امریکہ کا آل سعود کے چہرے پر روزدار طمانچہ

یمن کے خلاف جنگ میں فوجی مدد ختم کرنے کے امریکی فیصلے کے بعد امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے 768 ملین ڈالر مالیت کے فوجی گولہ بارود کے دو سودے معطل کردیئے ہیں۔

ولایت پورٹل:امریکی ڈیفنس نیوز ویب سائٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے یمن میں تشدد کے خاتمے کی اپنی پالیسی کے مطابق غیرمعینہ مدت کے لئے ریاض کے ساتھ 768 ملین ڈالر مالیت کے فوجی ساز وسامان کے دو معاہدے منسوخ کر دیے ہیں ، رپورٹ کے مطابق ، معطلی کا تعلق دو معاہدوں سے ہے،یادرہے کہ دسمبر 2020 میں امریکہ محکمہ خارجہ کے ذریعہ منظور شدہ پہلے معاہدے میں 3000 بوئنگ GBU-39 چھوٹے گائڈڈ بموں کی فروخت شامل تھی جس کی مجموعی قیمت 290 ملین ڈالر ہے۔
ڈیفنس نیوز کی خبر کے مطابق دوسرے معاہدے میں ،000 478 ملین میں 7000 $ 478 ملین ریتھین پیوی وے Paveway IV سے متعلق ہوائی بموں کی فروخت بھی شامل تھی ،تاہم میڈیا نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ امریکی اسلحہ کے دوسرے معاہدے معطل یا منسوخ ہو سکتے ہیں جبکہ اس سے قبل  امریکی صدر جو بائیڈن نےاپنے ملک کے محکمہ خارجہ میں ایک تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی فوجی کارروائیوں کے لئے امریکہ اپنی حمایت ختم کرے گا،بائیڈن نے کہا کہ واشنگٹن اس عرب ملک میں پرامن طور پر تنازعات کے حل کے لئے اپنی کوششیں تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی سربراہی میں کچھ دیگر عرب ریاستوں کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف جارحیت شروع کر رکھی ہے اور چاروں طرف سے اس کا محاصرہ کیا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں  لاکھوں افراد کے شہید اور زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ اس ملک کا بنیادی ڈھانچہ اسی فیصد تباہ ہوچکا ہے اور بھوک مری کا شکار ہورہے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین