Code : 3537 15 Hit

سیاہ فاموں کو بھی جینے کا حق ہے،ان کا قتل عام بند کرؤ؛امریکی مظاہرین

امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جوان کے قتل کے خلاف مینا پولس ، مینیسوٹا اور کیلیفورنیا کے مرکز لاس اینجلس میں مظاہرے جاری ہیں جہاں کئی مقامات پر تشدد بھی ہوا ہے۔

ولایت پورٹل:یورونیوز کی رپورٹ کے مطابق سفید فام پولیس کے ایک افسر  ڈیرک شیون  کے ہاتھوں  46 سالہ سیاہ فام امریکی ، جارج فلائیڈ کے قتل کے تین دن بعد ،  نے میناسوٹا کے مزکز مینا پولس ساتھ ساتھ ، کیلیفورنیا کے لاس اینجلس میں احتجاج اور فسادات کا سلسلہ جاری ہے۔
سیاہ فاموں کے خلاف امریکی پولیس کی درندگی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے پلے کارڈ اتھا رکھے ہوئے تھے جن پر لکھا ہوا تھا کہ سیاہ فاموں کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے ، کے خلاف جارحیت بند کی جائے۔
واضح رہے کہ ریاست مینیسوٹا میں متعدد پولیس اسٹیشنوں پر بھی حملہ کیا  گیااورمظاہرین نے پولیس کی کچھ گاڑیوں پر بھی حملہ کیا۔
لاس اینجلس میں ، مظاہرین نے شہر لاس اینجلس کے وسط سے گزرنے والی ہائی وے 110 پر پولیس کی دو کاروں پر دھاوا بولا جس پر کافی چرچہ کیا گیا۔
دریں اثنا ، مینیپولیس میں ایک نوجوان سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج کے مقام کے قریب احتجاج کے دوران گذشتہ رات ایک امریکی شہری ہلاک ہوگیا۔
مبینہ طور پر اس  شخص کی لاش احتجاجی جگہ کے قریب اور فٹ پاتھ پر ملی ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ امریکی فوج کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کے دوران مارا گیا ہے۔
تاہم ابھی تک یہ نہیں معلوم ہوسکا ہے کہ یہ شخص کس کی گولی سے ہلاک ہوا ہے۔
تاہم جہاں اس کی لاش ملی ہے وہاں مظاہرے ہورہے تھے اور مظاہرے کے دوران اس کو گولی لگی ہے جس سے امریکی پولیس فورس کی کارکردگی پر شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔
 






0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین