مختلف ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کا امریکی ہتھیار

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ جمہوریت کے قیام کے بہانے ملکوں کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی لاٹھی استعمال کر رہا ہے۔

ولایت پورٹل:چین کے سی سی ٹی وی  چینل نے امریکی جمہوریت کی خامیوں پر رپورٹ نشر کی ہے جس میں کہا گیا ہےکہ امریکہ نے ہمیشہ جمہوریت کے بہانے اپنے مخالفین کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی لاٹھی استعمال کی ہے جس سے معاشی کساد بازاری اور سماجی انتشار کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق  امریکہ کے پاس اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مختلف قسم کے سیاسی اوزار ہیں، جیسے کہ فوجی کارروائی، سفارتی طور پر قائل کرنا، ٹیکنالوجی کی پابندیاں، اقتصادی امداد وغیرہ،تاہم اگر آپ عصری تاریخ پر نظر ڈالیں گے تو آپ آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ واشنگٹن نے اپنے فائدے کے لیے ایک خاص ٹول استعمال کیا ہے، یعنی اقتصادی پابندیاں۔
 امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر ان فعال پابندیوں کے پروگراموں کی فہرست دی گئی ہے جو امریکہ اس وقت دنیا بھر کے مخصوص خطوں، ممالک، تنظیموں اور گروپوں پر عائد کر رہا ہے، 36 پابندیوں کی یہ طویل فہرست قطب جنوب کے علاوہ تمام براعظموں پر مسلط ہے۔
واضح رہے کہ  صرف اوبامہ انتظامیہ نے اپنی پہلی مدت میں سالانہ اوسطاً 500 اداروں پر پابندیاں عائد کیں جبکہ ٹرمپ کے دور صدارت میں یہ تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی اور پھر جب بائیڈن اقتدار میں آئےجو ٹرمپ کے سخت ناقد تھے،انھوں نے بھی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی، بلکہ ٹرمپ کے تقریباً تمام پابندیوں کے منصوبے وراثت میں لیے۔

قابل ذکر ہے کہ  ان میں سے بہت سی پابندیاں جمہوریت کے نام پر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واشنگٹن کے دعووں کے ساتھ لگائی گئی ہیں،تاہم کون ان الزامات کا فیصلہ کرے اور ان کی تصدیق کرے؟ یہ کون جائزہ لے کہ آیا یہ پابندیاں جمہوریت کے لیے اچھی مددگار ہیں؟

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین