی دین نے ہمیں بہت تأکید کی ہے کہ اگر آپ کسی مجبوری کے سبب مسجد میں جاکر نماز جماعت میں شریک نہ ہوسکیں اور آپ اپنی نماز کو اپنے گھر ،دفتر یا کسی اور جگہ فرادی بھی پڑھیں تو بھی اپنے دیگر مؤمن بھائیوں کو اپنی نماز میں نہیں بھول سکتے۔چنانچہ ہر نماز میں پڑھے جانے والے سورہ حمد میں ہم روز پڑھتے ہیں:’’ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘۔(سورہ فاتحہ:۵) پروردگار! ہم (سب) تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ اور اسی طرح نماز کے سلام میں پڑھتے ہیں:’’ السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین‘‘۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر۔
ان دونوں مقامات پر عربی گرامر کے لحاظ سے متکلم مع الغیر(جمع) کا صیغہ استمال ہوا ہے جو نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے اور ادا کرنے پر بہترین گواہ و شاہد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ایک دوسری روایت میں نقل ہوا ہے کہ ایک شخص امام جماعت کی اقتداء میں نماز پڑھے تو ان میں ہر ایک کی ایک رکعت نماز کا ثواب ۱۵۰ فرادی نمازوں کے برابر ہوتا ہے ۔ اور ایک دو افراد کسی امام کی اقتداء کرلیں تو ہر ایک کی ہر رکعت کا ثواب ۶۰۰ فرادی نمازوں کے برابر ہوجاتا ہے اور اسی طرح ثواب کی یہ مقدار بڑھتی چلی جاتی اور جب نماز جماعت میں شریک افراد کی تعداد ۱۰ افراد پر مشتمل ہوجائے تو اس کا ثواب اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ اگر تمام آسمان کاغذ،تمام درخت قلم، تمام دریا روشنائی اور جن و انس مل کر اس ثواب کو لکھنے والے ہوجائیں تو بھی ان کی ایک رکعت کا ثواب نہیں لکھ سکتے۔
‎ظاہر ہے جب نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا اتنا ثواب اور فضیلت ہے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی تمام نماز کو تمام آداب کی رعایت کرتے ہوئے جماعت کے ساتھ ادا کریں۔ چنانچہ ہم ذیل میں کچھ مختصر آداب کا تذکر کررہے ہیں:
۱۔نماز کے لئے ہمارا لباس مکمل طور سے پاک و مباح ہونے کے ساتھ ساتھ ،صاف ستھرا بھی ہو۔
۲۔خوشبو کا استعمال کرنا چاہیئے۔
۳۔مستحب ہے کہ انسان اپنی پنجگانہ نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرے اور اگر جماعت ہونے میں کچھ دیر ہے تو انسان کو صبر کرنا چاہیئے چونکہ اول وقت اور طویل فرادی نماز سے بہتر آخر وقت میں اور مختصر پڑھی جانے والی با جماعت نماز ہے۔
۴۔ اگر کوئی شخص اپنی نماز پڑھ چکا ہو لیکن اب جبکہ نماز جماعت کھڑی ہوچکی ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ دوبارہ اس نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھے۔
۵۔بہتر ہے کہ جب اگلی صف والے نمازی تکبیر سے فارغ ہوجائیں تو بعد والی صف میں کھڑے ہوئے لوگ نیت کریں اور تکبیرۃ الاحرام کہیں۔
۶۔احتیاط مستحب ہے کہ اگلی صف میں لوگوں کے کھڑے ہونے کی جگہ اور  پچھلی صف کے لوگوں کی سجدہ کرنے کی جگہ میں زیادہ فاصلہ نہ ہو۔
۷۔جب انسان اپنی فرادی نماز پڑھنے میں مشغول ہو اور اسی وقت جماعت کھڑی ہوجائے  اور اسے یہ پتہ ہو کہ وہ اپنی فرادی نماز کو تمام کرکے جماعت میں شریک نہیں ہوسکےگا تو اسے چاہیئے کہ مستحب کی نیت سے اپنی فرادی نماز کو دو رکعتی تمام کردے اور جماعت سے ملحق ہوجائے۔
قارئین ہم نے جماعت میں شریک ہونے کے کچھ آداب کا تذکرہ کیا ہے ان کے علاوہ بھی دیگر بہت سے آداب ہیں جنہیں کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
آخر میں ہم اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ویسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے جیسی وہ ہم سے چاہتا ہے۔
 


1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین