سعودی عرب پر یمنیوں کے حملوں پر امریکہ کا رد عمل

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یمن کی فوج اورعوامی کمیٹیوں کے سعودی سرزمین پر حملوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن ریاض کو اپنے علاقے کا دفاع کرنے میں مدد کے لئے پرعزم ہے۔

ولایت پورٹل:الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے یمن کے شہریوں پر سعودی اتحاد کے روزانہ حملوں کا ذکر کیے بغیر  سعودی سرزمین پر یمنی فوج اور عوامی کمیٹیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ یمنی حملوں سے نہ صرف عام شہریوں کو خطرہ ہے بلکہ یمن میں امن عمل کو بھی رکاوٹ ہے،رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم حوثیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سعودی عرب پر اپنے حملے بند کریں اور اقوام متحدہ اور امریکی سفیروں کے ساتھ مل کر امن کے لئے کام کریں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ ایران کے اتحادی گروہوں کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کو اپنے علاقوں کا دفاع کرنے میں مدد کے لئے پرعزم ہے،یادرہے کہ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ ہفتے کی رات سعودی عرب کے اندر ایک بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملہ شروع کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ پانچویں رسپانس بیلنس" (پانچویں رسپانس بیلنس) کے نام سے کیے جانے والے اس آپریشن کو ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ مشترکہ طور پر انجام دیا گیا۔
یحیی سریع نے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے مزید کہاکہ  دشمن کے دارالحکومت ریاض میں حساس  اور اہم مقامات کو ذوالفقار ،9ڈرون اور  صمد 3  کے بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا جبکہ چھ قاسف کے 2 ڈرونز نے ابہا اور خمیس مشایط علاقوں میں فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایاجو خدا کے فضل و کرم سے ٹھیک نشانے پر لگے اور سعودی عرب کو بھاری نقصان ہوا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین