Code : 1076 9 Hit

ولی فقیہ کے اختیارات کی نوعیت

حاکم شرع یا ولی الامر کو قرآن نے ایک عظیم الشأن منصب کے طور پر متعارف کروایا جس کی تعظیم تمام مسلمانوں پر واجب قرار دی گئی اور ولی امر مسلمین کے منصب کی یا منصب دار کی توہین کو قرآن میں خدا سے جنگ قرار دیا گیا ہے۔ اسکو فساد فی الارض اور تکفیر نظام اسلامی کے زمرے میں رکھا گیا۔امام المسلمین کی آواز کے سامنے آواز کو بلند نہ کرنا یعنی اس کی رائے کے سامنے اپنی رائے کو پیش نہ کرنا، اس کے وجود کے سامنے اپنے وجود کا اظہار نہ کرنا یہ سب آداب نظام اسلامی میں قرار دیئے گئے ہیں اور یہ سب کچھ بلا حکمت و سبب نہیں تھا بلکہ اسلامی سوشل پولیٹیکل سسٹم کے نظم و ضبط اور استحکام و تسلسل کیلئے یہ تعظیم و احترام لازمہ ہے۔

ولایت پورٹل: جنھوں نے رسول اللہ(ص) کو حاکم مانا انہوں نے درحقیقت اللہ کو حاکم مانا اور اللہ نے ان کی اس ماننے کو فقط نہیں مانا بلکہ رسول ہی کی زبان سے حاکم اسلامی و امام امت کے منصب کی بالادستی کو محکم کرنے کیلئے آداب امامت کے سلسلے میں قرآن میں قوانین نازل کئے۔ یہ سب احکامات اس وقت نازل ہوئے جب رسول اللہ(ص) خود حاکم اسلامی و امام المسلمین تھے یعنی احکامات بتانے والے اور جس کے متعلق بتائے جارہے ہیں دونوں ایک ہی شخصیت تھے۔ حاکم شرع یا ولی الامر کو قرآن نے ایک عظیم الشأن منصب کے طور پر متعارف کروایا جس کی تعظیم تمام مسلمانوں پر واجب قرار دی گئی اور ولی امر مسلمین کے منصب کی یا منصب دار کی توہین کو قرآن میں خدا سے جنگ قرار دیا گیا ہے۔ اسکو فساد فی الارض اور تکفیر نظام اسلامی کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔(سورہ مائدہ:33، سورہ توبہ: آیت 107)۔امام المسلمین کی آواز کے سامنے آواز کو بلند نہ کرنا یعنی اس کی رائے کے سامنے اپنی رائے کو پیش نہ کرنا، اس کے وجود کے سامنے اپنے وجود کا اظہار نہ کرنا یہ سب آداب نظام اسلامی میں قرار دیئے گئے ہیں اور یہ سب کچھ بلا حکمت و سبب نہیں تھا بلکہ اسلامی سوشل پولیٹیکل سسٹم کے نظم و ضبط اور استحکام و تسلسل کیلئے یہ تعظیم و احترام لازمہ ہے جیسے آپ ملک پاکستان میں عدلیہ کے نظام کو قائم رکھنے کیلئے چیف جسٹس و جسٹس کی توہین نظام عدلیہ کی توہین شمار ہوتی ہے۔
امام خمینی(رح) نے جب ولایت کے نظام کو قرآن سے بیان کیا تو ایک اصول واضح کیا کہ منصب دار حاکم شرع کوئی بھی ہو معصوم یا غیر معصوم، نظام کا تقاضہ ہے کہ اس کی ولایت میں کوئی فرق نہیں۔ روحانی درجات میں نبی، معصوم امام اور فقیہ میں فرق ہے مگر ان کے بطور حاکم اختیارات میں فرق نہیں اور یہ سسٹم کا تقاضہ ہے۔ اس بنیاد پر ہم نتیجہ لے سکتے ہیں کہ چونکہ ولایت حاکمیت میں معصوم و غیر معصوم میں فرق نہیں اس لئے وہ پروٹوکولز، انتظامی ادب و آداب، پولٹیکل ایتھکس جو ایک معصوم حاکم شرع کیلئے اسلام نے مقرر کئے ہیں وہ ولی فقیہ کیلئے بھی اسی طرح لاگو ہیں جس میں احترام مقام معظم رہبری اول درجہ کا لازم و واجب ہے اور اسکا انکار یا خلاف ورزی اسلامی قوانین شکنی کے زمرے میں آئے گی اور اس پر شرعی تعزیرات و حدود جاری کرنا پوری مسلم امہ پر بطور امت واجب کفایہ ہے جبکہ اس کے معاملے میں سستی برتنا اللہ و قرآن کا مذاق اڑانا یا اس کے دین کا انکار ہے۔ اس لئے یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ جس کا دل چاہا منہ اٹھایا اور جو چاہا امام امت (موجودہ ولی فقیہ آیت اللہ خامنہ ای) کے بارے میں اُگل دیا بلکہ قطع لسان کلب کی علوی سنت قائم رکھنی ہوگی۔
اسی تناظر میں قرآنی آئیڈیالوجی میں ولی فقیہ جو فقط ایک فقیہ نہیں بلکہ اللہ کا نمائندہ ہے اس کے فیصلوں پر زبان درازی، اسکی ذاتی توہین، اسکے خلاف آواز بلند کرنا گویا اللہ کے خلاف، قرآن کے خلاف و رسول اللہ(ص) کے خلاف جنگ کرنا ہے اور ایسے فسادی کو قرآنی اصولوں کے مطابق سزا نہ دینا اس تمام کثیر مسلم امہ کے دین کو اور دینی بنیاد کو خطرے میں ڈالنا ہے جو ولایت کی آئیڈیالوجی پر ایمان لائی ہے اور اس پر بیعت کی ہے۔ مسلمین کے دین کے تحفظ کیلئے توہین باز اور حرمت شکن پر سزا کا وجوب قرآن کی روشنی میں ثابت ہے۔ نسرین ستودہ ایک حرمت شکن عورت ہے جس نے امام المسلمین کی توہین کر کے خدا و رسول سے جنگ مول لی ہے اور اس پر سزا کو غیر ضروری قرار دینا یا اس پر واویلا مچانا قرآن کو ترک کرنا اور خدا کی حاکمیت کا انکار کرنا ہے۔ جو واویلا مچا رہے ہیں وہ اللہ یا نسرین میں سے ایک کو چن لیں۔ علی(ع) نے اللہ کو چنا تھا اور کتے کی زبان کاٹ ڈالی تھی۔


تحریر؛ مجتبیٰ ہمدانی



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम