روس میں امریکی سفارت خانے کے عملے پر چوری کا الزام

روس میں امریکی سفارت خانے کے عملے پر ایک روسی شہری کی چوری اور ڈکیتی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ولایت پورٹل:روس کی ٹاس نیوز ایجنسی نے روسی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ ماسکو میں امریکی سفارت خانے کے تین ملازمین پر روسی شہری کا ذاتی سامان چوری کرنے کا شبہ ہے، رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے امریکہ کو ایک سرکاری خط ارسال کیا  ہےجس میں ان تینوں افرادکے خلاف سفارتی استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ ان کے خلاف کیس چلایا جائے جائیں اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
واضح رہے کہ  روسی وزارت خارجہ نے مزید وضاحت کیے بغیر کہا کہ اگر امریکی سفارتخانہ انکار کرے  تومشتبہ افراد کو فوری طور پر روس چھوڑنا ہوگا،یادرہے کہ  اس سے قبل واشنگٹن اور ماسکو میں سفارتی کشیدگی کے تناظر میں متعدد امریکی سینیٹرز نے کچھ روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یادرہے کہ امریکی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن سینیٹرز نے منگل کے روزاس ملک کے صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ اگر روس اپنے ملک میں موجود امریکی سفارتی مراکز میں کام کرنے والے امریکیوں کو مزید ویزے جاری  نہیں کرتا ہے تو 300 روسی سفارت کاروں کو امریکہ سے نکال دیں ۔
واضح رہے کہ  روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ جو لوگ ایسے اقدامات تجویز کرتے ہیں وہ بظاہر روس میں امریکی غیر ملکی اداروں کی بندش پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں،انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ اس کے لیے ذمہ دار ہیں، روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ چونکہ روس کے پاس واشنگٹن میں اتنی بڑی تعداد میں سفارتکار نہیں ہیں اس لیے امریکی سینیٹ کی تجویز میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں روسی سفارتی مشن کے عملے کو شامل کرنے کا امکان ہے۔
یادرہے کہ  حالیہ مہینوں میں  مغربی ممالک بشمول امریکہ ، پولینڈ ، جمہوریہ چیک ، ایسٹونیا ، لیتھوانیا اور لٹویا نے واشنگٹن کو کئی روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے پر اکسایا ہے  جس کا ماسکو کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آیا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین