Code : 3870 11 Hit

امریکہ نے جنرل سلیمانی کو قتل کرکے اصول خودمختاری کی دھجیاں اڑادیں:اقوام متحدہ کےخصوصی نمائندہ

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ نے لبنانی چینل کو بتایا کہ امریکہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اس نے جنرل قاسم سلیمانی کو اپنے دفاع میں قتل کیا ہےلہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے خودمختاری کے اصول کو مسخ کردیا ہے۔

ولایت پورٹل:اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے خصوصی نمائندہ ایگنس کلمارد  نے لبنان کے نیوز چینل المیادین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جنرل قاسم سلیمانی کے غیرقانونی اور صوابدیدی قتل کے بارے میں اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی قدس فورس کے کمانڈر سردار قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد متعدد سفارتی اقدام اٹھائے گئے ہیں،انھوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک میں کسی ملک کے اعلی عہدے دار کو اس طرح نشانہ بنانا ممکن نہیں ہے۔
کاملارڈ نے مزید کہاکہ امریکہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا  ہے کہ  اس نے جنرل قاسم سلیمانی کو اپنی دفاعی بنیادوں کی بنا پر قتل کیا ہے لہذا اس نے ایسا کرکے خودمختاری کے اصول کو مسخ کردیا ہے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام متعدد اصولوں کی خلاف ورزی ہے،واضح رہے کہ کاملارڈ نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل سے متعلق اپنی رپورٹ گذشتہ جمعرات کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کی تھی۔
اس سلسلے میں ، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے قانونی اور بین الاقوامی امور کے مشیر محسن بہاروند نے حاج قاسم فاؤنڈیشن کے انفارمیشن بیس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی  اگلی صبح  امریکیوں نے ایک پیغام بھیجا کہ آپ انتقامی کاروائی نہ کیجئے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل سلیمانی کو شہید کرکے امریکہ شدید خوف وہراس میں مبتلا ہوگیا،صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے متعدد ممالک کے ذریعہ ثالثی کی کوشش بھی کروائی ۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین