Code : 2918 43 Hit

امریکہ نے عراقی افواج کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کردی

امریکی فضائیہ کے ترجمان نے عراقی فوج کے ایف 16 جنگی بیڑے کے لئے ضروری حصوں سمیت ہتھیاروں کی کھیپ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی فضائیہ کے ترجمان برائن بریکنز   نے آج صبح بتایا کہ واشنگٹن نے عراقی سیکیورٹی فورسز کو اسلحہ اور گولہ بارود بھیجنا بند کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بروکینز نے انسا ئٹ ڈیفنس کو بھیجے جانے والے ایک  ای میل میں  لکھا ہے کہ عراق میں اسلحہ اور گولہ بارود کی معطلی کی وجہ قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراق کی الحدید الشعبی تنظیم کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے قتل کے بعد  ملک میں بڑھتی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عراق کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنے میں ایف 16 جنگی بیڑے کو درکار اسپیئر پارٹس اور میزائل بھی شامل ہوں گے۔
امریکی فضائیہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ عراق میں حالات معمول  پر آنے کے بعد اسلحے کی ترسیل دوبارہ شروع کی جائے گی۔
انسائڈ دیفنس میں امریکی فضائیہ کی نامہ نگار سارا سیروٹا اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عراق میں امریکی ہتھیاروں کی آخری کھیپ 14 نومبر 2010 کو بھیجی گئی تھی  جس کی قیمت $ .92 بلین ڈالر تھی  جس کے متعلق مئی2016 میں معاہدہ کیا گیا تھا۔
یادرہے کہ نیوز ذرائع نے بتایا  کہ اتوار کی شام کو بغداد کے گرین زون میں امریکی سفارت خانے پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملہ میں  امریکی سفارت خانے میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا ہے ، لیکن کچھ ذرائع کے مطابق ایک سے زیادہ افراد کےزخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम